ڈراپ آؤٹ بچوں کے داخلے کیلئے خصوصی مہم،18ہزار اساتذہ کے تقرر کا فیصلہ، اردو کو ترجیح: تنویر سیٹھ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 18th May 2017, 10:28 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،17؍مئی(ایس او نیوز)وزیر برائے بنیادی وثانوی تعلیمات، اوقاف واقلیتی بہبود تنویر سیٹھ نے آج بتایاکہ چھ تا چودہ سال کے تمام بچوں کو لازمی اور مفت تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے حق تعلیم قانون نافذکیاگیا ہے۔ جس کے تحت رواں تعلیمی سال کے دوران ڈراپ آؤٹ بچوں کے داخلوں کیلئے ریاست گیر سطح پر خصوصی مہم چلانے کا فیصلہ لیاگیا ہے۔ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ پانچ سال دس ماہ مکمل کرنے والے تمام بچوں کو قریبی اسکول میں پہلی جماعت میں داخل کرانے کے علاوہ ڈراپ آؤٹ بچوں کے داخلے کیلئے گرام پنچایت سطح سے میونسپل کارپوریشن تک مہم چلائی جائے گی۔ اسی طرح داخلے لینے والے بچوں کی حاضری پر خصوصی نظر رکھنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے محکمۂ تعلیمات کے تمام افسران کوبذریعہ ویڈیو کانفرنس احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ محکمۂ کی جانب سے مفت نصابی کتابیں ، یونیفارم ، دوپہر کاکھانا ، دودھ ، شو اور موزے کے علاوہ سائیکلوں کی تقسیم اور اسکالر شپ وغیرہ سے متعلق تفصیلات پر مشتمل پوسٹر ، ہینڈ بلس وغیرہ تقسیم کئے جائیں گے۔ یہ مہم 31، مئی تک چلے گی، جس میں اساتذہ کے علاوہ ایس ڈی ایم سی اراکین ، این جی اوز اور دیگر کے علاوہ طلبا حصہ لیں گے اور جتھہ نکالیں گے۔ اسی طرح مہاجرین اور مزدور طبقے کے والدین سے ملاقات کرتے ہوئے بچوں کو اسکول میں داخل کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ علاوہ ازیں یکم تا 30جون جنرل داخلوں کیلئے مہم چلائی جائے گی اور حکومت کی جانب سے فراہم ہونے والے نصابی کتب ، یونیفارم ، اسکول بیاگ ، شو وغیرہ تقسیم کئے جائیں گے۔اس مہم کو صرف ایک ماہ تک محدود نہ رکھتے ہوئے سال بھر چلانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے بتایاکہ امسال نصابی کتابوں کی نظر ثانی کی گئی ہے اور بروقت ان کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ اسکول سے اگر کوئی طالب علم مسلسل غیر حاضر رہے تو اسے واپس لانے کیلئے اساتذہ ،ایس ڈی ایم سی اراکین ، والدین کے علاوہ منتخب نمائندوں پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔ تنویر سیٹھ نے بتایا کہ آدرش اسکولوں میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے کیلئے اقدامات کے نتیجہ میں اس مرتبہ یہاں پر 93.7 فیصد طلبا دسویں جماعت میں کامیاب ہوئے ہیں جس کے پیش نظر ہوبلی سطح پر ماڈل اسکول بناتے ہوئے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کی کوشش کی جائے گی اور کیندریہ ودیالیہ کے طرز پر آدرش اسکولوں کو چلانے کیلئے کیندریہ ودیالیہ سے معاہدہ کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق خستہ حال عمارتوں کو منہدم کرنے کے اقدامات جاری کئے گئے ہیں، تاکہ طلبا کو کوئی نقصان نہ ہوپائے۔انہوں نے واضح کیاکہ کسی بھی حال میں سرکاری اسکول بند نہیں کئے جائیں گے اور نہ ہی اس کی نج کاری عمل میں آئے گی۔ انہوں نے بتایاکہ آرٹی ای کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اگر مالدار طبقے کے ذریعہ آر ٹی ای میں داخلے لئے گئے ہوں تو ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔وزیر موصوف نے بتایاکہ وزیراعلیٰ سدرامیا کی قیادت میں صبح منعقدہ کابینہ اجلاس میں 18؍ ہزار اساتذہ کے تقرر کا فیصلہ لیاگیا ہے، جس کے تحت رواں سال دس ہزار اساتذہ کا تقرر عمل میں آئے گا۔اگلے دو برسوں تک سالانہ چار ہزار اساتذہ کے تقررات عمل میں آئیں گے، انہوں نے واضح کیا کہ اساتذہ کے تقررات کے موقع پر اردو کی مخلوعہ اسامیوں کو بھی پر کیاجائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

بیماریوں کی روک تھام کے لئے گلبرگہ یونیورسٹی میں سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس

رجسٹرار گلبرگہ یونیورسٹی پروفیسر دیانند اکسر اور پروفیسر کے لنگ اپا آرگنائیزنگ سیکریٹری بین الاقوامی کانفرینس Advances in disease managemrnt کے بیان کے بموجب بیماریوں کی روک تھام سے متعلق گلبرگہ نیورسٹی کیمپس میں یہ کانفرینس 21نومبر سے شروع ہورہی ہے

دیہی ترقیات اور پنچایت راج محکموں کے لیے ڈاٹا اینٹری آپریٹرس کے تقررات،کے لیے جاری کردہ نوٹیفیکیشن منسوخ کرنے سابق وزیر ویجناتھ پاٹل کامطالبہ 

دیہی ترقیات اور پپنچایت راج محکموں میں ریاست کرناٹک کے ہر ایک گرام پنچایت میں ایک ڈاٹا انینٹری آپریٹر کی جائیدادیں قائم کرکے اس پر تقررات کئے جارہے ہیں لیکن اس معاملہ میں علاقہ حید رآباد کرناٹک علاقہ کے امیدواروں کو تحفظات دینے کے ضمن میں کوئی واضح ہدایت نہیں دی گئی ہے ۔

مستقبل قریب میں حلقہ اسمبلی گلبرگی کے انتخابات،مسلمانان گلبرگہ کی دانش مندی کا امتحان

ممتازسماجی خدمت گزار اور سیاسی بزرگ شخصیت ڈاکٹر ایم ایچ بگدلی نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ شہر کرناٹک گلبرگہ محترم جناب الحاج قمرالاسلام صاحب کے سانحہ ارتحال کے بعد شہر یانِ گلبرگہ کے ہر کس وناکس کی زبان پر یہی تذکرہ ہے کہ قمرالاسلام کا سیاسی قاؤئم مقام کون ہوگا؟

ہبلی :مرکزی وزیر اننت کمارہیگڈے معافی مانگے اورعہدے سے استعفیٰ دیں : یوتھ کانگریس کا احتجاج

عوامی اجلاس میں ریاستی وزیر اعلیٰ سدرامیا کے خلاف توہین آمیز بیان دئیے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کی مذمت میں ہبلی دھارواڑ یوتھ کانگریس کی جانب سے تحصیلدار دفتر کےسامنے احتجاج کیا گیا ۔