بھٹکل میں برسات کی آمد آمد ہے۔ کچرے سے بھرے نالے ،سیلاب کا خطرہ سرپر ۔پوچھنے والا کوئی نہیں

Source: S.O. News Service | By Vasanth Devadig | Published on 27th May 2018, 3:04 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 27؍مئی (ایس او نیوز)ابھی ایک ہفتے کے اندر مانسون کا موسم ریاست میں شروع ہونے والا ہے۔ بھٹکل سمیت ساحلی علاقوں میں مانسون سے پہلے والی برسات بھی ہونے لگی ہے۔ گرمی کی شدت سے تنگ آئے ہوئے لوگ برسات کی رم جھم کے انتظار میں ہیں کہ اس سے بڑی راحت ملنے والی ہے۔اسی کے ساتھ بھٹکل کے مضافاتی اور دیہی علاقوں میں ندیوں میں سیلاب آنے کاخدشہ ایک طرف ہے تو شہری علاقوں میں برساتی نالوں کے ابلنے اور سڑکوں پر سیلابی کیفیت پیدا ہونے کا خطرہ پوری طرح ابھر کر سامنے آرہا ہے۔

بھٹکل شہر میں برساتی پانی کی نکاسی کے لئے بنائے گئے نالے ہی اب ایک بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔ سیکڑوں کروڑ روپے کا بجٹ رکھنے والے بلدی اداروں کی طرف سے ان نالوں کی صفائی اور ان کو درست کرنے کی طرف پوری طرح دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔بھٹکل بلدیہ کی طرف سے بڑے بڑے منصوبوں کی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی طرف کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لئے ہمیں برساتی نالوں اور گٹر کی صورتحال دیکھنا ہوگا۔ اکثر مقامات پر ان نالوں میں مٹی ، پتھر اور کچرا بھرا پڑا ہے۔بعض جگہوں پر یہ نالے گندے پانی سے بھرے ہوئے ہیں۔ابھی تھوڑی سی برسات ہوئی تو دیکھا گیا کہ اکثر نالے پانی سے بھر کر ابلنے لگے۔ایسا لگتا ہے کہ اب کے بارش ہونے لگی تو پھر لوگوں کو نالوں سے سڑک پر بہتے ہوئے پانی کی وجہ سے چلنے کے لئے راستہ تلاش کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

بھٹکل کے نالوں کی حالت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر سال کی طرح امسال بھی سڑکوں پر سیلاب کی صورتحال پید اہوگی اور لوگوں کو ایک طرف اپنی موٹر گاڑیاں ندیوں اور تالابوں جیسے پانی میں دوڑانے کی ضرورت پیش آئے گی تو دوسری طرف پیدل چلنے والوں کو ایک ہاتھ میں چھتری اور دوسرے ہاتھ میں دکانوں سے خریدے گئے سامان کی تھیلیاں سنبھالے پانی سے بچتے بچاتے گزرنے کی مشکل برداشت کرنی پڑے گی۔پھر طلبہ کو اپنے کپڑے اور بستے سنبھال کر برستی بارش اور سیلابی راستوں سے گزرتے ہوئے دیکھنا پڑے گا۔

قلب شہر بھٹکل پر ہی نظر دوڑائی جائے تو شمس الدین سرکل کے قریب ساگر روڈ پر برساتی نالوں کی کیا حالت ہے، اُس کا اندازہ تصاویر سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے سرکل پر ہرسال بارش ہوتے ہی  بارش کا پانی بھاری مقدار میں جمع ہوجاتا ہے، مگر اتنا سب کچھ معلوم ہونے کے بائوجود مانسون شروع ہونے سے پہلے ان نالوں کی صفائی نہیں کی جاتی۔ 

اس تعلق سے جب بھٹکل بلدیہ کے چیف آفیسر وینکٹیش ناؤڈا سے سوال کیا گیا توا انہوں نے بتایا  کہ بلدیہ کے حدود میں ضروری مقامات پرنالوں کو درست کیا گیا ہے۔ مزید کچھ کام باقی ہے جس کے لئے ٹینڈر حاصل کیے جاچکے ہیں۔ اب وہاں پر بھی جلد ہی  کام شروع ہونے والاہے۔

یہاں پر برساتی نالوں اور گٹرکی ابتر حالت کا مسئلہ بہت پرانا ہونے کے باوجود کوئی بھی ا س کو صحیح ڈھنگ سے حل کرنے کی کوشش کرتا نظر نہیں آرہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انتخابی بخار سے ابھی تک پوری طرح صحت یاب نہ ہونے والے عوامی نمائندوں کو نالوں کی بری حالت نظر ہی نہیں آرہی ہے۔اور عوام کے مقدر میں پھر ایک بار برسات کا موسم اور ا س کے ساتھ پھر ایک بار سیلاب کی دشواریاں رکھی ہوئی ہیں۔

بھٹکل کے مضافاتی علاقوں میں حالت کچھ اس سے مختلف نہیں ہے۔کچھ گرام پنچایت میں افسروں کو شاید معلوم ہی نہیں ہے کہ برسات کا موسم سر پر آگیا ہے۔یہاں پر بھی نالوں کو برساتی پانی کی نکاسی کے لئے صاف نہیں کیا گیا ہے۔کچرے اور گندے پانی سے بھرے ہوئے یہ نالے عوام اور افسران کا منھ چڑاتے نظر آتے ہیں۔نالوں کے اندر اورآس پاس جھاڑ جھنکار اور پودے اُگ آئے ہیں۔ جانوروں نے اپنا ٹھکانہ بنالیا ہے۔سڑکوں پر گڈھے الگ سے مسائل پیدا کررہے ہیں۔کام کرنے والے سستی اورکاہلی کا شکار ہیں تو کام کروانے والے نہ جانے کونسی جنتوں میں رہتے ہیں کہ انہیں یہاں زمین کی حقیقت کا پتہ نہیں چلتا۔

عوام کا حال یہ ہے کہ انہیں اس بات کی خبر ہی نہیں کہ کس سے شکایت کریں اور اگر شکایت کریں گے بھی تو ا س کا نتیجہ صفر ہی ہے ۔ تو پھر یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کرکیوں نہ برسات اور سیلاب کا انتظار کیا جائے!

ایک نظر اس پر بھی

یلاپور میں بائیک پھسل گئی، دو شدید زخمی

یلاپور 17 جون (ایس او نیوز) ضلع اتر کنڑا کے یلاپور نیشنل ہائی وے 63 پر ایک بائیک تیز رفتاری کے ساتھ پھسلنے کے نتیجے میں بائیک پر سوار دو لوگ بری طرح زخمی ہو گئے۔ جن کی شناخت ہبلی گنیش پیٹ کے رہنے والے محمد شاہد موراک (21) اور محمد نعیم (23) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

بھٹکل: مرڈیشور سمندر میں ڈوبنے والے ایک سیاح کو لائف گارڈ نے دی نئی زندگی

تعلقہ کے سیاحتی مقام مرڈیشور میں آج بنگلور کے ایک سیاح کو لائف گارڈ نے   ڈوبنے سے بچالیا اور ایک نئی زندگی عطا کی جس کی شناخت  یوراج (36) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ وہ بنگلور کے سری رام پورا کا رہنے والا ہے۔

دبئی ۔مینگلور ایئر انڈیا فلائٹ کوچی ایئر پورٹ کی طرف موڑ دیا گیا۔ عید کے لئے مینگلور پہنچنے والے مسافروں نے کیا رن وے پر احتجاج

دبئی سے آنے والی ایئر انڈیاایکسپریس فلائٹ AIE 814کومنگلورو ایئر پورٹ کے بجائے کوچی ایئر پورٹ پر لینڈ کرانے سے ناراض مسافروں نے کوچی ایئر پورٹ کے رن وے پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ایئر انڈیا کے کوتاہی اور غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

بیندوراوتینانی میں پہاڑی کا کھسکنا شاہراہ کی تعمیراتی کمپنی کے لئے دردِسر۔ حل تلاش کرنے کمپنی پہنچی راگھویندرا مٹھ میں!

نیشنل ہائی وے توسیعی منصوبے کے تحت بیندور کے وتّی نینی علاقے میں پہاڑکو کاٹ کر راستہ بنانے کا کام رکاوٹوں کا شکار ہوتاجارہا ہے کیونکہ یہاں بار بار پہاڑی چٹانیں کھسکنے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ حالانکہ ٹھیکیدار کمپنی اس سے پہلے پنچاب، کشمیر اور ممبئی وغیرہ میں بہت ہی کٹھن حالات ...

اُڈپی میں بجرنگ دل کارکنوں کے حملہ میں ہلاک ہونے والے حسین ابّا کی موت کا سبب سر پر لگنے والی چوٹ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف

ہیری اڈکا پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیراڈور کے مقام پر مویشیوں کے تاجر حسین ابّا اور اس کے ساتھیوں کی گاڑی روک کر پولیس اور بجرنگ دل کارکنان کی ملی بھگت سے 30مئی کو صبح کی اولین ساعتوں میں جو حملہ ہوا تھا اوراس کے بعد ایک پہاڑی علاقے سے حسین ابا کی لاش برآمد ہوئی تھی اس معاملے کی ...

بھٹکل میں پورے جوش و خروش کے ساتھ عید الفطر منائی گئی؛ مولانا عبدالعلیم ندوی اور مولانا خواجہ مدنی کا نوجوانوں سے پرزور خطاب

ساحلی کرناٹک کے شہربھٹکل سمیت کمٹہ،  بیندور، کنداپور،  کنڈلور، گنگولی، اُڈپی،  مینگلور اور پڑوسی ساحلی ریاست کیرالہ میں آج جمعہ کو پورے جوش و خروش کے ساتھ عید الفطر  منائی گئی۔ 

عید الفطر کے پیش نظر بھٹکل رمضان بازار میں عوام کا ہجوم؛ پاس پڑوس کے علاقوں کے لوگوں کی بھی خاصی بڑی تعداد خریداری میں مصروف

عیدالفطر کے لئے بمشکل تین دن باقی رہ گئے ہیں اور بھٹکل رمضان بازار میں لوگوں  کی ریل پیل اتنی بڑھ گئی ہے کہ پیر رکھنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔ عید کی تیاری میں مشغول مسلمان ایک طرف کپڑے، جوتے اور  دیگر اشیاء  کی خریداری میں مصروف ہیں تو وہیں رمضان بازار میں گھریلو ضروریات کی ہر چیز ...

اگر حزب اختلاف متحد رہا تو 2019میں مودی کاجانا طے ........از: عابد انور

اگر متحد ہیں تو کسی بھی ناقابل تسخیر کو مسخر کرسکتے ہیں،کامیابی حاصل کرسکتے ہیں،مضبوط آہنی دیوار کو منہدم کرسکتے ہیں، جھوٹ اور ملمع سازی کوبے نقاب کرسکتے ہیں اور یہ اترپردیش کے کیرانہ لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں ثابت ہوگیا ہے۔ متحد ہوکر میدان میں اترے تو بی جے پی کو شکست ...

آئندہ لوک سبھا انتخابات: جے ڈی یو اور شیوسینا کے لیے چیلنج؛ دونوں کے سامنے اہم سوال، بی جے پی کا سامنا کریں یا خودسپردگی؟

شیوسیناسربراہ ادھو ٹھاکرے اور جے ڈی یو چیف نتیش کمار دونوں اس وقت این ڈی اے سے غیر مطمئن نظر آرہے ہیں۔ جس طرح سے اس باربی جے پی کا اثر ورسوخ بڑھا ہے، اس سے دونوں جماعتیں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔

اسمبلی انتخاب کے بعدبھٹکل حلقے میں کانگریس اور بی جے پی کے اندر بدلتا ہوا سیاسی ماحول؛ کیا برسات کا موسم ختم ہونے کے بعدپارٹیاں بدلنے کا موسم شروع ہو جائے گا ؟

حالیہ اسمبلی انتخاب میں کانگریسی امیدوار منکال وئیدیا کی شکست کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی کے اندر ہی سیاسی ماحول ایک آتش فشاں میں بدلتا جارہا ہے ۔ انتخاب سے پہلے تک بظاہرکانگریس پارٹی کا جھنڈا اٹھائے پھرنے اور پیٹھ پیچھے بی جے پی کی حمایت کرنے والے بعض لیڈروں کو اب ...

ہندو نیشنلسٹ گروپ سے اقلیتی طبقہ خوفزدہ، امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ

امریکی وزارت خارجہ نے منگل کے روز بین الاقوامی مذہبی آزادی پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں 2017 کے دوران ہندو نیشنلسٹ گروپ کے تشدد کے سبب اقلیتی طبقہ نے خود کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کیا۔

مودی حکومت کے چار سال: بدعنوانی، لاقانونیت،فرقہ پرستی اور ظلم و جبر سے عبارت ......... از: عابد انور

ہندوستان میں حالات کتنے بدل گئے ہیں، الفاظ و استعارات میں کتنی تبدیلی آگئی ہے ، الفاظ کے معنی و مفاہیم اور اصطلاحات الٹ دئے گئے ہیں ،سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کہا جانے لگا ہے، قانون کی حکمرانی کا مطلب کمزور اور سہارا کو ستانا رہ گیا ہے، دھاندلی کو جیت کہا جانے لگا ہے، ملک سے ...