دبئی کے معروف ڈاکٹر اسماعیل قاضیا سے ایک ملاقات جن کے تینوں بیٹے بھی ڈاکٹر ہیں

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 6th May 2018, 11:23 PM | ساحلی خبریں | خلیجی خبریں | انٹریو |

دبئی  6/مئی  (ایس او نیوز)  طبی میدان یعنی میڈیکل سے وابستگی کو بہت ہی معتبر اور مقدس سمجھا جاتاہے ، گرچہ جدید دورمیں مادیت کی وجہ سے اس میں کچھ کمی ضرور آئی ہے مگر آج بھی ایسے بے شمار طبیب ہیں جو عوام کی بھلائی کی خاطر ڈاکٹری پیشہ سے وابستہ رہتے ہوئے مخلصانہ خدمات انجام دے رہےہیں۔ مسلمانوں نے طب کے میدان میں انکشافات اور اکتشافات کے ذریعے جو کامیاب تجربات پیش کئے ہیں اس کی دنیا آج بھی گواہی دیتی ہے، جدید میڈیکل تعلیم کی بنیادیات میں ان کی موجودگی منہ بولتا ثبوت ہے۔

بھٹکل اور بھٹکل کے مسلمان بالکل ابتداء سے ہی تجارت سے جڑے ہوئے ہیں یہی ان کا اوڑھنا اور بچھونا ہے۔اس میدان میں اہل بھٹکل کی کامیابیاں قابل رشک ہیں۔ اللہ کرے یہ جاری و ساری رہے۔ آمین ۔

بدلتے زمانے کے تحت کچھ نوجوانوں نے دیگر شعبہ جات میں قدم رکھتے ہوئے کامیابی کی منزلوں کو طئے کئے ہیں جس میں خاص کر میڈیکل اور قانون قابل ذکر ہیں۔1980اور 90کی دہائی میں میڈیکل تعلیم حاصل کرنا کسی نعمت سے کم نہیں تھا، ایسے میں بھٹکل کے مایہ ناز فرزند ڈاکٹر اسماعیل قاضیا نے ڈاکٹر ی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد نہ صرف اپنے پیشہ کو تقدس و اعتبار بخشا بلکہ اس کو عوامی خدمت کا ذریعہ مانتے ہوئے ایک کے بعد ایک کلینک اور اپنے ساتھ پورے خاندان کو طبی پیشہ سے جوڑتے ہوئے کامیابی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔ ساحل آن لائن سے ڈاکٹر اسماعیل کے ساتھ ہوئی خصوصی ملاقات کا خلاصہ قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔

ڈاکٹر اسماعیل قاضیا اپنے ابتدائی حالات کو بتاتے ہوئے کہتےہیں کہ انہوں نے  ایک ایسے مقام سے طبی خدمات کا آغاز کیا  جہاں زیادہ تر مزدور طبقہ رہتاہے، عام طورپر دیکھاجاسکتاہے کہ مزدور علاقوں میں کلینک کیا ڈاکٹر بھی نہیں رہتے۔ لیکن  ڈاکٹر اسماعیل صاحب نے  وہیں  سے کام شروع کیا اللہ شفاء دیتارہا اوہ ترقی کی منزلیں طئے کرتے چلے گئے۔

ڈاکٹر اسماعیل طبی میدان میں روزگار کی تلاش میں 26ستمبر 1982 کو وزٹ ویز ا پر دبئی پہنچے تھے ، وہ بتاتے ہیں کہ انہیں دبئی کا ویزا صرف10روپئے میں ملا تھا۔ دبئی میں بہت ساری پریشانیاں اور تکالیف تھیں ، دبئی میں جعفر ی صاحب کی کلینک بھی تھی ، اسی دوران دو مہینے بیت گئے اس کے بعد  امریکہ کے ایک سلیمنگ سنٹر (وزن گھٹانے کا مرکز )میں کام ملا۔ 

میرے لئے راحت کی بات یہ تھی کہ دسمبر 1982میں دبئی میں پراکٹیس کرنے کا لائسنس ملا۔ایسے میں وزٹ ویزا ختم ہورہی تھی میں نے عمرہ کیا اوروطن لوٹ گیا۔ دوبارہ میں نے جاب ویزا پر دبئی پہنچ کر سلیمنگ سنٹر میں جوائن ہوگیا، جہاں میں نے  ایک سال تک خدمت انجام دی۔ الحمد للہ ! پراکٹیس اچھی چل رہی تھی عین اسی دوران میرا وزن 43سے 70کلو ہوگیا، وزن کم کرنے والے ڈاکٹر کا وزن زیادہ ہو نا طبی طور پر خامی تصور کیا گیا اس لئے  میں  وہاں سے نکل گیا۔ مگر اللہ کا شکر ہے کہ میرےپاس پراکٹیس کا لائسنس تھا اسی بنیاد پر کرامہ  میں خود کی کلینک شروع کی ، مجھے پراکٹیس سے لگاؤ تھا لوگوں کی خدمت کا موقع بھی ملا  ، ان سب کو لے کر میں بہت خوش بھی تھا۔ یہیں سے دبئی میں میرے میڈیکل کیرئیر کی شروعات ہوئی۔ آج الحمد للہ! دبئی میں فی الحال 6کلینک اور 6فارمیسی ہیں اور ا س کو مزید وسعت دینے کا ارادہ ہے۔

اپنے جانشینوں کے سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ میں نےکبھی اپنے بچوں کو میڈیکل کے لئے دباؤ نہیں ڈالا البتہ انہیں ترغیب ضروردی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہےکہ بنگلورو میں میرا بیٹا داؤد میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم پا کر جب میرے پاس آیا تو اس کے لئے جگہ نہیں تھی۔ڈے کئیر کلینک کا خیال میرے بیٹے کو لے کر آیا اور میں نے پروگرام بنایا اور اس کو عملی جامہ پہناتےہوئے ڈاکٹر اسماعیل ڈے کئیر کلینک کا افتتاح کیاگیا ہے۔ یہاں ہر قسم کا علاج کیا جاتاہے البتہ رات کا قیام نہیں ہے ، میرے دوسرے فرزند محمد نور کے لئے بھی ایک نیا منصوبہ تشکیل دیا ہوں، انشاء اللہ بہت جلد تکمیل کو پہنچےگے تیسرے لخت جگر شیث ایم ڈی کررہے ہیں اس کی تکمیل ہو تے ہی ایک اور کلینک عوام کے لئے کھولی جائے گی۔ ان کا چوتھا بیٹا بھی میڈیکل  کررہا ہے  اور ان کی خواہش ہے کہ  ان سب کو لے کر ایک منی اسپتال قائم کریں،  جس کے لئے انہوں نے کہا کہ  اس کے لئے  کوشش جاری ہے، دعا کریں کہ وہ تکمیل تک پہنچے ۔

نئی نسل اور ان کے والدین وسرپرستوں کی طبی میدان میں رہنمائی کرتےہوئے ڈاکٹر اسماعیل قاضیا کا کہنا ہےکہ ڈاکٹری ایک بہترین اور خود مختار پیشہ ہے، گرچہ اس کا کورس تھوڑالمباہے، ڈاکٹر بننے کے لئے وقت درکارہے ایسے میں والدین اپنے بچوں کو جلدی اعلیٰ مقام پر دیکھنا چاہتےہیں، اسی لئے انجنئیرنگ اور آئی ٹی کی طرف رخ کرتےہیں کیونکہ وہاں ڈگری جلدی ملتی ہے ، ٹھیک ہے اپنی پسند کا کورس کرے۔ لیکن موجودہ زمانے میں ہم دیکھ رہے ہیں ان میدانوں میں روزگار کے لئے بڑےپاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں، روزگار بہت کم مل رہاہے۔ ان حالات میں اگر وہ میڈیکل کا رخ کریں گے تو یہ  سکیور پیشہ ہے، ڈاکٹری پیشہ عوام سےمنسلک ہے ہمیشہ آپ سماجی میدان میں رہتےہیں ، عوام سے راست تعلق رہتاہے بہتر سے بہتر سماجی خدمت انجام دے سکتےہیں۔ مان لیجئے کہیں ہم کو روزگار یا جاب نہیں ملتاہے تو بھی ہم خود اپنے سازوسامان کے ساتھ کہیں بھی بیٹھ کر کمائی کرسکتےہیں اس سے کوئی پریشانی نہیں ہونے کی بات کہی۔ ڈاکٹر اسماعیل نے خاص کر لڑکیوں کو میڈیکل تعلیم میں آگے بڑھنے اور عملی مشق کرنےپر زور دیا۔

بچوں کو اعلیٰ تعلیم تک لےجانے کے لئے ضروری ہے کہ والدین و سرپرست حضرات کسی میدان کے متعلق دباؤ نہ ڈالیں بلکہ انہیں ترغیب دیں۔ صرف نگرانی ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ان کےساتھ رہئیے ۔ صبر کے ساتھ نتیجےکا انتظار کیجئے۔ میرے بچوں پر میں نے کبھی دباؤ نہیں ڈالا ، انہیں ترغیب دیتے ہوئے نگرانی کی ، ان کے ساتھ رہا ، جس کانتیجہ میرے سامنے ہے میرے تمام بچے ڈاکٹر ہیں۔ والدین کو سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری کمائی ، ہماری اصل جائیداد نہیں ہے بلکہ ہمارے بچے ہی ہماری اصل جائیداد ہیں یہی ہمارا سب سے بہترین انوسٹمنٹ ہیں۔ آج میں اس عمر میں خوابوں کی دنیا میں مگن ہوں تو انہی بچوں کے سہارے و تعاون کی بنیاد پر ہے انشاء اللہ انہی کے ذریعے ترقی ہوگی اور میرے خواب پورے ہونگے۔ ا س موقع پر انہوں نے ماؤں سے خاص کر درخواست کی بچوں کی دینی رہنمائی اور تربیت کریں تاکہ وہ اپنے پیشہ کے ساتھ مسلمان بھی رہیں۔

بھٹکل کے متعلق بات چلی تو ڈاکٹر اسماعیل قاضیا نے جذباتی ہوکر کہاکہ بھٹکل کے ہر ادارے سے میری وابستگی ہے البتہ سیاست سے دور رہتاہوں، میں جب بھی بھٹکل آتا ہوں ہر ادارے میں  جاتاہوں ، ملاقاتیں کرتاہوں ، ان اداروں کے ذریعے روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں یہی ہمارا اصل بھی ہیں۔از خود انہوں نے کہالوگ سوال کرتے ہیں کہ اتنے سارے کلینک اور کامیاب تجربے کے بعد بھی بھٹکل کا رخ کیوں نہیں کرتے ؟

ڈاکٹر اسماعیل خود جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ بھٹکل میں ایک بہترین سہولیات سے آراستہ ہر طرح کے علاج کا ایک اسپتال قائم ہو، جس کےلئے میں لگاتار کوشش  بھی کررہا  ہوں۔ لیکن کہیں نہ کہیں ، کوئی نہ کوئی وجہ پیش آجاتی ہے جس کی بنا پر ہم کامیاب نہیں ہوپارہےہیں۔ اسپتال کے قیام کو لےکر ہمارے یونس قاضیا بھی میرے ساتھ گفتگو کرتے رہے ہیں ، بہت تعاون بھی کررہے ہیں۔ بھٹکل نہیں تو کم سے کم کنداپور میں ہی ایک اسپتال قائم کیاجائے۔ لیکن میری ترجیح بھٹکل ہی ہوگی، انہوں نے کہا کہ بھٹکل میں اسپتال قائم کرنے کے تعلق سے میں خاموش نہیں ہوں بلکہ ڈاکٹروں سے بات چیت بھی کررہاہوں، میں خود بھی مہینہ میں ایک دو مرتبہ بھٹکل کا دورہ کرتے ہوئے وہاں خدمات انجام دینے کا   منصوبہ ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

ساحلی کینرا میں کچھ لمحوں کے لئے بادلوں کی گرج کے ساتھ بارش؛ کمٹہ میں بجلی گرنے سے ایک مکان منہدم؛ تین شدید زخمی

کل شام کو کچھ دیر کے لئے ہوئی بادلوں کی گرج کے درمیان زوردار بارش سے ساحلی کینرا میں گرمی کا زور ٹوٹ گیا ہے اور لوگوں نے گرمی سے نجات ملنے پر راحت کی سانس لی ہے، البتہ  کمٹہ تعلقہ کے  برگی دیہات میں بجلی گرنے سے ایک مکان  کو شدید نقصان پہنچا ہے اور دیواریں گرنے سے گھر کے اندر ...

منگلورو: ایس ایس ایل سی امتحان میں طالب علم کوملے انگلش مضمون میں59 کی جگہ 97 مارکس!

ایس ایس ایل سی اور پی یو سی وغیرہ کے پبلک امتحانات میں پرچہ جانچنے یا پھر مارکس اینٹری کرنے میں گڑ بڑ کے معاملات ہر سال سامنے آتے رہتے ہیں۔امسال بھی منگلورو سے ملنے والی ایک خبر کے مطابق سینٹ ایلوشیئس ہائی اسکول کوڈیال بیل کے ایک طالب علم ایلسٹائر کیوین بنگیرا کے ساتھ بھی ایسا ...

بھٹکل جامعہ اسلامیہ وفد کی جدہ آمد پر افطاری پروگرام ؛ بھٹکل کے معروف نابینا حافظ انیس بڈو کو جماعت کی جانب سے عمرہ کا اعزاز

بھٹکل کمیونٹی جدہ کی جانب سے ممبران کے لئے ہوٹل ٹرائی ڈینٹ میں افطاری کا اہتمام کیا گیا۔ اور اس پروگرام میں جامعہ اسلامیہ کے وفد  مولانا انصار خطیب مدنی و مولانا ارشاد صدیقہ ندوی کا پُرتباک استقبال ہوا

دبئی میں شیرور اسوسی ایشن کے زیر اہتمام گیٹ دو گیدر؛مرحوم باشو بھائی کی خدمات کو خراج عقیدت

شیرور اسوسی ایشن کے زیر اہتمام البستان ریسیڈنس میں شیروریئن کا گیٹ ٹو گیدر منعقد کیا گیا۔ جس میں گرین ویلی اسکول شیرور کے بانی مرحوم جناب عبدالقادر عرف باشو بھائی کو ان کی بے لوث خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا

غلط فہمیوں کے ازالہ کے ذریعہ ہم آہنگی کا قیام ممکن: کامن سیول کوڈ کی تجویز مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم ؛ جسٹس سچر کا انٹرویو

دس سال قبل ملک میں مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی، معاشی اور سیاسی صورتحال سے متعلق حقائق کو منظر عام پر لاتے ہوئے مسلمانوں کی صورتحال کو دلت اور پسماندہ طبقات سے بدتر قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کی فلاح وبہبود کیلئے مفید مشورے پیش کرنے والے 92سالہ جسٹس راجیندرا سچرنے ڈنکے کی چوٹ پر ...