کیا راہل گاندھی سے ہندو ہونے کا مطلب جاننا ہوگا؟ سشما سوراج

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 2nd December 2018, 2:29 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی2 دسمبر (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) کانگریس صدر راہل گاندھی کا پی ایم مودی کے ہندوتو پر سوال کے بعد مرکزی وزیر سشما سوراج نے ان پر جم کر ہلہ بولا ہے۔ وزیرخارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ کیا اب راہل گاندھی سے ہمیں ہندو ہونے کا مطلب سیکھنا چاہیے ۔واضح ہو کہ ادے پور میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ پی ایم مودی کسی کی نہیں سنتے وہ کیسے ہندو ہیں ۔سشما سوراج نے راہل گاندھی کے بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی اور کانگریس کارکن ان کے مذہب کو لے کر شبہ میں ہیں۔برسوں تک پارٹی نے انہیں ایک سکیولررہنما کے طور پر پیش کیا لیکن جب انتخابات قریب دیکھا اور انہیں لگا کہ ہندو اکثریتی ہیں تو انہوں نے یہ شبیہ پیدا کرلی ۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بیان آیا ہے کہ وہ’ جنیودھاری‘ ہندو ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ’ جنیودھاری‘ برہمن کے علم میں اس قدر اضافہ ہوگیاکہ ہندو ہونے کا مطلب ابھی ہمیں ان سے سمجھنا ہوگا۔ ’بھگوان ‘ نہ کرے وہ دن آئے جب راہل گاندھی سے ہمیں ہندو ہونے کا مطلب سمجھنا پڑے۔ سشما سوراج نے مزید کہا کہ کانگریس میں اعتماد کی کمی ہے۔کانگریس پارٹی کے کارکن تذبذب اور بیچارگی کے شکار ہیں ۔کانگریس پارٹی ریاستی انتخابات میں ہارنے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کانگریس اپنے کام کا حساب دے ۔سشما سوراج کے علاوہ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے بھی کانگریس صدر پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ’ کنفیوژڈ‘گاندھی ہیں اور ہمیشہ سیاسی وجوہات سے ہندوتو کا اپیرنس بدلتے رہتے ہیں نہ کہ وعدوں سے۔وہ وعدوں سے نہیں بلکہ سیاسی وجوہات کے ہندوہیں۔ واضح ہو کہ آج کانگریس صدر راہل گاندھی نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی تعریف کی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہندو ہیں لیکن وہ ہندوتو کی بنیاد کو نہیں سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ صرف میرے پاس ’’گیان‘‘ ہے۔ وہ کہتے ہیں میں ہندو ہوں اور جو ہندوتو کی بنیاد ہے وہ اس کونہیں سمجھتے ہیں، کس قسم کے ہندو ہیں۔راہل گاندھی نے مزید کہا کہ یہی فرق اور تضاد ہے۔ میں نے اٹل بہاری کو دیکھا ہے۔ ہماری اور ان کی سیاسی جنگ تھی لیکن ان کی زبان، ان کے طریقۂ کار ان سے الگ تھے ۔ ہم ان سے سیاسی طور پر غیرمتفق تھے، ہماری سیاسی جنگ بھی تھی لیکن ان کی غیرمتنازع’’ شخصیت ‘‘ تھی ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

لوک سبھا انتخابات؛ آخری مراحل کے انتخابات جاری؛ 918 اُمیدواروں کی قسمت داو پر؛ ای وی ایم میں خرابی کی شکایتیں؛ بنگال میں دو کاروں پر حملہ

لوک سبھا انتخابات کے ساتویں  اور آخری مرحلہ کے لئے اتوار کی صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔جس میں  918 امیدواروں کی قسمت دائو پر لگی ہوئی ہے۔آج جاری انتخابات میں  وزیر اعظم نریندر مودی کا حلقہ انتخاب وارانسی بھی شامل ہے۔ 

دہشت گرد ہر مذہب میں ہیں: کمل ہاسن

تنازعات میں گھرے اداکار لیڈر کمل ہاسن نے جمعہ کو کہا کہ ہر مذہب میں دہشت گرد ہوتے ہیں اور کوئی بھی اپنے مذہب کوبہترین ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

بی جے پی کو280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی، این ڈی اے کی سیٹیں 300 سے متجاوز ہوں گی: پی مرلیدھر راؤ

بی جے پی لیڈر رام مادھو کے تخمینے کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر پی مرلیدھر راؤ نے کہا کہ بھگوا پارٹی کو 280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی جبکہ این ڈی اے کے سیٹوں کی تعداد 300 کے پار ہوں گی۔

مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملہ: اے ٹی ایس کی عدالت سے غیر حاضری کے معاملے میں عدالت کا دخل دینے سے انکار

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ متاثرین جانب سے خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل عرضداشت جس میں اس معاملے کی سب سے پہلے تفتیش کرنے والی تفتیشی ایجنسی ATSکی عدالت سے غیرحاضری پر سوال اٹھایا گیا تھا کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ اے ٹی ایس کو پابند کرنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے ...