نرنجن شاہ، سری نواسن جیسے نااہل عہدیدار لوڈھا کمیٹی کی اصلاحات میں رکاوٹ بن رہے:سی اواے

Source: S.O. News Service | By Sheikh Zabih | Published on 12th July 2017, 8:33 PM | اسپورٹس |

نئی دہلی،12؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )کرکٹ منتظمین کمیٹی(سی اواے )نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نرنجن شاہ اور این سری نواسن جیسے نااہل عہدیدار اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے لوڈھا کمیٹی کی اصلاحات کولاگو کرنے میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔سی اواے کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کی گئی اپنی چوتھی اسٹیٹس رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے۔اس سے پہلے رپورٹ 27؍فروری 17؍مارچ اور 7 ؍اپریل کو جمع کی گئی تھی۔معاملے کی اگلی سماعت 14؍جولائی کو ہوگی۔رپورٹ میں نگراں سکریٹری امیتابھ چودھری کی تعریف کی گئی ہے جو اصلاحات کو لاگو کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔اس میں سری نواسن کے معتمد انیرودھ چودھری پر خاموش تماشائی بنے رہنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

سی اواے نے ریاستی اکائیوں میں اتفاق رائے قائم کرنے میں بھی معذوری ظاہر کی۔رپورٹ کے ساتویں نقطہ میں کہا گیا ہے، تیسری رپورٹ جمع کرنے کے بعد سے تین ماہ کے اندر سی اواے نے بی سی سی آئی کی رکن اکائیوں پر نیا آئین لاگو کرنے کے لیے اتفاق رائے بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔سی اواے کی ان کے ساتھ دومیٹنگیں 6؍مئی اور 25؍جون کو ہو چکی ہیں، لیکن اتفاق رائے بنانے کے تمام کوشش ناکام رہیں ۔نویں نقطہ میں کہا گیا کہ بی سی سی آئی صدر سری نواسن اور شاہ روڑے اٹکا رہے ہیں۔اس میں کہا گیاہے کہ 26؍جون کی ایس جی ایم میں کئی لوگوں نے شرکت کی جو بی سی سی آئی کے عہدے سے نااہل قرار دیئے جا چکے ہیں، ان میں این شری نواسن اور نرنجن شاہ شامل ہیں،ان کے ذاتی مفاد ہیں جس کی وجہ سے یہ لوڈھا کمیٹی کی سفارشات لاگو نہیں ہونے دے رہے ہیں۔

سی اواے نے ایک آڈیو فائل جمع کی ہے جس میں اشارہ ہے کہ 26؍جون کی میٹنگ میں کچھ نااہل ارکان نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔سی اواے نے یہ بھی کہا کہ ریاستی اکائیاں نااہل لوگوں کو کسی طرح اندر گھسانے کے طریقے تلاش رہی ہیں ،چونکہ عدالت کے فیصلے میں نااہل عہدیداروں کو بی سی سی آئی کے میٹنگوں سے ہی باہر رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔شاہ جیسے لوگ بغیر کسی عہدے کے حالات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ بی سی سی آئی ایس جی ایم میں عام رکن کے حصہ لینے کے بارے میں کوئی تعریف نہیں دی گئی ہے۔ شاہ کو خصوصی کمیٹی کا رکن ہونے کی وجہ سے ایس جی ایم میں خصوصی دعوت نامہ ملا تھا۔سی اواے نے یہ بھی کہا کہ بی سی سی آئی نے ستمبر 2016سے ابھی تک کسی انصاف دوست کی تقرری نہیں کی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی