کرناٹکا کانگریس صدر دنیش گنڈو راؤ نے بی جے پی کوقرار دیا دہشت گرد؛ کہا؛ بی جے پی ملک کی اقلیتوں اور کمزور طبقات کو دہشت زدہ کرنے میں ہے مصروف

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 20th August 2018, 11:00 PM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو،20؍اگست(ایس او نیوز)کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دنیش گنڈو راؤ نے بی جے پی کو دہشت گرد قوت قرار دیا ہے۔

آج کے پی سی سی دفتر میں سابق وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی اور سابق وزیراعلیٰ آنجہانی دیوراج ارس کے جنم دن کی تقریبات میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سناتھن دھرم کے نام پر بی جے پی اپنے کارندوں کے ذریعے ملک کی اقلیتوں اور کمزور طبقات کو دہشت زدہ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس قائدین ملک کے لئے ترقیاتی نظریہ رکھنے سے کوسوں دور ہیں۔ سناتھن دھرم کا نظریہ رکھنے والے کارکنوں نے ہی صحافی گوری لنکیش ، نریندر دھابولکر ، گووند پنسارے اور ایم ایم کلبرگی کا قتل کیاہے۔ ان قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے ایک طرف قانونی ایجنسیاں جدوجہد میں مصروف ہیں تو دوسری طرف بی جے پی اور آر ایس ایس ان دہشت گردوں کی تائید میں کھڑی ہوئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ دونوں قوتیں دہشت گرد ہیں۔

انہوں نے کہاکہ گوری لنکیش کے قاتلوں کا پتہ لگانے میں ریاستی پولیس نے غیر معمولی سرعت سے کام لیا ، لیکن مہاراشٹرا کی بی جے پی حکومت نے اب تک پنسارے اور دابولکر کے قاتلوں کا پتہ لگانے سے وہاں کی پولیس کو روک رکھا ہے۔ یہ محض اس لئے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ کارکن نے یہ حرکت کی ہے،اگر کوئی مسلمان ایسی حرکت کرتاتو اس کے سارے خاندان کو نشانہ بنالیا جاتا ۔ سابق وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کی آخری رسومات کے دوران سوامی اگنی ویش پر حملے کو انہوں نے بی جے پی کی سوچ کا عکاس قرار دیا۔ اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ سدرامیا، کے پی سی سی کارگزار صدر ایشور کھنڈرے اور دیگر کانگریس لیڈر موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

گرفتاری کے خوف سے رکن اسمبلی جے این گنیش روپوش

بڈدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ پر حملہ کرنے والے رکن اسمبلی جے این ۔ گنیش کے خلاف بڑدی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر داخل کرنے کی خبر کے بعد سے گنیش لاپتہ ہیں ۔

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

یاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری ...

ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔