سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th July 2018, 11:03 AM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل12؍جولائی (ایس اونیوز) انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا پہلا مرحلہ طے کرلیا۔  مگر اقلیتوں کے تعلق سے کیے گئے وعدوں کو  پورا کرنے کے تعلق سے ابھی وہ توجہ دیتے نظر نہیں آرہے ہیں۔

حالیہ اسمبلی انتخابات کی تشہیری مہم کے دوران معلق اسمبلی کا خواب دیکھتے ہوئے کانگریس کے ووٹ بینک کو توڑنا اور اس کی نشستیں ممکنہ حد تک کم کرنا کمار سوامی کی پالیسی تھی۔ اسی کے تحت وہ اقلیتی ووٹ بینک پر نظر جمائے ہوئے تھے اور اسے بڑی مقدار میں کانگریس کے لئے جانے والے ووٹ مان کر منگلورو کے سیاست دان فاروق باوا کے توسط سے توڑنے کی ہر ممکن کوشش کررہے تھے۔

اپنے منصوبے کے تحت انہوں نے بھٹکل کا بھی دورہ کیا اور یہاں کے مسلمانوں کے مرکزی ادارے تنظیم کے ساتھ کافی لمبا وقت گفت وشنید میں گزارا اور اپنی پارٹی اور اپنے امیدوار کی جیت کا تیقن حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اقلیتوں کے مسائل کو ترجیحی طور پر حل کرنے کا سگنل دیا۔ اس موقع پر بھی انہوں نے فاروق باوا کو بنگلور و سے خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھٹکل بلا لیا تھا۔ چونکہ ایک گرما گرم موضوع سعودی عربیہ کے نئے قوانین سے پریشان ہوکر وہاں سے واپس لوٹنے والوں کا تھا۔ فاروق باوا کے توسط سے یہ کمار سوامی کے کانوں میں ڈالا گیا کہ جلد ہی بھٹکل کے مسلمان اس پریشان کن مسئلے کا شکار ہونے والے ہیں۔ پھر کمارا سوامی نے اس پس منظر میں عوامی خطاب کے دوران کہا کہ :’’اپنے ماں باپ اور گھر والوں کو چھوڑ کر یہاں کے لو گ خلیجی ممالک میں ملازمتیں کررہے ہیں۔ وہ لوگ اب وہاں کے نئے قانون کی پیچیدگیوں میں پھنس گئے ہیں۔ ان کے لئے اب ممالک کو الوداع کہہ کر اپنے دیش لوٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ جبکہ ہماری پڑوسی ریاست کیرالہ کی حکومت خلیجی ممالک سے واپس لوٹنے والے وہاں کے شہریوں کو سہارا دینے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔ان کی بازآبادکاری اور ترقی کے لئے خصوصی منصوبے بنارہی ہے۔ہمارے یہاں بھٹکل ، اڈپی، منگلورو سمیت کرناٹکا کے ساحلی علاقے کے 40تا50ہزار افراد اس قسم کی مصیبت کا شکار ہوگئے ہیں۔اگر ہماری حکومت بنے گی تو پھر ایسے لوگوں کو مالی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ زندگی بسر کرنے کے لئے تمام ضروری سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔‘‘کمارا سوامی کا یہ بیان سن کر یہاں کے عوام نے فطری طور پربڑی راحت اور مسرت محسوس کی تھی۔

اپنی منصوبہ بندی کے مطابق انتخاب کانتیجہ معلق اسمبلی کی صورت میں نکلنے کی وجہ سے کماراسوامی نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا ہے ، تو پھر انہیں اقلیتوں سے کیے گئے اپنے اس وعدے کو بھی پورا کرنا چاہیے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنا یہ انتخابی  وعدہ بھول چکے ہیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

شمالی کینرا پارلیمانی حلقہ : انتخابی غیر قانونی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھنے 206سی سی ٹی وی کیمروں کی نصب کاری

اپریل مئی میں منعقد ہورہے لوک سبھاانتخابات کو صاف شفا ف رکھنے  کے لئے شہری اور گاؤں کی سطح پر پہلی مرتبہ 206سی سی ٹی وی کیمروں کی نصب کاری کرتے ہوئے انتخابات کی نگرانی کی جائے گی۔

مودی حکومت میں اننت کمارہیگڈے تنہا داغدار وزیر : ہندو لیڈر سورج سونی کا مرکزی وزیر پر کڑا وار

’وزیر اعظم نریندرمودی کی قیادت والی حکومت میں صرف اننت کمارہیگڈے ہیایک  داغدار وزیر ہیں، انہیں وزارت کا عہدہ دئیے جانےکی وجہ سے ہی ملک میں روزگار مواقع میں کمی ہوئی ہے۔ ہندو لیڈر سورج نائک سونی نے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے خلاف حملہ کرتے ہوئے مندرجہ بالا بیان دیا۔

بھٹکل فائر بریگیڈ عملے نے کیا ٹریٹمنٹ پلانٹ سے ضائع ہونے والے پانی کومحفوظ کرنے کا انتظام

بھٹکل ساگر روڈ پرپینے کے پانی کی صفائی کے لئے قائم ٹریٹمنٹ پلانٹ سے ضائع ہونے والے پانی کا صحیح استعمال کرنے کے لئے بھٹکل فائر بریگیڈ عملے میں شامل رمیش شیٹی نے اپنے طور پر اسے محفوظ کرنے کا انتظام کردیا ہے۔

ہندو لیڈر سورج نائک سونی نے اننت کمار ہیگڈے کو کہا،مودی حکومت کا داغدار وزیر؛ اُس کی مخالفت میں کام کرنے کے لئے نوجوانوں کی ٹیم تیار

ضلع شمالی کینرا میں ایک نوجوان ہندو لیڈر کے طور پر اپنی پہچان رکھنے والے کمٹہ کے سورج نائک سونی نے اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں چل رہی مرکزی حکومت میں اننت کمار ہیگڈے کی حیثیت ایک داغداروزیر کی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں ...

کرناٹک میں نوٹیفکیشن کے پہلے دن 6؍امیداروں کی نامزدگیاں داخل 

ریاست میں لوک سبھا الیکشن کے پہلے مرحلہ میں 14؍سیٹوں پر 18؍اپریل کو ہونے والے الیکشن کے لئے پرچہ نامزدگی کرنے کا آغاز ہوگیا ۔ پہلے دن چار حلقوں میں6؍ امیدواروں کی جانب سے 11؍ مزدگیاں داخل کئیں۔ یہ اطلاع ریاستی الیکشن افسر سنجیو کمار نے دی۔

بنگلورو کے تینوں پارلیمانی حلقوں میں ڈی سی پیز کی زیرنگرانی سخت بندوست لائسنس یافتہ 7؍ہزار ہتھیارات تحویل میں :پولیس کمشنر ٹی۔ سنیل کمار

پولیس کمشنر ٹی۔ سنیل کمار نے بتایا کہ بنگلور سنٹرل ،بنگلور نارتھ اور بنگلور ساؤتھ لوک سبھا حلقوں میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لئے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سطح کے پولیس افسروں کی نگرانی میں پولیس کا سخت بندوبست کیاگیا ہے۔

شمالی کینرا پارلیمانی حلقہ میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی کسرت : کیا ہیگڈے کو شکست دینا آسان ہوگا ؟

ضلع اترکنڑا  میں   کانگریسی لیڈران کی موجودہ حالت کچھ ایسی ہے جیسے بغیر رنگ روپ والے فن کار کی ہوتی ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے بالکل ایک دو دن پہلے تک الگ الگ تین گروہوں میں تقسیم ہوکر  من موجی میں مصروف ضلع کانگریسی لیڈران  مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق  ان کی بھاگم بھاگ کو دیکھیں ...

شمالی کینرا پارلیمانی سیٹ کو جے ڈی ایس کے حوالے کرنے پر کانگریسی لیڈران ناراض؛ کیا دیش پانڈے کا دائو اُلٹا پڑ گیا ؟

ایک طرف کانگریس اور جنتا دل ایس کی مخلوط حکومت نے ساجھے داری کے منصوبے پر عمل کرکے سیٹوں کے تقسیم کے فارمولے پر رضامند ہونے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف کچھ اضلاع سے کانگریس پارٹی کے کارکنان اور مقامی لیڈران میں بے اطمینانی کی ہوا چل پڑی ہے۔ جس میں ضلع اڈپی کے علاوہ شمالی کینرا ...

پاکستان پر فضائی حملے سے بی جے پی کے لئے پارلیمانی الیکشن کا راستہ ہوگیا آسان !  

پاکستان کے بہت ہی اندرونی علاقے میں موجود دہشت گردی کے اڈے پر ہندوستانی فضائی حملے سے بی جے پی کو راحت کی سانس لینے کا موقع ملا ہے اور آئندہ پارلیمانی انتخابات جیتنے کی راہ آسان ہوگئی۔اور اب وہ سال2017میں یو پی کے اسمبلی انتخابات جیتنے کی طرز پر درپیش لوک سبھا انتخابات جیتنے کے ...

ہندوستان میں اردو زبان کی موجودہ صورتحال، عدم دلچسپی کے اسباب اوران کا حل ۔۔۔۔ آز: ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

یہ آفتاب کی طرح روشن حقیقت ہے کہ اردو بھی ہندی، بنگلہ، تلگو، گجراتی، مراٹھی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کی طرح آزاد ہندوستان کی قومی اور دستوری زبان ہے جو دستورِ ہند کی آٹھویں شیڈول میں موجود ہے۔ لہٰذا یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اردو ہندوستان کی زبان نہیں ہے۔ جو ایسا کہتا ہے اور ...

آننت کمار ہیگڈے۔ جو صرف ہندووادی ہونے کی اداکاری کرتا ہے ’کراولی منجاؤ‘کے چیف ایڈیٹر گنگا دھر ہیرے گُتّی کے قلم سے

اُترکنڑا کے رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے جو عین انتخابات کے موقعوں پر متنازعہ بیانات دے کر اخبارات کی سُرخیاں بٹورتے ہوئے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے، اُس کے تعلق سے کاروار سے شائع ہونے والے معروف کنڑا روزنامہ کراولی منجاو کے ایڈیٹر نے  اپنے اتوار کے ایڈیشن میں اپنے ...

کیا جے ڈی نائک کی جلد ہوگی کانگریس میں واپسی؟!۔دیشپانڈے کی طرف سے ہری جھنڈی۔ کانگریس کر رہی ہے انتخابی تیاری

ایسا لگتا ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے چند مہینے پہلے کانگریس سے روٹھ کر بی جے پی کا دامن تھامنے اور بی جے پی کے امیدوار کے طور پر فہرست میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کی جلد ہی دوبارہ کانگریس میں واپسی تقریباً یقینی ہوگئی ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق اس کے لئے ضلع ...