ریاست میں کئی ترقیاتی منصوبے دن کی روشنی دیکھنے سے محروم

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 2nd August 2018, 10:59 AM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو، 2؍اگست(ایس او نیوز) ریاستی وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے فوراً بعد یہ اعلان کیا تھا کہ سابقہ کانگریس حکومت نے ریاست کی تعمیر و ترقی سے متعلق جو فلاحی منصوبے طے کئے تھے یا جن کا اجراء عمل میں آچکا تھا ان سب کو جاری رکھا جائے گا اور ان کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سابقہ حکومت کے دسیوں منصوبے ابھی دن کی روشنی دیکھنے سے محروم ہی ہیں۔بعض حیرت انگیز منصوبے جیسے خانگی کمپنیوں میں سی اور ڈی زمروں کے لئے ایک سو فیصد تحفظات وغیرہ افسر شاہی رکاوٹوں میں پھنسے پڑے ہیں۔

حالانکہ ان تمام منصوبوں پر اضافی چیف سکریٹریوں اور ترقیاتی کمشنر کی موجود گی میں کرناٹک ترقیاتی پروگرام کی مشاورتی نشستوں میں بار بار تبادلہ خیال اور بحث و مباحثہ ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے اور ان منصوبوں کے نفاذ کے سلسلہ میں کارروائیاں متوقع سطح تک نہیں پہنچ پائی ہیں اور نہ ہی اب تک کوئی سرکاری حکم نامہ اس تعلق سے جاری کیا گیا ہے۔البتہ متعلقہ محکموں کے سربراہوں نے سرکاری حکم ناموں کے اجراء میں تاخیر کے لئے مختلف وجوہات بیان کئے ہیں، ان میں متعلقہ وزیر کے پاس منصوبہ کی فائل کا التواء، تفصیلی منصوبہ بندی رپورٹ کی تیاری میں تاخیر، متعلقہ منصوبہ سے متعلق فائل کا محکمہ مالیات کے پاس التواء، کابینی نوٹ کا تیار نہ ہونا، اس منصوبے سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار، دوسرے محکموں کو اس منصوبہ سے متعلق فائل کی منتقلی اور محکمہ مالیات کی طرف سے وضاحتوں کی طلبی وغیرہ شامل ہیں۔مثال کے طور پر گروپ سی اور ڈی کے زمروں میں خانگی کمپیوں میں سو فیصدی تحفظات کی محکمہ مال گزاری کی تجویز ابھی بحث و مباحثہ کے مرحلوں ہی میں ہے اور اس منصوبے کو نافذ کرنے کے لئے ریاستی حکومت کو ریاستی اسمبلی میں اس تعلق سے ایک قانون منظور کرانا ضروری ہوگا۔

اس کے علاوہ سرکاری محکموں میں اولمپک میں تمغہ حاصل کئے ہوئے افراد کو گروپ اے کا عہدے دینے اور ایشین کامن ویلتھ کھیلوں میں تمغہ حاصل کئے ہوئے افراد کو گروپ بی کے عہدوں کی فراہمی کے سلسلہ میں کیڈر اور ریکریوٹمنٹ ضابطوں کا مرتب کیا جانا ابھی باقی ہے۔سابقہ حکومت کے منوصوبوں میں سے نو محکمہ آبی وسائل کے پاس سرکاری حکم ناموں کے انتظار میں پڑے ہوئے ہیں،پانچ بھکاریوں کے بازآبادکاری مراکز کا قیام، ڈجیٹل کتب خانوں کے قیام اور ڈی دیوا راج ارس تحقیقاتی مرکز کے قیام وغیرہ کے بشمول آٹھ منصوبے جو محکمہ سماجی بہبود کے تحت ہیں وہ بھی ابھی سرکاری حکم ناموں کے اجراء سے محروم ہیں ، ان کے علاوہ زیادہ تر فائلیں محکمہ مالیات کی منظوری کے انتظار میں ہیں۔بے روز گار نوجوانوں کو روزگار پر مبنی صلاحیتوں کی تربیت فراہم کرنے کے لئے سابقہ کانگریس حکومت نے عوامی اور سرکاری سرمایہ کاری کے نمونہ کے تحت صلاحیتوں کے فروغ کی یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس ضمن میں بھی ابھی تک کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔ تالابوں کی تجدید کاری سے متعلق ’’کیرے سنجیونی‘‘ منصوبے کو شہری ترقیات اور پنچایت راج محکمہ سے ہٹا کر چھوٹی آبپاشی محکمہ کے حوالہ کر دیا گیا ہے، اس منصوبے کے لئے ایک سو کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے لئے سرکاری حکم نامہ ابھی تک جاری نہیں کیا جا سکا ہے کیونکہ اس کا فائل ابھی تک متعلقہ وزیر کے پاس زیر التواء ہے۔کرناٹک ریاست شاہراہوں کے ترقیاتی منصوبہ کے تیسرے مرحلہ کے تحت 5,310 کروڑ روپئے کے تخمینہ پر 418.5 کلو میٹر سڑک کی ترقی کے کام کے سلسلہ میں بھی ابھی تک کوئی سرکاری حکم نامہ جاری نہیں کیا جا سکا ہے، محکمہ برائے عوامی امور نے اس منصوبے کے نفاذ کے لئے اور راستوں کی ترقی کے کام کی خاطر ایشین ڈیولوپمنٹ بینک سے رقم قرض حاصل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ایسے بے شمار منصوبے ہیں جن کا مقصد راست اور ریاستی عوام کی عمومی ترقی اور فلاح و بہبود ہے لیکن یہ ترقیاتی اور فلاحی منصوبے سرد خانے کی نذر ہوئے پڑے ہیں۔ ریاست کلی عوام امید کر رہی ہے کہ مخلوط حکومت جلد ہی ان منصوبوں پر عملد رآمد کے راستے ہموار کرے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

متحدہ جدوجہد سے رام نگرم اور منڈیا میں کامیابی ممکن، کانگریس اور جے ڈی ایس کارکنوں سے کمار سوامی اور ڈی کے شیوکمار کا خطاب

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی اور وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے آنے والے ضمنی انتخابات میں رام نگرم اسمبلی حلقے سے جے ڈی ایس امیدوار انیتا کمار سوامی اور منڈیا پارلیمانی حلقے سے جے ڈی ایس امیدوار ایل آر شیورامے گوڈا کو کامیاب بنانے کے لئے دونوں پارٹیوں کی طرف سے متحد ...

یکم نومبر سے سرکاری کام کاج صرف کنڑا میں : کمار سوامی

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے سخت ہدایت جاری کی ہے کہ یکم نومبر 2018سے ریاست کا تمام سرکاری کام کاج کنڑا میں ہوگا۔ کسی بھی فائل کو جو منظوری کے لئے سرکاری محکموں میں رہے گی کنڑا زبان میں ہی آگے بڑھایا جائے گا

مودی قومی رہنماؤں کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال نہ کریں:ملیکارجن کھرگے

لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملیکارجن کھرگے نے کہاہے کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں وزیر اعظم مودی سردار ولبھ بھائی پٹیل ، سبھاش چندر بوس اور دیگر قائدین کا نام لے کر ملک کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

کے سی وینو گوپال کے خلاف جنسی ہراسانی کیس میں ایف آئی آر،اے آئی سی سی عہدے سے برطرف کرنے بی جے پی کامطالبہ

اے آئی سی سی جنرل سکریٹری اور کرناٹک میں کانگریس امور کے انچارج کے سی وینو گوپال کے خلاف جنسی ہراسانی کے ایک کیس میں کیرلا پولیس کی کرائم برانچ نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔

ضلع شمالی کینرا میں جے ڈی ایس کا وجود نہیں ہے۔ آئندہ لوک سبھا میں کانگریس کا ہی امیدوار ہوگا۔ دیشپانڈے کا بیان

ریوینیو اور ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے نے کہا ہے کہ ضلع شمالی کینرا میں جنتا دل ایس کا کوئی وجود نہیں ہے، بلکہ کانگریس پارٹی ضلع میں پوری طرح مستحکم ہے۔ اس لئے آئندہ لوک سبھا انتخاب میںیہاں سے کانگریس کا امیدوار ہی میدان میں اتارا جائے گا۔

کمٹہ: پجاری وشویشورا بھٹ کے قتل کی سازش پہلے بھی رچی گئی تھی؛ پولس کی تحقیقات جاری

حال ہی میں کمٹہ مندر کے پجاری وشویشورا بھٹ کے قتل سے متعلق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اپنے خون کے رشتے دار پر بھروسہ ہی ان کے قتل کا سبب بنا ہے، کیونکہ انہیں نئی خریدی گئی زمین کی شدھی کرنے کی پوجا انجام دینے کے بہانے مرور کی طرف بلاکر لے جانے والا کوئی اجنبی نہیں ...

بھٹکل میں طبی سہولیات کا ایک جائزہ؛ تنظیم میڈیا ورکشاپ میں طلبا کی طرف سے پیش کردہ ایک رپورٹ

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے منعقدہ پانچ روزہ میڈیا ورکشاپ میں جو طلبا شریک ہوئے تھے، اُس میں تین تین اور چار چار طلبا پر مشتمل الگ الگ ٹیموں کو شہر بھٹکل کے مختلف مسائل کا جائزہ لینے اور اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اس میں سے ایک  ٹیم جس میں  حبیب اللہ محتشم ...