چوتھے سعودی فلم فیسٹیول میں انتہاپسندی پر مبنی فلم کو ایوارڈ

Source: S.O. News Service | By Afeef Gawai | Published on 3rd April 2017, 6:02 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،3اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب میں منعقدہ فلم فیسٹیول میں مذہبی انتہا پسندی پر مبنی ایک فلم کو بہترین فلم کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔خیال رہے کہ سعودی عرب ایسا ملک ہے جہاں عام طور پر سینیما پر پابندی ہے۔فلم ”ڈپارچر“ یا روانگی میں ایک طیارے کے دو مسافروں کی کہانی بیان گئی ہے جو کہ خودکشی کی نیت سے طیارے میں سوار ہوتے ہیں۔ اس میں سے ایک جہادی دہشت گردی کے مقصد کے تحت سوار ہوتا ہے جبکہ دوسرا ایک لاعلاج بیماری سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنی زندگی ختم کرنا چاہتا ہے۔

سعودی عرب میں چوتھی بار کسی فلم فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا ہے جسے کچھ تک حد عوامی تفریح کی اجازت کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سعودی عرب کے شہر دمام میں منعقدہ فلم فیسٹیول کے دوران تقریباً 60 فلموں کی نمائش کی گئی جن میں تقریباً ایک درجن فلمیں خواتین نے بنائی تھیں۔فلم ”ڈیپارچر“ 25 منٹ کی شارٹ فلم ہے اور اسے بہترین فلم کے ایوارڈ کے ساتھ اس کے اداکار کو بہترین اداکار کا انعام بھی ملا ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ سال ایک سرکاری محکمہ قائم کیا گیا تھا تاکہ وہ اس طرح کے پروگرامز کی نگرانی کرے۔اس کے تحت سعودی عرب کے سب سے بڑے گلوکار کے کنسرٹ کے ساتھ کامک کون فیسٹیول کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ تفریح کا سال قرار دیے جانے کے تعلق سے ابھی وہاں ایک سرکس کی نمائش بھی کی جائے گی جبکہ امریکی اداکارہ اور فلم ساز اوپرا ونفری اور اداکار الپچینو کے پروگرامز بھی منصوبے میں شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

یمن : حوثیوں کے لیے کام کرنے والے ایرانی جاسوس عرب اتحاد کے نشانے پر

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے تعز شہر کے مشرقی حصّے میں جاسوسی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس مرکز میں ایرانی ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں جو باغی حوثی ملیشیا کے لیے کام کرتے ہیں۔

شاہ سلمان اور صدر السیسی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ اس موقع پر شاہ سلمان نے مصر کی سلامتی اور استحکام کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔