اسٹیو فوربس کی نظر میں نوٹ بندی عوام کی جائیداد پر غیر اخلاقی ڈاکہ ہے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 24th December 2016, 3:29 AM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

نئی دہلی 23/دسمبر (ایس او نیوز/ ایجنسی)نوٹ بندی کو غیر اخلاقی مہم قرار دیتے ہوئے مشہور ومعروف انگریزی میگرئین فوربس کے چیف ایڈیٹر اسٹیو فوربس نے اسے عوامی جائیداد پرڈاکہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق  نہ انسانی فطرت کبھی بدلی ہے، نہ بدلے گی، اور غلط کام کرنے والے لوگ غلط کام کرنے کے لئے راستہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں، اس لئے بھارت کی حکومت کی طرف سے کرپشن، کالے دھن اور دہشت گردی کے سائے سے نجات حاصل کرنے کے لئے اٹھائے گئے نوٹ بندی کے قدم سے کچھ حاصل نہیں ہو پائے گا.انہوں نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ سیارے کے آباد ہونے کے وقت سے ہی انسانی فطرت نہیں بدلی ہے. غلط کام کرنے والے کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتے ہیں. دہشت گرد صرف کرنسی بدل دینے کی وجہ سے اپنی بری حرکتیں بند نہیں کر دیں گے، اور دولت کا ڈیجیٹائیزیشن ہونے میں کافی وقت لگنے والا ہے، وہ بھی اس صورت حال میں، جب مفت مارکیٹ کی اجازت دے دی جائے گی.

اسٹیو فوربس کے مطابق ٹیکس چوری سے بچنے کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ عوام پر یکساں ٹیکس شرح، یا کم از کم بالکل سادہ اور کم شرح والی ٹیکس نظام نافذ کی جائے، جس کے نتیجے میں عوام کو ٹیکس چوری کرنا ہی بیکار لگنے لگے. سٹیو کے مطابق قانونی طور پر کاروبار کرنے میں آسانی اور عوام کو سہولت دی جائے تو بیشتر لوگ صحیح کاروبار کریں گے.

اسٹیو فوربس کا کہنا ہے کہ بھارت اس وقت نقدی کے خلاف حکومتوں کے دماغ میں چڑھی خواہشات کی سب سے زیادہ انتہائی مثال ہے. بہت سے ملک بڑی رقم کے نوٹوں کو بند کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، اور وہی دلیل دے رہے ہیں جو ہندوستان کی حکومت نے دیئے ہیں، لیکن یہ سمجھنے میں کوئی چوک نہیں ہونی چاہئے کہ اس کا حقیقی مقصد کیا ہے - آپ کی پرائیویسی پر حملہ کرنا اور آپ کی زندگی پر حکومت کا زیادہ سے زیادہ کنٹرول مسلط کرنا ہے۔

اسٹیو فوربس کے مطابق، ہندوستانی حکومت کی یہ سخت کارروائی غیر اخلاقی بھی ہے، کیونکہ کرنسی وہ چیز ہے جو لوگوں کی طرف سے پیدا ہوتی اشیاء کی نمائندگی کرتی ہے. کرنسی بالکل ویسا ہی وعدہ ہوتی ہے، جیسا کوئی سینما یا پروگرام میں شامل ٹکٹ ہوتی ہے، جو آپ کو سیٹ ملنے کی ضمانت دیتی ہے. اس طرح کے وسائل حکومتیں نہیں، لوگ پیدا کرتے ہیں. جو بھارت نے کیا ہے، وہ لوگوں کی جائیداد کی بہت بڑے پیمانے پر چوری ہے جو جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کی طرف سے کئے گئے ہونے کی وجہ سے زیادہ چونکاتی ہے. ایسا کچھ وینیزوئیلا جیسے ملک میں ہوتا تو شاید اتنی حیرانی نہیں ہوتی. اور اس سے بھی کوئی حیرانی نہیں ہوتی کہ حکومت اس حقیقت کو چھپا رہی ہے کہ اس ایک قدم سے ایک ہی جھٹکے میں دسیوں ارب ڈالر کا نقصان ہونے جا رہا ہے.

اب بھارت کو گلوبل پائور ہائوس بننے کے لئے جو کام یقینی طور پر  کرنا ہے وہ   یہ ہے کہ حکومت انکم اور بزنس ٹیکس کی شرح کو کم کرے، اور پورے ٹیکس ڈھانچے کو آسان بنائے، روپے کو سوئس فرینک کی طرح طاقتور کرنسی میں تبدیل کرے اور قوانین کو کم سے کم کرے، تاکہ عوام کو بغیر کسی لاگت کےکچھ ہی منٹوں میں نیا کاروبار شروع کرنے میں آسانی ہو۔

خیال رہے کہ فوربس ایک ہفتہ وار‘ امریکی بزنس میگزین ہے-اس کے مضامین عمو ما صنعت اورتجارت سے متعلق ہو تے ہیں- فوربس اپنی رینکنگز کی وجہ سے خاصا مشہور ہے-اس کا ہیڈ کوارٹر نیو یارک میں ہےاور اس کا موجودہ مدیر اسٹیو فوربس ہے

ایک نظر اس پر بھی

حلال آمدنی کے نام پر سرمایہ کاروں کو ٹھگنے کا الزام۔ہیرا گولڈ کی چیف نوہیرا شیخ حیدرآباد میں گرفتار۔ سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر

کئی برسوں سے ’ہیرا گولڈ‘ کے نام سے کمپنی چلانے اور حلال آمدنی کا وعدہ کرکے ہزاروں افراد سے سرمایہ کاری کروانے والی عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو حیدرآباد پولیس نے سرمایہ کاروں کو ٹھگنے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

دگ وجے سنگھ کی تقریر سے ووٹ کٹتے ہیں،وائرل ویڈیو میں اظہارخیال

مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ کاایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے ، جس میں وہ مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ ان کی تقریر کرنے سے ووٹ کٹتے ہیں۔

مہاراشٹرا: محکمہ تعلیمات کی کتاب میں حضرت محمدؐ کی خیا لی تصویر سے ہنگامہ

حکومت مہاراشٹرا کے محکمہ تعلیمات کی جانب سے ’سر وشکشا ابھیان‘ کے بک لیٹ ’ آدرش گوشٹھی‘ ( بمعنی مثالی کہانیاں ) میں حضر ت محمدؐ کی خیا لی تصویر شائع کیے جانے پر مسلمانوں کے جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔

ہوٹل میں سابق بی ایس پی رہنما کے بیٹے کی غنڈہ گردی سے پارٹی نے جھاڑا پلہ

دہلی کے پانچ ستارہ ہوٹل حیات میں ایک شخص نے سرعام غنڈہ گردی کی۔پستول لے کر لڑکی اور اس کے دوست کودھمکاتے ہوئے اس کا ویڈیو وائرل ہوا۔ملزم یوپی کے امبیڈکر نگر سے بی ایس پی کے سابق ممبر پارلیمنٹ راکیش پانڈے کابیٹاہے۔

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...