اشتعال انگیز بیانات کے لئے یڈی یورپا اور شوبھا کرندلاجے کے خلاف کارروائی کامطالبہ۔۔بھٹکل ا یس ڈی پی آئی کاصدر ہند کے نام میمورنڈم

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 16th July 2017, 2:27 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل15؍جولائی(ایس او نیوز) بی جے پی کے رہنما اورسابق وزیر اعلیٰ یڈی یورپا سمیت رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے کے حال ہی میں مینگلور میں دئے گئے  اشتعال انگیز بیان کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے آج بھٹکل میں سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیاکے کارکنوں نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور صدرہند پرنب مکھرجی کے نام میمورنڈم پیش کیا۔

خیال رہے کہ یڈی یورپا نے مینگلور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنوبی کینرا میں پھیلی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کے معاملے میں آر ایس ایس لیڈر کلڈکا پربھا کر کو اگر پولیس انگلی بھی لگائے گی تو پورے کرناٹکا میں آگ بھڑک اٹھے گی۔

اس پس منظر میں سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا بھٹکل یونٹ کی طرف سےمیمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ  یڈی یورپا اور شوبھا کرندلاجے کے  خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی پارلیمانی رکنیت باطل قرار دیا جائے۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ جنوبی کینر اضلع میں پچھلے قریب دو ماہ سے فرقہ وارانہ بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ اس دوران چاقو زنی اور قاتلانہ حملوں کی 12وارداتیں ہوئی ہیں۔ دو معصوم افراد کا قتل ہوا ہے۔ پولیس کی طرف سے حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے دفعہ 144لاگو کرنے کے باوجود بی جے پی لیڈر شوبھا کرندلاجے اور نلین کمار کٹیل نے بی سی روڈ پر ہزاروں افراد کی بھیڑ جمع کرکے اشتعال انگیز تقاریر کیں اور امن وشانتی بگاڑنے کی کوشش کی۔اس ضمن میں بنٹوال پولیس اسٹیشن میں ان دونوں پر مقدمہ بھی درج کیا گیاہے۔

یادداشت میں کہا گیا ہے کہ شرتھ مڈیوال کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے پولیس تحقیقات جاری رہنے کے باوجود بی جے پی کے ارکان پارلیمان غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرتے ہوئے پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی پر قتل میں ملوث ہونے کا بے بنیا د الزام لگا رہے ہیں۔ یہ دراصل بی جے پی قائدین کی طرف سے پولیس تحقیقات کا رُخ موڑنے کی ایک چال ہے، جس کے ذریعے وہ قتل کے الزام میں بے گناہ لوگوں کو پھنسانا چاہتے ہیں۔اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے کارتھک راج مرڈر کیس اور شیموگہ میں ہوئے ایک نوجوان کے قتل میں بھی پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی پر اسی طرح الزامات لگائے تھے مگر پولیس تحقیقات سے یہ بات صاف ہوگئی تھی کہ وہ قتل خاندانی رنجش کی وجہ سے ہوئے تھے۔

میمورنڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ شوبھا کرندلاجے اور نلین کمار کٹیل نے ہوم منسٹر راج ناتھ سنگھ کو لکھے گئے مراسلے میں جنوبی کینر ا میں سنگھ پریوار کے رضا کاروں کو قتل کیے جانے کی 23وارداتوں کا ذکر کیا ہے ، مگر ان میں زیادہ تر معاملات آپسی دشمنی ،خاندانی رنجش اور گروہی رقابت کے ہیں۔اور ان اراکین پارلیمان نے اسے بے شرمی کے ساتھ فرقہ وارانہ معاملہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔اس سے بھی زیادہ بے شرمی کی بات یہ ہے کہ ان دونوں نے اپنے مراسلے میں سنگھ پریوار کے غنڈوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے ہریش پجاری، پروین پجاری، کرشنیا پاٹالی، ونئے کمار بالیگا، مصطفی کاوور، اشرف کلائی، جلیل کروپاڈی، صفوان پٹلا، اور ناصر جیسے بے گناہ مقتولوں کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

اس یادداشت میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ گزشتہ 4برسوں سے قتل عام اور خودکشی کے معاملات کو بھی بی جے پی اور سنگھ پریوار والے فرقہ وارانہ رنگ دینے اور عوامی جذبات کو مشتعل کرنے میں مصروف ہیں۔سوگوار خاندانوں کے جذبات کی قیمت پر سیاست چمکانے والے ان لیڈروں کوجب تک قانون کی لگام نہیں لگتی ، تب تک فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم نہیں ہوسکتی۔اس لئے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی سے ریاست میں انتشار اور انارکی پھیلانے والے بی جے پی کے ارکان پارلیمان و اسمبلی اور سنگھ پریوار کے لیڈران پربھا کر بھٹ، شرن پمپ ویل، جگدیش شینو، مرلی راؤ ہنسدتڑک، ستیہ جیت سورتکل وغیرہ کے خلاف مقدمے دائر کیے جائیں۔اورپارلیمان اور ریاستی اسمبلی سے ان کی رکینت ختم کردی جائے۔

بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کی غیر موجودگی میں دفتر کی ایک کارکن نے میمورنڈم وصول کیا۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی بھٹکل کے کافی ذمہ داران موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل:راگھویندرا بھٹ اور وٹھل داس کو بھٹا کلنکا ایوارڈ : یوم صحافت کی مناسبت سے جرنالسٹ اسوسی ایشن کا خصوصی پروگرام

بھٹکل جرنالسٹ اسوسی ایشن کی طرف سے ہرسال یوم صحافت کے موقع پر دئیے جانےو الے ’’بھٹاکلنکا ‘‘ ضلعی ایوارڈ کے لئے ریاست کے مشہور کنڑا روزنامہ ’’پرجا وانی ‘‘ کے بھٹکل رپورٹر راگھویندر بھٹ جالی اور ہبلی زون ہوسدگنت کے وٹھل داس کامت کو منتخب کیا گیا ہے۔

منگلورو:ریاست کے تمام غیر پکوان گیس باشندوں کو مفت میں پکوان گیس کا کنکشن :انیل بھاگیہ اسکیم کا بہت جلد اجراء : وزیر یوٹی قادر

ریاست میں کئے گئے سروے کےمطابق قریب 35.50لاکھ شہریوں کے پاس پکوان گیس کی سہولت نہیں ہے، وزیرا علیٰ انیل بھاگیہ (وزیر اعلیٰ گیس اسکیم )کے تحت ان تمام مستحقین کو مفت میں پکوان گیس کا کنکشن دیاجائے گا،اس طرح پورے ملک میں ریاست کرناٹکا وہ پہلی ریاست ہوگی جس کے تمام باشندے پکوان گیس کی ...

کیا آنند اسٹونیکر کاروار سے جے ڈی ایس کے امیدوار ہونگے؟

حالانکہ اگلے اسمبلی انتخابات کے لئے ا بھی کافی عرصہ باقی ہے ، مگر امیدواری کی آس لگانا اور ٹکٹ پانے کے لئے جد وجہد کرناابھی سے سیاسی لیڈروں کے معمولات میں شامل ہوگیا ہے۔کاروار سے ملنے والی خبروں پر اگر بھروسہ کریں تو آنند اسنوٹیکر بی جے پی سے پالا بد ل کر جنتا دل میں داخل ہونے ...