اروند کیجریوال کے مشیر وی کے جین نے دیا استعفی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th March 2018, 11:11 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ،13؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے مشیر وی کے جین نے ذاتی وجوہات اور خاندانی وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔غور طلب ہے کہ چیف سکریٹری انشو پرکاش کے ساتھ ہوئی مبینہ مار پیٹ کے معاملے میں کچھ ہی دن پہلے پولیس نے جین سے پوچھ گچھ کی تھی۔ذرائع میں سے ایک نے بتایاکہ جین نے ذاتی وجوہات اور خاندانی وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلی کے مشیر کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ذرائع نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلی کے دفتر کو اپنا استعفیٰ سونپ کر اس کی ایک کاپی لیفٹیننٹ گورنر کو بھیج دی ہے۔غور طلب ہے کہ دہلی شہری پناہ بہتری بورڈ کے سی ای او کے عہدے سے سروس سے برطرف ہونے کے کچھ ہی دن بعد جین کو ستمبر، 2017میں اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔بورڈ کے چیئرمین کیجریوال ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ واقعہ کے بعد ہی جین وزیر اعلی کے دفتر نہیں آ رہے تھے اور ایک ہفتے کی میڈیکل چھٹی پر تھے۔وزیر اعلی کی رہائش گاہ پر 19فروری کو ہوئی ایک میٹنگ کے دوران آپ کے ممبران اسمبلی نے پرکاش کے ساتھ مبینہ طور پر مار پیٹ کی تھی۔دہلی پولیس نے گزشتہ ہفتے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ تفتیش کے دوران جین نے انکشاف کیا ہے کہ کیجریوال کی رہائش پر آپ ممبران اسمبلی پرکاش جاروال اور امانت اللہ خان نے چیف سکریٹری کو گھیر لیا اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔جین نے پہلے کہا تھا کہ انہوں نے کچھ نہیں دیکھا ہے کیونکہ واقعہ کے وقت وہ ٹوائلٹ گئے تھے۔پرکاش کے ساتھ ہوئی مبینہ مارپیٹ کے وقت وزیر اعلی کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا بھی موجود تھے۔ پرکاش کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے آئی اے ایس اور دہلی، انڈمان نکوبار جزائر سول سروس کے افسران نے وزراء کی طرف سے منعقد ملاقاتوں میں حصہ نہیں لے رہے ہیں، اور ان کے ساتھ صرف تحریری بات چیت کر رہے ہیں۔دہلی حکومت کے ملازمین کی مشترکہ پلیٹ فارم نے اس سلسلے میں کیجریوال اور سسودیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مولانا اسرارالحق قاسمی بلا تفریق مذہب و ملت غریبوں کے مسیحا تھے : نتیش کمار بہار کے وزیر اعلیٰ نے کشن گنج پہنچ کر اہل خانہ سے کیا تعزیت کا اظہار

ملک کے معروف عالم دین وممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی کی رحلت پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کے لئے آج بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کشن گنج پہنچے اور ان سے ملاقات کرکے مرحوم کی وفات پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیااور مولانا کی روح کے سکون کے لئے دعاء کی۔

پانچ ریاستوں میں بی جے پی کی شرمناک شکست کے بعد لکھنو میں لگے ’یوگی لاؤ، دیش بچائو‘ کے بینرس؛ نو نرمان سینا کے خلاف معاملہ درج

انچ ریاستوں میں ہوئے الیکشن میں بی جے پی  کو جس شرمناک  شکست  کا سامنا کرنا پڑا، اُس کے نتیجے میں  اتر پردیش نو نرمان سینا نے لکھنو میں جگہ جگہ مودی کی مخالفت میں بڑے بڑے بینرس لگادئے  جس پر بڑا تنازعہ پیدا ہوگیاہے۔البتہ انتظامیہ کو واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ میں  ہنگامہ مچ ...

مولانااسرارالحق قاسمی نے تعلیمی وسماجی میدانوں میں بے مثال خدمات انجام دیں، ملی کونسل کے زیر اہتمام تعزیتی اجلاس کا انعقاد

ملک کے مقبول و ممتاز عالم دین اور ممبر آف پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی کی رحلت پر ملی کونسل کولکاتا کی جانب سے تعزیتی نشست منعقد کی گئی،جس میں شہر کی اہم علمی وسماجی شخصیات نے شرکت کی اور مولانا مرحوم کی بے مثال ملی خدمات اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔ اس موقع پر ...

شراکت داری سے ہی اہداف کاحصول ممکن ، پی ایم این سی ایچ شراکت فورم میں وزیراعظم کاخطاب 

وزیراعظم نے پی ایم این سی ایچ شراکت فورم میں خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ صرف شراکت داری سے ہم اپنے اہداف کوحاصل کر سکتے ہیں۔شہریوں کے مابین شراکت داری ،برادریوں کے مابین شراکت داری ، ممالک کے مابین شراکت داری ہمہ گیر ترقی ایجنڈا اس کی جھلک ہے۔ ملک متحدہ کوششوں سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ ...

لکھنؤ میں ’یوگی فارپی ایم‘ کے ہورڈنگ،’جملے بازی کا نام مودی، ہندوتو کا برانڈ یوگی‘

اتر پردیش کی دارالحکومت لکھنؤ میں لگے کچھ ہورڈنگ بدھ کو بحث میں آگئے، جس پر’یوگی فارپی ایم‘ لکھا ہے۔ایک طرف مودی کی تصویر ہے تو دوسری طرف یوگی کی۔مودی کی تصویر نیچے لکھا ہے’جملے بازی کا نام مودی اور یوگی کی تصویر نیچے لکھا ہے’ہندوتو کا برانڈ یوگی‘۔دارالحکومت میں 2-3مقامات ...

کیا ’مودی کا جادو‘ ختم ہو رہا ہے:تجزیہ 

بھار ت کی پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں زبردست شکست کے بعد یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ آیا حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا زوال شروع ہوچکا ہے اور وزیر اعظم نریندر ’مودی کا جادو‘ ختم ہو رہا ہے؟اسی کے ساتھ حکمران جماعت بی جے پی میں ایسی چہ مگوئیاں بھی شروع ...