پٹنہ میں دین بچاؤ،دیش بچاؤکانفرنس کا کامیاب اورتاریخ سازانعقاد؛ دلت، مسلم اتحادکا عظیم مظاہرہ: تشدد،خواتین کے استحصال اورمآب لنچنگ پرحکومت سے سخت کارروائی کامطالبہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 16th April 2018, 2:36 AM | ملکی خبریں |

پٹنہ15اپریل(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) گاندھی میدان پٹنہ میں آج دین بچاؤ،دیش بچاؤکانفرنس کاکامیاب اورتاریخ سازانعقادہوا۔امارت شرعیہ کی آوازپربہار،بنگال ،اڑیسہ اورمضافاتی ریاستوں سے تقریباََپچیس لاکھ افرادنے شرکت کی۔خوش آئندبات یہ رہی کہ سترہزارسے زائددلت بھی شریک ہوئے۔اس اجلاس سے سرکارکوسیدھا سیدھا پیغام دیاگیاہے۔

مقررین نے اناؤاورکشمیرواقعہ کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف حکومت خواتین کی حفاظت کے بارے میں بات کرتی ہے اورلالی پاپ دے کرطلاق بل پرہمدردی جتاتی ہے اور دوسری طرف معصوم لڑکیاں ملک میں محفوظ نہیں ہیں۔اترپردیش اور جموں میں ہوئے واقعہ کی یہ کانفرنس مذمت کرتی ہے اور اس کانفرنس کے ذریعے ہمارامطالبہ ہے کہ حکومت مجرموں پر ایسی سختی برتے کہ آگے سے ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہیں ہو۔اس طرح کے مجرمین کو سخت سزادی جانی چاہیے۔

کانفرنس میں دلت، مسلم اتحادکے ساتھ ساتھ خودمسلمانوں سے یکجہتی اورمسلک کے نام پرتفرقہ سے پرہیزکرنے اورمتحدہونے کی اپیل کی گئی۔انہیں خوف کی نفسیات سے باہرہونے کاپیغام دیاگیا۔انصاف پسندبرادرانِ وطن سے ملک کی گنگاجمنی فضاکوبرقرارکھنے میں تعاون مانگا گیا۔ کانفرنس میں مولانا عبیداللہ خان اعظمی ،دلت لیڈررامیشورم،جمیعۃ علماء بہارکے صدرحسن احمدقادری،ادارۂ شرعیہ کے مولانا ثناء اللہ، سجادہ نشیں منیرشریف، مولانا ابوطالب، مولاناعمرین محفوظ، جمیعۃ اہل حدیث کے مولانا اصغرامام مہدی، جماعت اسلامی کے مولانا رضوان احمداصلاحی،مفتی سہراب ندوی، مولاناانیس الرحمان قاسمی، مولاناسہیل ندوی،مولاناشبلی قاسمی،مفتی ثناء الہدی قاسمی اورشیعہ ،اہل حدیث وبریلوی طبقات سمیت دیگراہم علماء ودانشوران شریک رہے۔

آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکرٹری اورامارت شرعیہ کے امیرشریعت مولانامحمد ولی رحمانی نے اپنے خطاب میں کہاہے کہ ہم نے چار سال انتظار کیا اور سوچا کہ بی جے پی آئین کے تحت ملک چلانا سیکھ لے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے شرعی قوانین پرحملہ کیا جا رہا ہے۔ہمیں اپنے لوگوں اورمحبین وطن کوبتانا ہے کہ ملک کے ساتھ ساتھ اسلام کے لیے بھی خطرہ ہے۔مولاناولی رحمانی نے دوٹوک لفظوں میں  کہا  کہ ہم سب شریعت میں مداخلت کرنے کی ہر کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔ہماری مانگ یہ ہے کہ حکومت اپنے رویے میں تبدیلی لائے ۔بھیڑ کی طرف سے تشدد اور کچھ بے لگام رہنماؤں کے بیان بازی کے ذریعہ ملک کے مسلمانوں، دلتوں اورپسماندہ طبقات میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔حکومت سے ہمارا خواہش یہ ہے کہ معاشرے میں مساوات اورامن کو برقرار رکھے۔مولانامحمدولی رحمانی نے قبائل،برادری ،مسلک اورمذہب کے نام پرتفرقہ کوچھوڑنے اورباہمی اتحادکی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہم مسلک پرعمل کرتے رہیں،مسلک پرجھگڑانہ کریں۔یہ تھوڑے تھوڑے فاصلے اوریہ راستے شہنشاہ کونین ﷺتک پہونچتے ہیں۔اسلام نے تقوی اورپرہیزگاری کومعیاراورمطلوب بنایاہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ نفرتوں،دوریوں اوراونچ نیچ کے جن احساسات کوہمارے آقاﷺنے مٹایا،ہم انہیں پنپنے نہ دیں۔انہوں نے کمزورطبقات سے خوف کی نفسیات سے نکلنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مشقتوں کوقبول کیجیے،اجتماعی زندگی کے لیے وقت نکالیے۔انہوں نے دلتوں کی تحریک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک کمیونٹی کھڑی ہوئی توسرکارہل گئی۔زندہ قومیں خوف کے ماحول میں نہیں رہتیں،نظم وضبط کے ساتھ زندگی گذارتی ہیں۔جہاں بھی رہیں ،حوصلہ وہمت کے ساتھ رہیں۔امیرشریعت نے بھیڑکے ذریعہ فسادات اوراشتعال انگیزی اورماب لنچنگ کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ قانون کی دھجیاں اڑانے والے لوگ ایسے حالات پیداکررہے ہیں جن کے نمائندے اقتدارمیں ہیں۔ان کے مظالم کے شکارمسلمان ،دلت ،قبائلی ،سکھ ،عیسائی تمام اقلیتی طبقات کے افرادہیں۔تمام مظلوم طبقات کوساتھ آناہوگا۔

مولانامحمدولی رحمانی نے دستخطی مہم اورخواتین کی ریلیوں کی کامیابی پرمسلمانوں کومبارک باددی ۔ساتھ ساتھ انہوں نے کانفرنس کے ا نعقادمیں پورے تعاون کے لیے امارت شرعیہ کے ساتھ ساتھ،تمام ملی تنظیموں کاشکریہ اداکیا۔جمیعۃ علماء،جماعت اسلامی،جماعت اہل حدیث،شیعہ،ادارہ شرعیہ،خانقاہ مجیبیہ، خانقاہ عمادیہ،خانقاہ منعمیہ،خانقاہ منیرشریف، خانقاہ دیوان شاہ ارزاں،ادارہ تیغیہ،تنظیم ائمہ مساجد،مجلس استقبالیہ،مختلف انجمنوں اوررضاکاروں کی مخلصانہ کوششوں کی تعریف کی۔ مولاناعبیداللہ خان اعظمی نے کہاکہ ملک غلط ہاتھوں میں ہوئے جوصرف نفرت پھیلانے کاکام کررہی ہے،چاروں مسلک ساتھ ہیں۔کیاہم اتحادکے لیے ہم اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں کوفراموش نہیں کرسکتے ہیں۔

مسلم پرسنل لاء بورڈکے قیام کے وقت احمدرضاخان بریلوی کے بیٹے جوسجادہ نشیں تھے،انہوں نے مولانابرہان الدین صاحب کوبھیجاتھا،تاکہ مسلمان متحدہوسکیں۔دلت تنظیم بام سیف کے کل ہندصدررامن میشورام نے کہاکہ ہم پورے طورپرمسلمانوں کے ساتھ ہیں،ان کے دکھ دردمیں شریک ہیں اورسترہزارسے زائدکی تعدادمیں دلت شریک تھے۔مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ ارریہ، پھول پور اور گورکھپور میں عوام نے مرکز کو تین طلاق دے دی ہے۔انہوں نے کہاکہ کمزوروں کی حفاظت کے لیے آگے آناہوگا۔اس موقع پرمولانا ابو طالب رحمانی نے کہا کہ جس کا باپ مضبوط ہوتاہے اور اس کی اولاد بھی مضبوط ہوتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ کروڑوں خواتین نے دستخط کرکے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کومسترد کیا تھا پھر بھی تین طلاق بل کو لا کر ساری مسائل کے حل نکالنے کادعویٰ کیاجارہاہے۔ہمیں دین اور ملک دونوں کوبچانا ہوگا۔انہوں نے دوٹوک کہا ہے کہ ہم سب شریعت میں مداخلت کرنے کی ہرکوشش کی مذمت کرتے ہیں۔ہماری مانگ یہ ہے کہ حکومت اپنے رویے میں تبدیلی کرے ۔بھیڑ کی طرف سے تشدداورکچھ بے لگام رہنماؤں کے بیان بازی کے ذریعہ ملک کے مسلمانوں، دلتوں اورپسماندہ طبقات میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔حکومت سے ہمارامطالبہ ہے کہ معاشرے میں مساوات اورامن کو برقرار رکھے۔

کانفرنس کے سلسلے میں گاندھی میدان میں سیکورٹی انتظامات کے لیے 5000پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ۔گاندھی میدان میں خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیاگیاتھا۔اس کے ساتھ ساتھ، شہر کی کئی چوکوں میں پولیس فورسز کو تعینات کیاگیاتھا۔سیکورٹی کے لیے تقریباََ 300مجسٹریٹ اور 350 پولیس افسران تعینات کیے گئے ۔ 150سی سی ٹی وی کیمرے کی مکمل پروگرام کی نگرانی کی جا رہی تھی۔گاندھی میدان میں آنے والوں کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں پینے کا پانی اور ایمبولینس کابھی بندوبست کیا گیا تھا۔اس موقع  پرعظیم آبادوالوں کی فراخ دلی کابھی بھرپورمظاہرہ ہوا،مہمان ایک دن قبل سے پہونچنے لگے تھے۔مدارس ومکاتب ومساجد،خانقاہوں اورمسافرخانوں میں مہمانوں کے رہنے اورکھانے پینے کابھرپورانتظام تھااوررضاکاردل کھول کرخدمات انجام دے رہے تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

اے ایم یوریزرویشن: مولانا ولی رحمانی نے پیش کیا 50-50 کا فارمولہ، اولڈ بوائزنے ٹھکرائی تجویز

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق  بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے ایم یوکو لے کرپولرائزیشن کی سیاست کی جارہی ہے۔ اس پرپرسنل لا بورڈ نے 50 فیصد مسلم اور 50 فیصد دلت ریزرویشن  کی تجویز پیش کردی۔

چنئی میں 12سالہ بچی کی 7 مہینوں تک عصمت دری ؛ 17 گرفتار؛ عدالت میں وکیلوں نے کیا ملزموں پر حملہ؛ کوئی نہیں لڑے گا کیس

چنئی میں 11سال کی بچی کی مبینہ طور سے عصمت دری کرنے کے الزام میں پولیس نے18  لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان لوگوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک اپارٹمنٹ میں سات مہینوں تک بچی کا جنسی استحصال کیا۔ گرفتار ملزموں کو منگل کو کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں مشتعل ہجوم نے ملزموں کی پٹائی کردی۔