بھٹکل: مٹھلی اور تلاند سڑک کا برج خستہ حال : ہردن عوام جان ہتھیلی پر لے کر گزرتے ہیں

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 21st April 2017, 9:23 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل:21/اپریل(ایس اؤنیوز)خستہ حال اور بوسیدہ پُل سے گزرنا موت کو دعوت دینے جیسا ہے، عوام کے لئے تکلیف دینےو الے اس برج کے بدلے ایک نیا پل تعمیر کرنے اور برج کے کناروں پر باڑ لگاکر عوامی جان کو عافیت دینے کاعلاقائی عوام نے متعلقہ افسران سے مطالبہ کیاہے۔

شہر سے متصل ہونے کے باوجود شہر کے درمیان سے گزرنے والی ریلوے لائن کی وجہ سے مٹھلی کا علاقہ شہر سے الگ ہو کر دیہات کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ مٹھلی سے تلاند جانے والی پرانی سڑک پر عوامی چہل پہل ہی نہیں بلکہ کئی سواریاں بھی گزرتی ہیں،علاقہ میں پتھر کان کنی ہونے سے زیادہ تر لاریوں کی آمدو رفت ہوتی رہتی ہے، تلاند سڑک پر تعمیر شدہ پُل ، ملٹی پرپز برج کہلاتاتھا، اس وقت سواریوں کی بھاگ دوڑ زیادہ نہیں تھی، پل کے اس طرف مکانات بھی کم ہونے سے برج کی تعمیر ایک گڑھے میں کی گئی ، ایک طرف بندھ نما روک لگا کر گرمی کے موسم میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کے لئے سہولت دی گئی تھی۔ اس وقت کے افسران اور عوامی نمائندوں کا مقصد یہی تھا کہ برج کی تعمیر اس طرح کرنے سے دونوں مقاصد حاصل ہونگے۔ لیکن دن گزرتے سواریوں کی بھاگ دوڑاور کان کنی کی وجہ سےحد سے زیادہ لاریوں کی گزر نے پُل کو خستہ کرکے خطرناک حالت پر لاکھڑا کیا ہے۔ ایک طرف سے ایک لاری آتی ہے تو سامنے سے ایک بائک کا گزرنا بھی محال ہے۔ موسم باراں میں تھوڑی سے بھی بارش ہوتی ہے تو انسانوں اور جانوروں کو برج پار کرنے کے لئے گھنٹوں انتظارکرناپڑتاہے۔ عوام نے بتایا کہ ابھی کچھ دن پہلے سامنے سے آتی ہوئی لاری کو دیکھ کر 2لڑکیوں نے اپنی سواری کےساتھ نیچے گرکر معمولی زخموں سے عافیت پاگئے، آئندہ جو کچھ ہوگا ایسا ہی ہوگا کہنا مشکل ہے اس لئے بڑے خطرے کودعوت دینے کے بجائے وقت سے پہلے اس کو بدل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

علاقے کی سینکڑوں سواریاں ، اسکولی بچے ہمیشہ خطرے کی گھنٹی بجارہے اسی برج سے گزرتے ہیں ،کان کنی کی لاریوں بھاگ دوڑ سے بھی عوام پریشان ہیں، کسی زمانے میں تعمیر کردہ برج آج اپنی عمر پوری کرچکا ہے خستہ ہوگیا ہے، مقامی عوام کا کہنا ہے کہ برج اتنا خستہ ہوگیا ہے کہ پُل کے لوہے کی سلاخیں باہر نکل کر بہتے پانی کو روک رہی ہیں،عوام کو ہردن اس برج سے گزرتے ہوئے خوف محسوس ہوتاہے ، اسی لئے پُل کو مزید اونچا کرکے دوبارہ تعمیر کریں تو علاقہ کے عوام کو راحت ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔

برج کے متعلق مٹھلی گرام پنچایت کی سابق نائب صدر پاورتی نائک نے بتایا کہ برج بہت نیچے اور موڑ پر ہونے کی وجہ سے خطرہ زیادہ ہے، پرسوں ہی دو لڑکیاں برج سے نیچے گرکر جان عافیت پائی ہیں، ہمیشہ اس طرح کا خطرہ لگارہتاہے،برج کے متعلق متعلقہ افسران توجہ دے کر اقدام کریں تو عوام کو آسانی ہونے کی بات کہی۔

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو:شریعت کا عملی نمونہ ہی غلط فہمیوں کو دور کرسکتاہے: مسلم پرسنل لاء جلسہ میں محمد کوئیں کا خطاب

موجودہ دنیا میں سرمایہ دار اپنےمفاد کے لئے سوشیل نیٹ ورک، میڈیاکے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کے متعلق دیگر مذاہب کے لوگوں کو متعصب بنانے کی کوشش میں ہیں، اسلاموفوبیا کے نام پر عوام میں خوف پید اکیا جارہاہے، اگر مسلمان اس ماحول سے باہر آنا چاہتے ہیں ، غلط فہمیوں کو دورکرنا چاہتے ...

بھٹکل :ملک میں آج بھی چھوت چھات جاری ہے؛مغل اور دیگر اقتدارمیں مساوات تھی :امبیڈکر جینتی میں سبھاش کاناڑے

ہندوستان میں آج بھی چھوت چھات زندہ ہے، جب کہ مغل ، فرنچ سمیت بیرونی حکومتوں میں مساوات کا بھر پور موقع تھا، ان باتوں کا اظہار ا بھارتیہ دلت ساہتیہ اکیڈمی دہلی کے جنوبی ریاستوں کے سکریٹری سبھاش کاناڑے نے کیا۔وہ یہاں اتوار کو کرناٹکا پسماندہ ذات، طبقات ، درج فہرست ریزرویشن ...

بھٹکل کی اپاہج تعلیم یافتہ لڑکی کو مصنوعی پیر جوڑنے کے لئے رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے دیا تعاون

پیدائشی دونوں پیروں سے اپاہج شرالی کی نوجوان لڑکی ، ڈگری یافتہ سماریہ بنت محمد یوسف کو مصنوعی پیر جوڑنے کے لئے مقامی رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے خطیر رقم کی مدد کرتےہوئے عوامی ستائش کے قابل کام انجام دیا ہے۔

منگلورو میں کارتیک راج قتل معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے والے یڈیورپا اور نلین کمار سے یوٹی قادر نے کیا استعفیٰ کا مطالبہ

جیرو سدرشن نگر کے مکین کارتیک راج قتل معاملے میں ملزموں کی گرفتار ی پر ریاستی کابینہ کے وزیر یوٹی قادر سمیت سیاسی لیڈران، تنظیموں اور اداروں کے عہدیداران نے پولس کو مبارکباد دیتے ہوئے ا ن کی ایمانداری کی ستائش کی ہے۔

احمد قریشی معاملے میں2مئی کو "منگلوروچلو"پروگرام سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے: یونائٹیڈ مسلم فرنٹ

مبینہ طور پر پولیس کسٹڈی میں ٹارچر کی وجہ سے زخمی ہونے والے احمد قریشی کو انصاف دلانے کے لئے جنوبی کینرا کی مسلم جماعتوں اور اداروں کے نمائندوں پر مشتمل یونائٹیڈ مسلم فرنٹ تشکیل دیا گیا تھا۔