غلط فہمیوں کے ازالہ کے ذریعہ ہم آہنگی کا قیام ممکن: کامن سیول کوڈ کی تجویز مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم ؛ جسٹس سچر کا انٹرویو

Source: A H Mansoor | By I.G. Bhatkali | Published on 28th November 2016, 10:27 PM | ریاستی خبریں | انٹریو |

بنگلورو۔28/نومبر(عبدالحلیم منصور/ ایس او نیوز) دس سال قبل ملک میں مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی، معاشی اور سیاسی صورتحال سے متعلق حقائق کو منظر عام پر لاتے ہوئے مسلمانوں کی صورتحال کو دلت اور پسماندہ طبقات سے بدتر قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کی فلاح وبہبود کیلئے مفید مشورے پیش کرنے والے 92سالہ جسٹس راجیندرا سچرنے ڈنکے کی چوٹ پر بتایا کہ سچر کمیٹی سفارشات کا نفاذ تسلی بخش نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ سچر کمیٹی سفارشات کے نفاذ کا جائزہ اب پروفیسر امیتابھ کنڈو کے ذریعہ لیاجارہاہے۔ شہر میں کرناٹکا مسلم کوآرڈینیشن کمیٹی کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے آئے ہوئے جسٹس راجیندرا سچر نے بنگلورنامہ نگار عبدالحلیم منصور سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکمران طبقہ کی جانب سے اقلیت اور اکثریت کے درمیان خلاء پیدا کرتے ہوئے انہیں متحد ہونے سے روکاجا رہا ہے، اور اس خصوص میں اقتدار کیلئے بے ایمانی کے ساتھ پروپگنڈہ کیا جارہاہے۔ ایسے میں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ غلط فہمیوں کا ازالہ کریں اور اغیار میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اس خصوص میں سچر کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ تعلیمی نصاب میں تمام مذاہب کی تعلیمات کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے بتایاکہ سچر کمیٹی صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بنی تھی،کمیٹی نے اپنے اعداد وشمار میں تمام مذاہب کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لے کر سفارشات پیش کی تھیں۔ انہوں نے بتایاکہ چونکہ سچر کمیٹی کی تشکیل وزیراعظم نے کی تھی، اس لئے اس پر کوئی قانونی بندشیں نہیں تھیں، اور جس دن کمیٹی نے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کی تھی، اسی دن اسے ویب سائٹ کے ذریعہ عام کر دیاگیاتھا۔ علاوہ ازیں کمیٹی کو موصول ہونے والے دستاویزات اور میمورنڈم وغیرہ کوآج بھی دہلی کے نہرو میوزیم لائبریری میں محفوظ رکھا گیا ہے۔

جسٹس سچر نے بتایاکہ جس حکومت کے ذریعہ سچر کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، اس کے ذریعہ ہی اس کی سفارشات نافذ نہیں ہوئیں تو موجودہ حکومت سے اس کی توقع رکھنا بے سود ہے۔ انہوں نے بتایاکہ کامن سیول کوڈ کی تجویز شرارت سے کم نہیں ہے۔ اسلام نے عورت کو جو حقوق دئے ہیں وہ کسی اور مذہب نے نہیں دئے۔ ایسے میں حکومت کو چاہئے تھاکہ وہ شریعت سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش نہ کرتی۔ جسٹس سچر نے بتایاکہ ہندو مذہب میں ماموں کی بھانجی کے ساتھ شادی کو درست قرار دیا گیا ہے، جبکہ ماموں اور بھانجی کا رشتہ مقدس رشتہ ہوتا ہے۔ اسے رشتہ ازدواج سے جوڑنا تو ہم پرستی کی علامت ہے، ان سب کو ختم کرنے کے بجائے کامن سیول کوڈ میں مداخلت کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

جسٹس سچر کی نظر میں قرآن: قرآن مجید کو ساری انسانیت کیلئے راہ ہدایت قرار دیتے ہوئے جسٹس سچر نے بتایاکہ حضورؐ نے انسانیت کے پیغام کو عام کیا ہے، ان کے مطابق جس طرح مندروں کو محکمہ مزراعی کے دائرہ میں لانے کے ذریعہ اس کی آمدنی کا استعمال ان طبقات کی فلاح وبہبود کیلئے کیاجاتاہے، اسی طرح اوقافی املاک کی آمدنی کا استعمال مسلمانوں کی فلاح وبہبود کیلئے کیاجانا ضروری ہے۔ جسٹس سچر نے بتایاکہ اس ملک کا مسلمان کسی کے رحم وکرم پر نہیں جی رہا ہے، اس ملک کو بنانے میں اور اس کی سا لمیت میں مسلمانوں کا حصہ کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ مسلمانوں کومعاشی تقویت پہنچانے کیلئے کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی تھیں ان پر عمل نہیں ہورہا ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی تھی کہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے تناسب کے اعداد وشمار ہر سال جاری کئے جائیں۔ اس پر بھی عمل نہیں ہوا ہے۔ اس ملک پر دوسروں کا جتنا حق ہے اتنا ہی مسلمانوں کا بھی ہے۔ ایسے میں اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اپنا حق نہیں ملتا تو اسے چھیننے سے بھی کترانے کی ضرورت نہیں ہے۔14فیصدآبادی والے مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے، حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جہاں بی جے پی،وہیں غیر بی جے پی حکومتوں کے ذریعہ بھی مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا ہے اور مسلمانوں کو ان کے حقوق فراہم کرنے میں انتظامیہ ایماندار نہیں ہے، ایسے میں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سڑکوں پر اتر کر احتجاج کریں اور ناانصافی کے خلاف جنگ لڑیں۔ بھوپال فرضی انکاؤنٹر معاملہ پر سیکولر جماعتوں کے موقف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس سچر نے بتایاکہ اگر کوئی سب سے بڑا دہشت گرد ہے تو وہ بابائے قوم مہاتماگاندھی کا قاتل ہے۔ مسلمان سب سے پہلے اس نظریہ کو ترک کردیں کہ یہ ملک ہمارا نہیں ہے، کیونکہ اس ملک پر مسلمانوں کا برابر کا حق ہے۔اس ملک کیلئے مسلمانوں نے بھی قربانیاں دی ہیں، مسلمانوں کے ساتھ ہورہی ناانصافیوں کو ظلم سے تعبیر کرتے ہوئے جسٹس سچر نے بتایاکہ اپنے حقوق کیلئے دوسروں کو ساتھ لے کر تحریک چلائیں، غریبی وناانصافی کے خلاف متحد ہوکر احتجاج کرنا ضروری ہے۔نوٹ بندی سے متعلق انہوں نے بتایاکہ اس سے عام لوگوں کو دشواریاں پیش آرہی ہیں، اس موقع پر کے ایم سی سی کے صدر وریٹائرڈ آئی اے ایس افسر سید ضمیر پاشاہ، ممتاز علی، تنویر احمد اور دیگر موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

میسورو:سرکاری ہال میں سیمینارکے دوران بیف کھانے پر تنازعہ 

چارواک سوشیل اینڈ کلچرل ٹرسٹ کے زیر اہتمام کلامندر میسورو کے مانیانگلا ہال میں 145Food Habits and Freedom of Expression146 کے عنوان سے جو سیمینار منعقد کیا گیا تھااس کے دوران اسٹیج پر بیف کھانے اور کھلانے کی وجہ سے ہندتووادی تنظیموں کی طرف سے اعتراضات اور مذمت کے ساتھ ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ...

ایس ڈی پی آئی کے علاقائی صدر اشرف کے قتل میں ملوث 5ملزمین گرفتار۔۔قاتلوں اور سنگھی لیڈرپربھاکربھٹ کے رابط !۔۔قتل کا مقصدفرقہ وارانہ فساد بھڑکانہ تھا!!

انسپکٹر جنرل آف پولیس پی ہری شیکھرن کے بیان کے مطابق بنٹوال کے بینجن پدوی میں گزشتہ حال ہی میں ہوئے ایس ڈی پی آئی کے علاقائی صدر محمداشرف کلائی کے قتل میں ملوث 5ملزمین گرفتارکیا گیا ہے۔

109؍ کروڑ کا دھوکہ، کلرک اور آڈٹ افسر ملزم

بروہت بنگلور مہانگر پالیکے(بی بی یم پی) کو جعلی بل ا ور دستاویزات منسلک کرکے 109؍ کروڑ روپیوں کا دھوکہ دینے پر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ محکمہ کے فرسٹ ڈویژن کلرک ماینا اور محکمہ آڈٹ کے افسر ناگراج کارنت کے خلاف السور گیٹ پولیس تھانہ میں ایف آئی آر درج کی گئی ۔

کرناٹک کا دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر بنگلور شہر اسمارٹ سٹی کی فہرست میں شامل

بشمول راجدھانی بنگلور ملک کے 30؍شہروں کو مرکزی حکومت نے اسمارٹ سٹی کے طورپر ترقی دینے کے لئے منتخب کرلیاہے۔ مرکزی وزیر برائے شہری ترقیات وینکیا نائیڈونے آج اس کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی اسمارٹ سٹی اسکیم کے تحت ان 30؍شہروں کو ترقی دی جائے گی۔