عوام کوآمدنی جاننے کاحق،عوامی نمائندے کاروبارکس طرح کرسکتے ہیں؟سپریم کورٹ کاتلخ سوال،بدعنوان لیڈروں کے خلاف تیزی سے جانچ کی ہدایت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th September 2017, 11:15 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے کچھ ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی جائیداد میں 500گنا تک کے اضافہ پرسوال اٹھایاکہ اگررہنمااوراراکین اسمبلی یہ بتا بھی دیں کہ ان کی آمدنی میں اتنی تیزی سے اضافہ بزنس سے ہوا ہے، تو سوال اٹھتا ہے کہ رہنمااور کاروبار کس طرح قانون سازبن سکتاہے؟۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اب وقت آگیاہے یہ سوچنے کا کہ بدعنوان رہنماؤں کے خلاف کس طرح جانچ ہو اور تیزی سے فاسٹ ٹریک کورٹ میں سماعت ہو۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ آج سے سالوں پہلے NNکی وورا کی رپورٹ آئی تھی، آپ نے اس پر کیا کام کیا؟ مسئلہ یہ ہے کہ آج یہ ہے۔آپ نے رپورٹ کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ عوام کو یہ جاننا چاہئے کہ رہنماؤں کی آمدنی کیاہے، یہ پوشیدہ رکھی گئی ہے اور پوشیدہ رکھی جاتی ہے۔اب سپریم کورٹ فیصلہ کرے گا کہ پچرچہ نامزدگی داخل کرتے کے وقت امیدواراپنی اور اپنے خاندان کی آمدنی کا ذریعہ ظاہرکرے یانہیں۔سپریم کورٹ نے این جی اوکی درخواست پرفیصلہ کیاہے۔کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے CBDTکے اس مہر بند لفافے کوکھولا جس میں سات لوک سبھاممبران پارلیمنٹ اور 98ممبران اسمبلی کی طرف سے انتخابی حلف نامے میں خصوصیات کے بارے میں دی گئی معلومات انکم ٹیکس ریٹرن میں دی گئی معلومات سے مختلف ہے۔حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے بتایاکہ ان تمام کے خلاف تحقیقات چل رہی ہیں اورفاسٹ ٹریک کورٹ میں کیس کو ترجیح کی بنیاد پر بھیجا جاتا ہے۔معلومات دیکھنے کے بعد سپریم کورٹ نے ناموں کو عوامی نہیں کیا، بلکہ کورٹ اسٹاف کو کہا کہ بیک اپ یہ سیل بند کر دیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ڈوکلام علاقے میں چینی فوج کے قبضے کی مبینہ تصویر،کانگریس نے مودی سرکارکوگھیرا،سرحدکی حفاظت میں ناکامی کاسنگین الزام

کانگریس نے ڈوکلام علاقے میں چینی فوج کے ذریعہ ایک بڑا فوجی ٹھکانہ بنانے کے سلسلے میں آرہی میڈیا رپورٹس اورسیٹیلائٹ تصویروں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آج کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کو گمراہ کرنے کے بجائے ملک کے عوام کواصلیت بتانی چاہیے۔

ای ڈی کے سامنے پیش ہوئے کارتی چدمبرم

سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم کے بیٹے کارتی چدمبرم آئی این ایکس میڈیا منی لانڈرنگ معاملے کی جانچ کے سلسلے میں ای ڈی کے سامنے پیش ہوئے۔ای ڈی نے کارتی کو اس معاملے کے تفتیشی افسر (آئی او)کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس بھیجا تھا۔

سپریم کورٹ نے دی فلم ’پدماوت‘ کی ملک بھر میں نمائش کی اجازت؛ بی جے پی کو زبردست دھچکا؛ کرنی سینا کی تھیٹروں میں توڑپھوڑ

سپریم کورٹ نے فلم ’’پدماوت‘‘ پر جاری تنازعہ پر ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملک کی چار ریاستوں میں عائد پابندیوں پر حکم التواء جاری کردیا اور ملک کی تمام ریاستوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ بغیر کسی روک ٹوک فلم کی نمائش کی اجازت دے،