صارفین کی جیب کو لگے گاجھٹکا،عوام کوپڑے گی مہنگائی کی مار! اپریل سے بڑھ سکتی ہیں سی این جی۔پی این جی کی قیمتیں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th March 2019, 9:07 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 15 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اپنے گھر کے بجٹ میں اور اضافہ کے لئے تیار ہو جائیے۔اپریل سے قدرتی گیس کی قیمتوں میں 18 فیصد تک کی برتری ہونے کا اندازہ ہے۔اس سے ملک میں پائپ سے سپلائی ہونے والی باورچی خانے (پی این جی) اورسی این جی کی قیمتوں میں برتری ہو سکتی ہے۔کیئر کی درجہ بندی کی ایک رپورٹ میں اس اضافے کا اندازہ جاری کیا گیا ہے۔یہی نہیں اس اضافے سے مینوفیکچرنگ، ٹریول، توانائی سیکٹر پر اثر پڑ سکتا ہے اور مہنگائی بھی بڑھ سکتی ہے۔حکومت کی سال 2014 کی گھریلو گیس پالیسی میں کہا گیا تھا کہ قدرتی گیس کی قیمتوں کا ہر6 ماہ میں جائزہ لیا جائے گا۔اس منصوبہ کے تحت اب حکومت 1 اپریل، 2019 کو گھریلو گیس قیمتوں کا جائزہ لے گی۔کیئر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمیں لگتا ہے کہ اپریل 2019 سے ستمبر 2019 کے لئے گھریلو گیس کی قیمت موجودہ 3.36ڈالرسے بڑھ کر 3.97ڈالرتک ہو سکتی ہے، یعنی اس میں قریب 18 فیصد کی اضافہ ہوگا۔

ریٹ میں یہ اضافہ گیس کاشتکاروں کے لئے اچھی خبر ہو سکتی ہے۔اس سے او این جی سی، آئل انڈیا، ویدانتا، ریلائنس جیسی گیس ریسرچ کرنے والی کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگالیکن صارفین کے لحاظ سے یہ بری خبر ہوگی، کیونکہ اس سے گاڑیوں میں استعمال ہونے والا کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) اور پی این جی مہنگی ہو جائے گی۔اس سے بجلی کی پیداوار، کھاد کی پیداوار اور پیٹروکیمیکل پیداوار کی قیمت بھی بڑھ جائے گی،گیس کی قیمت بڑھنے سے تھوک قیمت کی بنیاد پر (ڈبلیوپی آئی) مہنگائی بھی بڑھ سکتی ہے۔غور طلب ہے کہ گھریلو گیس قیمتیں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور روس میں قدرتی گیس قیمتوں کی بنیاد پر طے ہو سکتی ہیں۔بین الاقوامی مارکیٹ میں گیس کی قیمت میں اضافہ سے گھریلو مارکیٹ میں تقریبا تین ماہ بعد گزشتہ 1 مارچ کو ہی رسوئی گیس (ایل پی جی) کے دام میں اضافہ کیا گیا ہے۔غیر سبسڈی والا رسوئی گیس سلنڈر دہلی میں 42.50 روپے اور سبسڈی کا 2.08 روپے مہنگا کر دیا گیا تھا۔ایل پی جی کی قیمت طے کرنے کاالگ نظام ہے۔اوسط بین الاقوامی معیار کی شرح اور غیر ملکی کرنسی کی شرح تبادلہ کے مطابق ایل پی جی سلنڈر کے دام طے ہوتے ہیں، جس کی بنیاد پر سبسڈی رقم میں ہر ماہ تبدیلی ہوتی ہے۔دوسری طرف ہندوستان میں تقریبا اسی فیصد تیل درآمد کیا جاتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر خام تیل فی بیرل کے حساب سے خریدی اور فروخت کیا جاتا ہے،فی بیرل میں تقریبا 162 لیٹر خام تیل ہوتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی