نئے صدر جمہوریہ کے انتخاب و خطاب پر تنازع ۔۔۔۔۔ آز: امام الدین علیگ

Source: Imamuddin Alaig | By I.G. Bhatkali | Published on 29th July 2017, 2:27 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

سیاست میں لفظوں کی بے ثباتی پر ملک کے مستقبل کے تئیں حساس طبقے کافکر مند ہونا فطری امر ہے

ٓر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے رام ناتھ کووند نے ملک کے 14ویں صدر جمہوریہ کے طورپر حلف لے لیا ہے۔ حلف برداری کے بعد نو منتخب صدر جمہوریہ نے اپنے پہلے خطاب میں کثرت میں وحدت ، ملک کے کثیر ثقافتی معاشرے ، مساوات اور بھائی چارہ جیسے گرانقدر اور اطمینان بخش لفظوں کا استعمال کیا ۔اگر بات صرف لفظوں کی کی جائے تو یہ کچھ لوگوں کے لیے وقتی طور پر تسلی بخش ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اگر ملک کو درپیش نازک حالات اور مستقبل کے خطرات کو نظر میں رکھا جائے تو الفاظ اپنے معانی کھودیتے ہیں اور اگر کوئی اہمیت رہ جاتی ہے تو صرف عمل اور اقدام کی۔ اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی 2014میں پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ملک کےـ’ ـ125کروڑ ‘عوام کی بات کی تھی لیکن آگے چل کر حکومت کے اقدامات و عمل کے تضاد نے اس بیان کو بے معنیٰ کردیا۔ جب کہ نومنتخب صدر جمہوریہ کے خطاب اور انتخاب پر اٹھنے والے سوالات اور تنازعات سے تو موجودہ اور پیش آئند صورتحال ابھی سے بڑی حد تک واضح ہے۔

 کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے رام ناتھ کوند کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ اپنی پہلی تقریر میں ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے کابینہ وزراء اور آر ایس ایس کے پسندیدہ مفکرین کا ذکر کرنا نہیں بھولے جب کہ جواہر لعل نہرو کا ذکر کرنے سے صاف صاف بچتے نظر آئے ۔ کانگریس کے ہی ایک دوسرے لیڈر جے رام رمیش نے نو منتخب صدر جمہوریہ کی تقریر میں ’دوبارہ تاریخ لکھنے‘ کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت اس کام میں بہت دلچسپی رکھتی ہے۔ ان کا اشارہ ملک کے دستور اور تاریخ کے ساتھ متوقع چھیڑ چھاڑ کی طرف تھا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل آر ایس ایس کے سینئر قائدین ملک کے آئین کی رواداری پر مبنی روایات و اقدار پر اکثر سوال اٹھانے کے ساتھ ساتھ دستور کو تبدیل کرنے کی بات کرتے رہے ہیں جس سے ملک کے سیکولر اور اقلیتی طبقات کو فکر لاحق ہونا لازمی ہے۔ اگر چہ نومنتخب صدر جمہوریہ نے دستور کے خلاف ہونے والے حملوں کی روک تھام اور اسے تحفظ دینے کی بات کہی ہے لیکن ایوان سیاست میں بیانات کی کیا حیثیت ہے اس سے ہر کوئی واقف ہے۔ کئی بار تو ایسے بیانات کا مقصد محض فوری رد عمل کو دبانا یا عوام کے بیچ پیدا ہوئی بے چینی کی کیفیت اور ان کے خدشات کو دور کرنا ہوتا ہے تاکہ آگے چل کر بے فکر ہوکر اپنے پوشیدہ عزائم پر عمل درآمد کیا جا سکے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے نو منتخب صدر رام ناتھ کوند کی تقرری اور ان کے پہلے خطاب سے قبل ہی ان کے لفظوں کی حقیقت اپنے ایک بیان میں عیاں کردی۔ وزیراعظم نے بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں نومنتخب صدر کی حلف برداری کے پیش نظر کہا کہ بی جے پی کے نظریاتی لیڈر شیام پرشاد مکرجی نے جو سفر شروع کیا تھا ، اُس میں رام ناتھ کووند کی تقرری ایک اہم اور غیرمعمولی سنگ میل ہے ۔نومنتخب صدر جمہوریہ کی حلف برداری تقریب میں لگے متنازع نعروں اور خود رام ناتھ کوند کا اپنی تقریر کو ’جے ہند‘ کے ساتھ اختتام کی روایت کے برخلاف ’وندے ماترم‘ سے ختم کرنے جیسے واقعات پر عوام میں بے چینی کی لہر پیدا ہونا فطری بات ہے۔ سبکدوش ہونے والے سابق صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے بھی شاید دستور کے ساتھ اسی موقع چھیڑ چھاڑ کے پیش نظر ہی پارلمنٹ میں اپنے آخری خطاب میں مودی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ قانون سازی کے مناسب پروسس کے بجائے آرڈیننس کا راستہ اختیار کرنے سے پرہیز کرے اور ناگزیر حالات میں ہی آرڈیننس کا استعمال کرے۔ دستور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے امکان کو اس بات سے مزید تقویت ملتی ہے کہ رام ناتھ کووند ممکنہ طور پر ایسے پہلے صدر جمہوریہ ہیں جن کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی راشٹرپتی بھون اور ان کے دفتر کے اہلکاروں و ذمہ داروں کی تقرری کا اعلان کردیا گیا ، باعث تشویش اور قابل فکر بات یہ ہے کہ راشٹرپتی بھون کے اہلکاروں اور ذمہ داروں کی تقرری وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کی جانب سے نریندر مودی کے انتخاب پر کی گئی ہے ، رام ناتھ کووند کی پسند یا انتخاب پر نہیں۔اسی سے اندازہ لگایا سکتا ہے کہ جب پہلے سے ہی آئینی طور پر صدر جمہوریہ کے اختیارات اتنے محدود تھے تو ایسے میں نومنتخب صدر جمہوریہ کس طرح کے صدر ہونے جا رہے ہیں اور ان کی حیثیت کیا ہوگی۔ نومنتخب صدر کی تقرری سے قبل ہی ان کے دائرہ کار میں مرکزی حکومت کی دراندازی سے دستور ہند کو درپیش خطرات و خدشات کو مزید تقویت مل رہی ہے۔

یہ تو رہی ملک کے دستوری اور سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرکے اسے فرقہ وارانہ بنیادوں پر استوار کرنے کی بات لیکن معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں ہے ۔ ملک کے سیاسی، سماجی، تعلیمی، معاشی ، ملکی ، بین الاقوامی سمیت تمام شعبہائے زندگی کو آر ایس ایس کے نظریات کے مطابق ڈھالنے کا کام بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ تعلیمی نصاب میں تبدیلی کا معاملہ آئے دن سرخیوں میں رہتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں جہاں انتہا پسند اور ہندوتو وادی طاقتوں کی بے جا مداخلت اور دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے وہیں ملک کی تعلیمی بنیاد یعنی ایجوکیشن پالیسی اور تعلیمی نصاب پر ہی ڈاکہ ڈالنے کی تیاری چل رہی ہے۔ جواہر لعل یونیورسٹی سے لے کر دہلی یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، حیدر آباد سنٹرل یونیورسٹی ، پونے کے فلم انسٹی ٹیوٹ جیسے اعلیٰ اور مؤقر تعلیمی اداروں میں یکے بعد دیگرے رونما ہونے والے واقعات سرکاری در اندازی کے جیتے جاگتے ثبوت ہیں کہ موجودہ حکومت ملک کے تعلیمی اداروں کا بھگوا کرن کرنے کی مہم زوروں پر ہے۔ابھی حال ہی میں پارلیمنٹ میں نیشنل کاؤنسل فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹرینگ کی کتابوں سے چھیڑ چھاڑ کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے جس میں آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والی تنظیم اٹھان نیاس کے مشورہ پر نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کا نام کتابوں سے ہٹا دیا گیا ہے، جس پر ترنمول کانگریس نے راجیہ سبھا میں جم کر ہنگامہ کیا۔ دوسری جانب ملک و سماج کو اپنے نظریات کے مطابق ڈھالنے اور چلانے کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے جس میں مدراس ہائی کورٹ کے جسٹس ایم وی مرلی دھرن نے اپنے ایک فیصلے میں تمل ناڈو کے تمام اسکولوں، کالجوں سمیت دیگر سرکاری اداروں میں قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ کا گانا لازمی قرار دے دیا ہے۔

ان سب واقعات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آر ایس ایس اور فرقہ پرست طاقتوں نےطویل منصوبہ بندی کے تحت ملک کے ان تمام شعبوں ، محکموں اور اداروں میں مضبوط جگہ بنا لی ہے جن کے ذریعہ سماج کی سمت، اس کا ڈھانچہ اور عوام کی سوچ و فکر طے ہوتی ہے۔ ایک طرف آر ایس ایس کی پوزیشن جتنی مضبوط ہے وہیں دوسری جانب اس کے نشانے پر آنے والے اقلیتوں کی حالت اتنی ہی خراب اور غیر مستحکم ہے جس سے ملک کے اکثر مسلمانوں کو مستقبل قریب میں حالات کے بگڑنے کا خدشہ لاحق ہے۔لہٰذا حال ہی میں ملک کے طول و عرض میں گئو رکشا کے نام پر یا کسی اور بہانے ہونے والےحملوں کو مستقبل میں درپیش حالات کا پیش خیمہ مانتے ہوئے ملک کے ہر خیرخواہ، ذی شعور اور روادار شہری کو فکرمند ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

پنچ کولہ:رسوئی گیس سلنڈر میں رساؤ کے بعد دھماکہ، 8 زخمی

رسوئی گیس سلنڈر میں لیک کی وجہ سے یہاں ایک گھر میں ہوئے دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔پولیس نے آج بتایا کہ دھماکہ ا تنا شدید تھا کہ پورا گھر گر گیا اور آس پاس کے قریب 20 مکانوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

مودی نے بھارتی فوجیوں کے ساتھ دیوالی منائی ،فوجی بھائی ہی ہمارے گھر کے فرد ہیں: مودی

وزیر اعظم بننے کے بعد ہر سال فوج یا سکیورٹی فورسز کے درمیان دیوالی منانے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بھارتی پی ایم نریندر مودی نے اس سال جموں و کشمیر کے گریج میں فوجی نفری کے درمیان دیوالی منائی اور کہا کہ فوج کے جوان ہی ان کے خاندان ہیں۔

اترکنڑا ضلع میں بندوق برداروں کی تعداد صرف ایک فی صد: لائسنس کی تجدید کو لے کر اکثر بے فکر

اترکنڑا ضلع جغرافیائی وسعت، جنگلات سے گھراہواہے اس کی آبادی میں خاصی ہے لیکن ضلع میں صرف ایک فی صد لوگ ہی بندوق رکھتے ہیں،ضلع میں فصل کی حفاظت کے لئے 8163اور خود کی حفاظت کے لئے 930سمیت کل 9093لوگ ہی لائسنس والی بندوقیں رکھتے ہیں۔

گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ )

گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور ...

یومِ اساتذہ اور ہمارا معاشرہ ؛ (غوروفکر کے چند پہلو) از :ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی ،صدر شعبہ اردو؛ گورنمنٹ ڈگری کالج ، سونور ضلع ہاویری

ہمارا معاشرہ سال کے جن ایام کو خصوصی اہمیت دیتاہے ، ان میں سےایک یومِ اساتذہ بھی ہے، جو 5ستمبر کو ہر سال پورے ملک میں منایاجاتاہے۔ اس موقع پر جلسے ، مذاکرے اور اس نوعیت کے مختلف رنگا رنگ پروگراموں کا انعقاد کرکے ایک قابل احترام اور مقدس پیشہ میں مصروف اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش ...

کیا کابینہ کی توسیع میں آر ایس ایس کا دخل تھا ؟

اتوار کے روزہونے والی کابینی رد وبدل میں محض وزیر اعظم نریند مودی کی ہی مرضی نہیں بلکہ اس میں آر ایس ایس کا بھی دخل برابر کا تھا۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اس توسیع میں وزیر اعظم کی مرضی اتنی نظر نہیں آئی جتنا سنگھ کا اثر دکھائی دیا۔ توسیع کے کسی بھی فیصلے سے ایسا محسوس نہیں ...

کرنل پروہت کو سپریم کورٹ سے ملی ضمانت کے پس منظر میں ریٹائرآئی جی پی مہاراشٹرا ایس ایم مشرف کے چبھتے ہوئے سوالات

مالیگائوں بم بلاسٹ معاملے میں کرنل پروہت کو ضمانت ملنے پر Who Killed Karkare ? کے رائٹر اورسابق انسپکٹر جنرل آف پولس ایس ایم مشرف نے کچھ چبھتے ہوئے سوالات کے ساتھ سنسنی خیز خلاصہ کیا ہے، جس کو ایک مرہٹی نیوز چینل نے پیش کیا ہے۔ اُس کا مکمل ترجمہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔