کانگریس نے بی جے پی سے جئے نگر کی سیٹ چھین لی، سومیا ریڈی کی معمولی اکثریت سے کامیابی میں مسلم اتحاد نے اہم کردار ادا کیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th June 2018, 11:08 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،14؍جون(ایس او نیوز؍) بنگلورو کے جئے نگر اسمبلی حلقہ کے چناؤمیں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا تھا۔ دونوں پارٹیوں کے لئے یہ انتخاب وقار کا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ آخر کار کا نگریس امیدوار سومیا ریڈی نے بی جے پی امیدوار بی این پرہلاد بابو کو 2889 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دے کر بی جے پی سے یہ سیٹ چھین لی ہے۔ سومیا ریڈی سابق ریاستی وزیر داخلہ امور رام لنگا ریڈی کی بیٹی ہیں ۔ جنہوں نے اپنا پہلا اسمبلی انتخاب لڑتے ہوئے 54457ووٹ حاصل کئے جبکہ بی جے پی امیدوار بی این پرہلاد بابو کو 51568ووٹ ملے۔ اس انتخاب میں ایک آزاد امیدوار روی کرشنا ریڈی نے 1861ووٹ حاصل کئے ہیں۔ جئے نگر اسمبلی حلقہ سے دو مرتبہ رکن اسمبلی رہے بی این وجئے کمار کے انتقال سے الیکشن کمیشن نے 12مئی کی اس سیٹ کے لئے ہونے والے انتخاب کو منسوخ کردیا تھا۔ پھر دوبارہ 11 جون کو چناؤ کروانے کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا۔ بی جے پی نے ان کے بھائی پرہلاد بابو کو اپنا امیدوار بنا کر ہمدردی کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔حالانکہ پرہلاد بابو کی امیدواری کی کسی بھی مقامی کونسلر نے بھی مخالفت کی تھی۔ ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس کی مخلوط حکومت کے قیام کے بعد اس سیٹ پر جنتا دل (ایس)کے امیدوار کالے گوڈا نے کانگریس امیدوار کے حق میں اپنی امیدواری واپس لے لی تھی۔ اس جیت کے ساتھ ہی ریاست کرناٹک میں کانگریس اراکین اسمبلی کی تعداد بڑھ کر 79ہوگئی۔ 

ہمدردی کے ووٹ: حالانکہ اس حلقہ میں بی جے پی ہمدردی کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ورنہ 51568ووٹ حاصل کرنا آسان نہیں۔ بی جے پی سے وابستہ لوگوں کے علاوہ اکثر ہندو طبقات کے ووٹس بھی بی جے پی امیدوار ہی کے حق میں ڈالے گئے ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی امیدوار کو کم ووٹوں کی اکثریت سے شکست کھانی پڑی ۔ اس کی اہم وجہ اس حلقہ کے مسلم ووٹروں کا اتحاد و اتفاق ہے۔ اس مرتبہ اس حلقہ کے مسلم ووٹروں نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے متحد ہوکر ووٹوں کی تقسیم کئے بغیر کانگریس ا میدوار کے حق میں ووٹ ڈالا۔ اتنا ہی نہیں حلقہ کی مسلم قیادت، ائمہ مساجد اور اکثر علماء کرام نے بھی بارہا حلقہ کے مسلمانوں کو آواز دی کہ ملک کے حالات نازک ہیں اس لئے تمام مسلمان متحد ہوکر ایک سکیولر امیدوار کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں ورنہ ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ فرقہ پرستوں کو ہوگا۔ حا لانکہ اس حلقہ میں پولنگ صرف 53فیصد ہوئی اس کے باوجود کانگریس امیدوار کی کامیابی میں حلقہ کے مسلم ووٹروں کا بہت بڑا رول ہے ۔ حلقہ کی اکثر مساجد میں جو مسلمان اعتکاف میں بیٹھے رہے ان میں اکثر نے علماء کرام کی اجازت سے متعلقہ مسجد سے سیدھے پولنگ بوتھ جاکر اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ کانگریس امیدوار وں کی معمولی اکثریت سے جیت کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ اس حلقہ کا جے ڈی ایس امیدوار کانگریس امیدوار کے حق میں مقابلہ سے دستبردارہوگیا تھا بصورت دیگر وہ چار پانچ ہزار سکیولر ووٹ لے لیتا تو بی جے پی کی جیت یقینی تھی۔ اب حلقہ کے لوگ امید کر رہے ہیں کہ سومیا ریڈی بھی اپنے والد رام لنگاریڈی کی طرح حلقہ کے لوگوں کو اعتماد میں لے کر حلقہ کی مجموعی ترقی با لخصوص اس حلقہ میں آنے والے پسماندہ علاقوں کی ترقی پر توجہ دیں گی۔ 

عوام کے اعتماد کی تصدیق: کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ سدا رامیا نے کہاکہ جے نگر انتخابی حلقہ سے کانگریس امیدوار سومیا ریڈی کی جیت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ عوام کو کانگریس پر اعتماد ہے ۔مسٹر          سدارامیا نے چہارشنبہ کو میسور میں نامہ نگاروں سے کہا کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں نے کانگریس سے اپنی امیدیں نہیں کھوئی ہیں اور پارٹی کے تئیں ان کی حمایت قائم رہے گی۔ کانگریس امیدوار کی جیت نے یہ بھی دکھا دیا ہے کہ اس حلقہ میں بی جے پی کے تعلق سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کانگریس کی جیت ریاست میں اتحادی حکومت کی جیت نہیں ہے ۔ اس حلقہ میں سومیا کاسرگرم کردار رہا ہے جس کا انہیں فائدہ ملا۔کسانوں کے قرض معافی معاملہ پر انہو ں نے کہاکہ وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی وزارت خزانہ بھی سنبھال رہے ہیں اور وہ اس معاملہ پر فیصلہ کریں گے ۔ کانگریس ہمیشہ کسانوں کے حق میں ہے ۔
 

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے سینئر لیڈر آر اشوک نے سدارامیا اور کمار سوامی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا

وکھے درخت کے پتوں کی مانند جھڑرہے کانگریس اراکین اسمبلی کی آنکھوں میں اندھیراچھا گیا ہے۔ انہیں آگے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ ریاست کے عوام نے مخلوط حکومت کی چڈی پھاڑدی ہے۔ اس قسم کی طنزیہ باتیں بی جے پی کے سینئر قائدآر اشوک نے کہیں۔

کرناٹک پبلک اسکولوں میں سرکاری اسکولوں کو ضم نہیں کیا جائے گا

سرکاری اسکولوں کو ضم کئے بغیر ہی کرناٹک پبلک اسکول چلانے کی تجویز محکمہ تعلیمات کے زیر غور ہے ۔ سرکاری نظام کے تحت ایک ہی پلاٹ فارم پر پہلی سے بارھویں جماعت تک کی تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے کرناٹک پبلک اسکولوں کا انعقاد 2018-19 سے ہی شروع ہوگیا تھا ۔

کمارسوامی نے وزیراعلیٰ کا عہدہ دیش پانڈے کو سونپنے کی رکھی تھی شرط ، کانگریس لیڈران رہ گئے دنگ؛ کماراسوامی کی قیادت پر ہی ظاہر کیا گیا اعتماد

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کی رسواکن شکست کے بعد کل وزیراعلیٰ کمار سوامی کی قیادت میں طلب کی گئی غیر رسمی کابینہ میٹنگ کے دوران وزیراعلیٰ کمار سوامی کی طرف سے استعفے کی پیش کش کے متعلق چند نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔