ریاست میں کانگریس اقتدار پر برقرار رہے گی: سدرامیا

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 12th August 2017, 11:31 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو:12/ اگست(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ایک بار پھر پورے اعتماد کے ساتھ یہ بات دہرائی کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس ہی ریاست کے اقتدار پر برقرار رہے گی۔ امیت شا آئیںیا مودی ریاست میں کانگریس کے امکانات کو متاثر کرنہیں پائیں گے۔آج کانگریس نائب صدر راہول گاندھی کا استقبال کرنے کیلئے بلاری پہنچے ہوئے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ امیت شا کے تین روزہ دورۂ کرناٹک سے کانگریس پارٹی کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ گجرات راجیہ سبھا انتخابات میں امیت شا کی حکمت عملی کی ہار ملک میں بی جے پی کے زوال کی شروعات ہے۔ کرناٹک سے بی جے پی کانگریس کو ختم کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے، لیکن کانگریس کی کامیابیوں کا جو سفر کرناٹک سے شروع ہوگا اس کے بعد ملک کو بی جے پی سے آزاد کرایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ بی جے پی کے لوگ جو چاہیں کرلیں، 2018 میں ریاست کے اقتدار پر کانگریس ہی برقرار رہے گی۔ ریاستی حکومت کی طرف سے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے جو اسکیمیں لاگو کی گئی ہیں ان کو عوام میں غیر معمولی مقبولیت ملی ہے۔ یہی آنے والے دنوں میں کانگریس کی جیت کے ضامن بنیں گے۔ لنگایت طبقے کو علیحدہ مذہب کا درجہ دینے کے متعلق مذہبی رہنماؤں کی طرف سے انہیں پیش کی گئی مانگ کے متعلق وزیر اعلیٰ نے کہاکہ انہوں نے ان مذہبی رہنماؤں کو اتنا ہی یقین دلایا ہے کہ انہوں نے جو مانگ کی ہے ریاستی حکومت اسے قبول کرنے کی سفارش کے ساتھ مرکز کو روانہ کردے گی۔ تاہم اس مانگ کا ابھی ریاستی انتظامیہ جائزہ لے رہا ہے۔ ابھی کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ لنگایت طبقے کو علیحدہ مذہب کا درجہ دینے کا مطالبہ نیا نہیں ہے۔بارہ سال پہلے ہی لنگایت مہا سبھا نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے مانگ کی تھی کہ لنگایت طبقے کو الگ مذہب کا درجہ دیا جائے اور اس کا شمار ملک کی اقلیتوں میں کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ غیر ضروری طور پر انہیں اس بات کیلئے بدنام کیاجارہاہے کہ وہ لنگایت فرقہ کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں جوکہ غلط ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس فرقہ کے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے جو نمائندگی انہیں بحیثیت وزیر اعلیٰ دی گئی ہے اسے انہوں نے مرکز تک پہنچانے کا ذمہ لیا ہے۔ مرکزی حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی ریاستی حکومت اس سے ان مذہبی رہنماؤں کو آگاہ کرا دے گی۔ ریاست میں مانسون کی ناکامی کے سبب بادلوں کی تخم ریزی اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں بارش برسانے کی کوشش کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سدرامیا نے کہاکہ ریاستی انتظامیہ اس کیلئے تیاریوں میں لگا ہوا ہے۔ ریاستی کابینہ میں توسیع کے متعلق سوال پر سدرامیا نے کہاکہ کابینہ کی تین مخلوعہ سیٹوں کو جلد ہی پر کیا جائے گا۔ ان سیٹوں پر کسے مقرر کیا جائے اس کا فیصلہ اعلیٰ کمان کی ہدایت کے مطابق لیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ انہوں نے ملک کے عوام سے جو بھی وعدہ کیا وہ جھوٹا ہی ثابت ہوا۔اقتدار سنبھالتے ہی سالانہ دو کروڑ لوگوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا، لیکن سرکاری اعداد وشمار ہی بتاتے ہیں کہ پچھلے تین سال کے دوران سالانہ روزگار کے 16لاکھ سے زیادہ مواقع پیدا نہیں کئے گئے۔ وزیر اعظم پر دروغ گوئی کا الزام لگاتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ ملک کے اچھے دن لانے کا وعدہ کرکے اقتدار حاصل کرنے والے مودی کی حکومت میں غریب اور کسان نظر نہیں آتے ، صرف سرمایہ داروں کی فلاح کیلئے وزیراعظم فکر مند رہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ بھی کرتے ہیں تو وہ صرف امبانی اور ادانی کی تجارت کو بڑھاوا دینے کیلئے ۔

ایک نظر اس پر بھی

چنتامنی میں ریاستی حکومت کے خلاف بی جے پی کارکنان کا احتجاجی مظاہرہ

اینٹی کرپشن بیورو میں ایڈی یورپا کے خلاف شکایت درج ہونے پر جو ایف آئی آر داخل کی گئی ہے اور ایڈی یورپا کو سمن کیا گیا ہے اس پر برہم بی جے پی کارکنان نے ریاستی حکومت و وزیر اعلیٰ سدارامیا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کی حمایت کرنے رحمن خان کی اپیل، دستورہند میں ہرباشندہ کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کی آزادی ہے

ایک وقت میں 3طلاق کو غیر قانونی اور غیر قرآنی قراردینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر راجیہ سبھا کے رکن اور سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان نے کہا ہے کہ اسلام میں ایک وقت میں 3طلاق کو بہت ہی ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے

تہواروں کے دوران تشدد پر سخت کارروائی ہوگی: وزیر اعلیٰ کاگنیش چترتی اور بقرعید کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کا جائزہ

آئندہ دنوں میں گنیش تہوار اور بقرعید آرہے ہیں، اس کے پیش نظر محکمۂ پولیس کی جانب سے کئے گئے انتظامات کا وزیر اعلیٰ کے سدارامیا نے جائزہ لیا، انہوں نے دیکھا کہ ان تہواروں کے وقت نظم وضبط، امن اور ہم آہنگی کی برقراری کے لئے کس طرح کے انتظامات کئے جارہے ہیں،

ہبلی:پبلک سیکٹر بینک ملازمین کا ملک بھر میں مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج

مرکزی حکومت کے ذریعے نیشنل بینکوں کو ضم کرنے اور خانگیانے کولے کر تمام نیشنل بینک ملازمین نے یونائیٹیڈ فورم آف بینک یونینس (یوایف بی یو) کی سرپرستی میں تجارتی شہرہبلی میں زبردست احتجاج کرتے ہوئے سخت مخالفت کی۔جس کے نتیجے میں شہرکے نیشنل بینکوں میں کام کا ج میں دقت وپریشانی ...