یڈی یورپا کو بطور وزیر اعلی حلف دلاۓ جانے پر بنگلور میں کانگریس اور جے ڈی ایس کا دھرنا

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 17th May 2018, 12:54 PM | ریاستی خبریں |

بنگلور17/مئی (ایس او نیوز)  کرناٹکااسمبلی انتخابات کے بعداُٹھنے والا  طوفان تھمنے  کا نام نہیں لے رہا ہے. ویسے تو سرکاری طور پر کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت بن گئی ہے اور یڈی یورپا نے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف بھی لے لیا ہے لیکن اس کی مخالفت میں کانگریس پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعلی سدرامیا  کرناٹک ودھان سودھا  کے سامنے گاندھی مجسمہ کے آگے دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں. اس دھرنے میں بڑے  کانگریسی لیڈر اشوک گہلوت اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد بھی شامل ہیں۔

کانگریس لیڈرسدرامیا  کی قیادت میں  دھرنا دے رہے سابق وزیر اعلی سدرامیا  نے کہا کہ گورنر نے بی جے پی کو حکومت سازی کے لئے دعوت دی اور اُن کی سرکار بھی بنوا دی، مگر ہم  اس کے خلاف چُپ نہیں  بیٹھیں  گے۔ یڈی یورپا کو حکومت کی تشکیل کے لئے مدعو کئے جانے پر جے ڈی ایس رہنما کماراسوامی نے گورنر کے فیصلے کو غیر دستوری قراردیا اور ان پر الزام عائد کیا کہ وہ سودے بازی کی حوصلہ آفزائی کررہے ہیں۔

یڈی یورپا اعداد و شمار سے دور ہے

حالانکہ  یڈی یورپا نے سی ایم کے عہدے کا حلف ضرور لیا ہے لیکن  ان کے پاس 104 ہی ارکان اسمبلی ہیں۔ كانگریس  اور جےڈی ایس کا الزام ہے کہ اب یڈی یورپا اور بی جے پی جم کر ارکان  اسمبلی کی خرید فروخت کر سکتے ہیں۔خیال رہے  کہ کرناٹک میں گورنر کی طرف سے بی جے پی کو سرکار بنانے کی دعوت دینے کے خلاف  کانگریس  سپریم کورٹ بھی پہنچ گئی تھی لیکن اُسے وہاں بھی راحت نہیں مل سکی  اور ملک کی  اعلیٰ عدالت نے وزیراعلیٰ کی حلف برداری تقریب  پر روک  لگانے سے انکار کردیا. اس کے بعد اب کانگریس نے سڑک پر اتر کر بی جے پی لیڈر بی ایس یڈی یورپا کے وزیر اعلی بننے کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

آپریشن کمل کرتے ہوئے ارکان کو خریدنے کا خوف

112 کا ہندسہ پانے کے لئے کانگریس اور جےڈی ایس کو خوف ہے کہ بی جے پی آپریشن کمل کرتے ہوئے اُن کے ارکان اسمبلی کو خرید سکتی ہے۔ اس سے قبل کماراسوامی نے پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ بی جے پی کی جانب سے اُن کے ارکان کو سو سو کروڑ کی پیش کش کی گئی ہے اور اُنہیں خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 

آپریشن کمل سے اپنے ارکان کو محفوظ رکھنے   کے لئے کانگریس اور جے ڈی ایس نے سبھی ارکان اسمبلی کو  اب  بنگلور کے ايگلٹن ریسارٹ   میں ٹھہرایا ہے.آج جیسے  یڈی یورپا کی حلف برداری کی تقریب ختم ہوئی، سبھی ارکان اسمبلی ریسارٹ  سے نکل کر بنگلور کے فریڈم پارک میں احتجاج کے لئے جمع ہو گئے ۔اب، یہ ارکان   یڈی یورپا کی تاجپوشی کے خلاف ودھان سودھا کے سامنے سڑک پر دھرنا دے کر احتجاج کر رہے ہیں.

خیال رہے  کہ آج جمعرات  صبح 9 بجے گورنر وجوبھائی والا نے بی ایس یڈی یورپا کو وزیر اعلی کے عہدے کا حلف دلایا ہے.جس کے ساتھ ہی  یڈی یورپا تیسری مرتبہ کرناٹک کے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں. اس سے پہلے گورنر وجو بھائیوالا نے بدھ کی شام یڈ ی یورپا کو سرکار تشکیل دینے  کے لئے مدعو کیا تھا جس کے بعد یڈی  یورپا نے اعلان کیا تھا کہ وہ جمعرات کو صبح 9 بجے وزیر اعلی کے طور پر حلف لیں گے. یڈی یورپا کو اکثریت ثابت کرنے کے لئے 15 دن کی مہلت دی گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اشتہاری مافیا کے بعد اب کچرا مافیا کو ختم کرنے بی بی ایم پی مستعد، دو ہفتوں میں شہر کے سبھی وارڈوں کے لئے گندگی کی نکاسی کے نئے کنٹراکٹ

برہت بنگلو رمہانگر پالیکے نے شہر میں اشتہاری مافیا پر روک لگانے کے لئے ہائی کورٹ کی یکے بعد دیگرے لتاڑ سے خوفزدہ ہوتے ہوئے اب کچرامافیاکو کچلنے کے لئے سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

فلیکس اور بینر ہٹانے کے لئے بی بی ایم پی کی مہم پر ہائی کورٹ برہم، 5؍ ستمبر تک مہلت دئے جانے کے اقدام پر عدالت نے بی بی ایم پی کو لیا آڑے ہاتھ

شہر بھر میں فلیکس اور بینر ہٹانے کے لئے برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی طرف سے جاری مہم کی رفتار میں اور تیزی لانے پر زور دیتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے بی بی ایم پی کو تاکید کی ہے کہ آئندہ شہر میں فلیکس اور بینر لگاکر قانون شکنی کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی ...

کمار سوامی کی حلف برداری کے لئے میزبانی تنازعے کا شکار، حکومت کو برخاست کرنے گورنر کو مکتوب

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی تقریب حلف برداری میں مدعو مہمانان خصوصی کے اخراجات کو بنیاد بناکر سماجی کارکن بی ایس گوڈا نے گورنر واجو بھائی والا کو مکتوب لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ اپنے مہمانوں پر سرکاری خزانہ بے جا لٹانے والی کمار سوامی حکومت کو برخاست کیا جائے۔

مہادائی مسئلے پر کرناٹک سے ’’انصاف‘‘ ٹریبونل نے ریاست کو 13.5 ٹی ایم سی فیٹ پانی فراہم کرنے کا دیا حکم، کسانوں میں جشن کا ماحول 

کرناٹک اور گوا کے درمیان دیرینہ مہادائی تنازعے کے سلسلے میں ٹریبونل نے آج اپنا قطعی فیصلہ سناتے ہوئے کرناٹک کو پینے کے لئے 5.5 ٹی ایم سی فیٹ پانی ، آب پائی اور بجلی کی پیداوار کے لئے 8؍ ٹی ایم سی فیٹ پانی دینے کا فیصلہ صادر کیا۔