ایم بی پاٹل کی راہل گاندھی سے ملاقات بے نتیجہ ، کانگریس لیڈر وں میں عدم اطمینان برقرار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th June 2018, 11:28 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،10؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی)  کرناٹک میں کانگریس ۔جنتادل (سیکولر) اتحادی حکومت میں وزیر کے عہدہ سے محروم غیرمطمئن کانگریسی لیڈر ایم بی پاٹل کی دہلی میں پارٹی کے قومی صدر راہل گاندھی سے ملاقات بے نتیجہ رہی اور وہ اتوار کو یہاں واپس آگئے۔ مسٹر پاٹل نے نامہ نگاروں سے کہاکہ مسٹر گاندھی کے ساتھ میٹنگ اطمینان بخش نہیں رہی ، حالانکہ انہیں کسی عہدہ کی چاہت نہیں ہے اور پارٹی میں انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری مسٹر گاندھی کے ساتھ بات چیت ہوئی۔ میں نے انہیں اپنے جذبات سے واقف کرایا ہے۔ میرا کانگریس چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی کے طورپر وہ اپنے حلقہ انتخاب کے عوام کی خدمت کرکے خوش رہیں گے اور اس بات کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا کہ کوئی منتخب کانگریسی لیڈر ریاست میں پارٹی کو توڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کسی لیڈرکے ذریعہ بی جے پی میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کئے جانے سے متعلق سوال کو مسترد کردیا۔

 

غیرمطمئن کانگریس لیڈر پاٹل نے کہاکہ میں نے کابینہ کے قیام کے تعلق سے مسٹر گاندھی سے بات چیت کی تھی اور انہیں یقین دلایا تھا کہ ریاست میں پارٹی کے کوساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور وہ ایک وفادار پارٹی کارکن بنے رہیں گے، لیکن میں ’سیکنڈ کلاس سٹی زن ‘ نہیں ہوں۔

اس درمیان سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیراعلی سدا رمیا نے دعوی کیا کہ پارٹی میں کوئی عدم اطمینان نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ دو سال کے اندر وزرا کی مدت کار کم کی جاسکتی ہے اور جواچھا کام نہیں کریں گے ان کی جگہ پر اہل اراکین کو موقع ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے وزیر کے لئے کسی کی سفارش نہیں کی ہے ۔ یہ پارٹی ہائی کمان کا فیصلہ ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس تشہیری کمیٹی کے نئے صدر ایچ کے پاٹل نے عہدہ کا جائزہ لے لیا ملک کواچھے دن کا وعدہ کرکے اقتدار پرآئی بی جے پی کے لیڈروں نے ملک کوبے روزگاروں کا مرکز بنا دیاہے:وینو گوپال

سابق ریاستی وزیر ایچ کے پاٹل نے آج کرناٹک پردیش کانگریس تشہیری کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے عہدہ کاجائزہ لے لیا ۔

بی جے پی کوابھیشک منوسنگھوی نے کہا ، کرناٹک میں کھلواڑہوتاتوقانونی منصوبہ تیارتھا

کرناٹک کے تازہ سیاسی واقعات کے پس منظر میں کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے جمعرات کو کہا کہ اگر بی جے پی ریاست کی مخلوط حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنے ’آپریشن لوٹس‘پر آگے بڑھتی تو اس کومنہ توڑجواب دینے کے لیے کانگریس نے منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔