کانگریس امیدوارکے انتخاب میں وفاداروں کو نظرانداز کرنے کا الزام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th April 2018, 11:30 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،16؍اپریل (ایس او نیوز) ریاست کرناٹک میں آئندہ ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے ریاست میں حکمران کانگریس پارٹی نے کل 218 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کرنے کے ساتھ ہی پارٹی میں ناراضی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ امیدواروں کے انتخاب سے غیرمطمئن چند سینئر لیڈروں کے رد عمل سے ایسا لگتا ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں وزیراعلیٰ سدارامیا نے پارٹی کے وفادار لیڈروں اور ورکرس کی جگہ دیگر پارٹیوں سے کانگریس میں شامل ہوئے لوگوں کو ترجیح دی ہے ۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ امیدواروں کے انتخاب میں پارٹی کے وفادار اورقدیم لیڈروں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ اس مرتبہ چند امیدواروں کے انتخاب پر سینئر کانگریس لیڈران ملیکارجن کھرگے اور ڈاکٹر کے رحمن خان نے بھی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے آج کہا کہ امیدواروں کے انتخاب میں پارٹی کے وفادار وقدیم لیڈروں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ۔سیاسی حلقوں میں کہاجارہا ہے کہ کانگریس کے وفاداروں کو نظرانداز کرنے کی قیمت ان انتخابات میں کہیں پارٹی کو چکانی نہ پڑے ؟

ایک نظر اس پر بھی

ضمنی انتخابات کے لئے انتخابی مہم زوروں پر

پانچ حلقوں کے ضمنی انتخابات کے لئے انتخابی مہم دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ شیموگہ منڈیا اور بلاری لوک سبھا حلقوں اور رام نگرم اور جمکھنڈی اسمبلی حلقوں کے لئے کانگریس جے ڈی ایس اور بی جے پی اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔

کوئلے کی فراہمی نہ ہونے کے سبب بیشتر پاور پلانٹوں میں کام بند، دیوالی تہوار سے ریاست میں لوڈ شیڈنگ کا امکان

روشنیوں کا تہوار کہلانے والے دیوالی کااہتمام کرناٹک میں اندھیروں کے ساتھ کرنے کے خدشات پیدا ہوچکے ہیں، کیونکہ ریاست میں بجلی کے ترسیل کے اہم ترین ذرائع سمجھے جانے والے تھرمل پاور پلانٹس میں بجلی کی پیداوار کے لئے درکار کوئلہ نہیں ہے۔

کابینہ میں ردوبدل کا موضوع پھر ابھرنے لگا، 6؍ نومبر کوراہل گاندھی کے ساتھ ریاستی قائدین کی میٹنگ

ضمنی انتخابات کے بعد ریاستی کابینہ میں ردوبدل اور سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کے لئے چیرمینوں کے تقرر کے واضح اشاروں کے درمیان کانگریس اعلیٰ کمان کی طرف سے ریاستی قائدین کو پولنگ کے فوراً بعد دہلی آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔