کپل سبل کی سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی پیروی کرنے پر کیا کانگریس کو ہندوووٹ بینک کھسکنے کاخطرہ ہے ؟

Source: S.O. News Service | Published on 18th May 2017, 11:27 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی18مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل سپریم کورٹ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے تین طلاق کا دفاع کر رہے ہیں۔تاہم پارٹی کو یہ بات ناگوار گزر رہی ہے۔ پارٹی سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سبل کا یہ قدم کانگریس کے لئے شرمندگی کا سبب بن گیا ہے۔ سبل راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ سپریم کورٹ میں تین طلاق کے حق میں انہوں نے دلیل دی کہ یہ صدیوں پرانی روایت ہے اس لئے اسے غیر آئینی نہیں کہنا چاہئے۔پارٹی سے وابستہ سینئر ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ کپل سبل کی طرف سے مسلم پرسنل لا بورڈ کے حق کا دفاع کرنے سے پارٹی کے سینئر لیڈران ناخوش ہیں، کیونکہ اس معاملہ پر پارٹی کاموقف مسلم پرسنل لا بورڈ سے بالکل الگ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سبل کا موقف کانگریس کے لئے باعث شرمندگی تھا،سبل کا موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب پارٹی خود پر لگے مسلم اپیزمنٹ کے ٹیگ کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق  کانگریس نے ہمیشہ کہا ہے کہ تین طلاق کا مسئلہ خواتین کے بنیادی حقوق سے وابستہ ہے، ایسے میں سبل کی طرف سے اس کا دفاع کرنا کانگریس کی شبیہ خراب کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی ہائی کمان نے ابھی تک کیس چھوڑنے کے لئے سبل سے رابطہ نہیں کیا ہے، تاہم وہ اس بات کو لے کر فکر مند ہیں کہ سبل کے دفاع کرنے سے پارٹی کی شبیہ کونقصان پہنچ سکتا ہے۔تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب کسی کانگریسی لیڈر نے کسی معاملہ پر پارٹی کے موقف یا پالیسی کے برعکس کام کیا ہے۔

سال 2010 میں کانگریس لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے کیرالہ میں لاٹری چلانے والوں کے حق میں کیس لڑا تھا۔ اس پر کیرالہ کانگریس نے ناراضگی ظاہر کی تھی کیونکہ وہاں کانگریس لاٹری مافیا کے خلاف اپنے موقف کی بنیاد پر الیکشن لڑ رہی تھی۔ بعد میں سنگھوی نے وہ کیس چھوڑ دیا تھا۔

خیال رہے کہ کپل سبل نے اس سے پہلے بھی پارٹی کی منظوری کے خلاف کیس لڑے ہیں۔ اس سال کے شروع میں انہوں نے شاردا گھوٹالہ میں ترنمول کانگریس کا دفاع کیا تھا۔ اسی وقت کانگریس نے بنگال انتخابات کے لئے لیفٹ کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے سیاسی سکریٹری احمد پٹیل کو ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ سبل کو کیس سے ہٹنے کے لئے منائیں۔تاہم ایک ذرائع کے مطابق سبل نے کیس چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے پارٹی سے کہا کہ وہ کیس نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک وکیل ہیں اور انہیں اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں بھی ادا کرنی ہیں۔ اس کے بعد بنگال کانگریس نے سبل کو بائیکاٹ کرنے اور اپنی کسی تقریب میں شامل نہیں ہونے دینے کی دھمکی دی تھی۔ایک سینئر کانگریس لیڈر نے کہا کہ ایک طرف وکلاء کی ہماری ٹیم ہمیں نیشنل ہیرالڈ جیسا معاملہ لڑنے میں مدد کرتی ہے، وہیں دوسری طرف خواتین کے بنیادی حقوق کے خلاف لڑ کر پارٹی کو شرمندہ کرتی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر 2002 کا گجرات بن سکتا ہے

آخر کشمیر میں گونر راج نافذ ہو ہی گیا۔ کشمیر کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہاں اب ساتویں بار گونر راج نافذ ہوا ہے ، ویسے بھی کشمیر کے حالات نا گفتہ بہہ ہیں۔ وادی کشمیر پر جب سے بی جے پی کا سایہ پڑا ہے تب ہی سے وہاں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے ۔ پہلے تو مفتی سعید اور محبوبہ مفتی نے ...

راجستھان میں ’لو جہاد‘ کے نام پر ماحول خراب کرنے کی کوشش 

راجستھان کے ہنڈون میں لو جہاد کے نام پر بجرنگ دل پر ماحول بگاڑنے کا الزام لگا یا ہے، ہنڈون کے جس کانگریس کونسلر نفیس احمد پر بجرنگ دل نے لو جہاد کا الزام لگایا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مکمل طور پر ایک من گھڑت کہانی ہے۔

چھتیس گڑھ میں مضبوط طاقت ہے کانگریس، اتحاد کی ضرورت نہیں :پی ایل پنیا

آل انڈیا کانگریس کمیٹی جنرل سیکریٹری اور چھتیس گڑھ کے پارٹی معاملات کے انچارج پی ایل پنیا کا کہنا ہے کہ کانگریس ریاست میں مضبوط قوت ہے اور اس کے اندر کسی اتحاد کے بغیر اسمبلی انتخابات جیتنے کی طاقت ہے۔

ایمرجنسی نے جمہوریت کوقانونی تاناشاہی میں بدل دیا: ارون جیٹلی

مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی نے آج یاد کیا کہ کس طرح تقریبا چار دہائی قبل وزیر اعظم اندرا گاندھی کی زیر قیادت حکومت کی طرف سے ایمرجنسی لگائی گئی تھی اور جمہوریت کو آئینی آمریت میں تبدیل کر دیا گیا۔

گنگامیں جمع گندگی کولے کرنتیش کمارکا مرکزی حکومت پرسخت حملہ

بہار کے وزیر اعلی نتیش کماران دنوں ہر روز اپنی بات کوبے باکی سے رکھ رہے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو ہوئی نیتی آیوگ کی میٹنگ میں انہوں نے پی ایم نریندر مودی کے سامنے ریاست کے مسائل رکھنے کے بعد انہوں نے مرکزی وزیر ماحولیات ہرش وردھن کو مشورہ دیا کہ دہلی واپس جاکر مرکزی سطح وزیر ...