جے این یوکے بعداب ڈی یومیں بھی بی جے پی کوخفت کاسامنا ،اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن میں زبردست شکست،کانگریس کی واپسی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2017, 10:11 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،13؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کانگریس کی اسٹونٹ ونگ(این ایس یوآئی)نے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین (ڈوسو)کے انتخابات میں آج شاندارواپسی کرتے ہوئے صدرکے عہدے سمیت چار اہم عہدوں میں سے دو پر قبضہ جمایا۔جے این یومیں زورداردھکے کھانے کے بعداب دہلی یونیورسیٹی میں بی جے پی کوزبردست ہزیمت اٹھانی پڑی ہے ۔ڈوسومیں مضبوط بنیاد والی بی جے پی کی اسٹوڈنٹ یونٹ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی)نے سیکرٹری اور جوائنٹ سکریٹری کی سیٹیں جیتیں۔این ایس یو آئی کے راکی تسید نے1590ووٹوں کے فرق سے صدر کے عہدے پر فتح حاصل کی جبکہ پارٹی کے نائب صدر عہدے پر کنال سہراوت نے اے بی وی پی امیدوار کو 175ووٹوں سے شکست دی۔اے بی وی پی کی مہامیدھا ناگر نے سیکرٹری کے عہدے پر این ایس یو آئی کی میناکشی مینا کو2624ووٹوں کے فرق سے شکست دی جبکہ پارٹی کی جوائنٹ سکریٹری کے عہدے کے امیدوار اما شنکر نے این ایس یو آئی کے اویناش یادوکو342ووٹوں سے شکست دی۔دودو انتخابات کل میں، مجموعی طور پر 43فیصد ووٹ ووٹ دیا گیا تھا۔گزشتہ سال اے بی وی پی نے تین خطوط پر جیت درج کی تھی جبکہ این ایس یو آئی نے مشترکہ سیکرٹری عہدہ جیتا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

بائیں بازو پارٹیاں 6 ڈسمبر کو ’’یوم سیاہ‘‘ منائیں گی

  ایودھیا میں 6 ڈسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہادت واقعہ کے خلاف بائیں بازو پارٹیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بابری مسجد شہادت کی 25 ویں برسی کے ان تمام بائیں بازو پارٹیاں ملک بھر میں ’’یوم سیاہ‘‘ منائیں گی۔

اجودھیا میں مسجد نہیں بچاتے تو ٹھیک نہیں ہوتا:ملائم سنگھ یادو

سماج وادی پارٹی (ایس پی)کے بانی ملائم سنگھ یادو نے اپنی پارٹی کو آج بھی مسلمانوں کی حمایت حاصل ہونے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اجودھیا میں مسجد نہیں بچاتے تو ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ اس دور میں بہت سے نوجوانوں نے ہتھیار اٹھا لئے تھے۔