عبد اللہ دامودی صاحب کی وفات پر تنظیم اور انجمن کی جانب سے مشترکہ تعزیتی اجلاس

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 8th August 2018, 2:29 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل 8/اگست (پریس ریلیز/ایس او نیوز) شہرِ بھٹکل کی ایک معروف شخصیت اور بھٹکل کے مشہور سماجی ،سیاسی و فلاحی ادارہ مجلسِ اصلاح و تنظیم نیز  قومی  تعلیمی ادارہ انجمن حامی مسلمین بھٹکل کی انتظامیہ کے فعّال رکن جناب عبد اللہ دامودی صاحب کی 2 ا گست 2018 ؁ وفات پر بتاریخ 3/اگست  بروز جمعہ بعد نمازِ عصر تنظیم ہال میں تنظیم اور انجمن کی طرف سے ایک مشترکہ تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا ۔جلسہ کی صدارت انجمن کے صدر جناب جو کا کو عبد الرحیم صاحب نے کی ۔ حافظ محمد حسن ابن عبد ا لعظیم ڈی ایف کی تلاوت آیاتِ قرآنی مع ترجمہ سے کارروائی شروع ہوئی ۔بارگاہِ رسالتِ مآب میں نذرانہ عقیدت کے طور پر عزیزی حافظ احمد ثقلین ابن حسیب الرحمٰن چامنڈی نے نعتِ پاک سنائی۔

تنظیم کے جنرل سکریٹری جناب کھروری محی الدین الطاف صاحب نے حاضرین کی خدمت میں استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے مرحوم عبد اللہ صاحب کے حالاتِ زندگی پر مختصراً روشنی ڈالی ۔تنظیم کے سیاسی پینل کے کنوینر مولوی ایم جے عبد الرقیب صاحب ندوی نے بھی اپنے خطاب میں مرحوم کی بہت سی صلاحیتوں ،خوبیوں اور خدمات کا تذکرہ کیا ۔انجمن کے جنرل سکریٹری جناب صدیق اسمٰعیل صاحب نے مرحوم کے اوصاف بیا ن کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کوئی نہ کوئی سبیل نکال کر ان کی میڈیکل شاپ سے دوائیاں خرید کر غریب و نادار مریضوں کو مہیا کرتے تھے ۔

مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل کے قاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی صاحب مدنی نے ان کے اوصاف پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ عبد اللہ صاحب جہاں اجتماعی سطح پر شہر کے مختلف اداروں سے وابستہ تھے وہیں بہت سی شخصیات اور افراد سے انفرادی طور پر ان کے خوشگوار روابط تھے ۔اور دینی شعائر کا بھی بہت احترام کرتے تھے۔اس کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ مدراس کے عائشہ اسپتال میں اپنے علاج کے دوران اسپتال کی چادر پر عائشہ نام کا لوگو (نشان )دیکھ کر آپ نے اسپتال کے ذمہ داران کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ امُّ المؤمنین حضرت8 عائشہ صدیقہ کا نام لکھی ہوئی چادریں نہ جانے اسپتال میں کس کس طرح سے استعمال ہو کر ان کی بے حرمتی کا سبب بن رہی ہیں ۔۔لہٰذا آپ نے اس نشان کو تبدیل کرنے کی گذارش کی ۔ناظمِ جامعہ ماسٹر شفیع صاحب نے ان کے حالات پر بات کرتے ہوئے مرحوم کو انتہائی رکھ رکھاؤ ، سلیقہ اور قرینہ کے آدمی قرار دیا ۔

جماعت المسلمین بھٹکل کے نائب قاضی مولانا عبد العظیم صاحب قاضیا نے بھی مرحوم کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں مشاعرہ اور جلسہ و جلوس کی شخصیت سے تعبیر کیا اور ان کے مشاعروں میں اناؤنسنگ اور شعراء کو دعوتِ سخن دینے کے اچھوتے انداز کو سراہا۔
مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد صاحب کوبٹے نے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملت کے افراد انتقال پانے والے فرد کے تعلق سے اچھا گمان اور اچھی رائے رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ فرماتے ہیں ۔آپ نے کہا کہ مرحوم نے خود کو جلاکر معاشرہ میں روشنی پھیلائی ۔آپ نے کہا کہ مرنے والے کی اچھی صفات قوم کا اثاثہ ہیں ۔ان صفات کو ہمیں اپنے اندر منتقل کرنا ہے ۔قدرتی آفات اور فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین کے لئے مرحوم کے اس درد اور تڑپ کی طرف بھی نشاندہی کی جس کا مشاہدہ انہوں نے مرحوم کی معیت میں بھاگلپور کے دورہ کے دوران کیا ۔

ادارہ تربیت اخوان کے ذمہ دار جناب پٹیل قادر میراں صاحب نے بھی اپنے مختصر بیان میں نوائطی تہذیب و ثقافت سے جڑی ہوئی قدیم اشیاء کو جمع کرنے کے مرحوم کے شغف کی ایک مثال پیش کی ۔جماعت المسلمین مرڈیشور کے نائب صدر ڈاکٹر امین الدین صاحب نے بھی بات کرتے ہوئے بتایا کہ عبد اللہ دامودی صاحب نے اپنے لئے کچھ نہیں کیا دوسروں کے لئے کام کیا ۔آپ نے بتایا کہ مرڈیشور میں اقراء انگلش میڈیم اسکول آپ ہی کی کوششوں سے وجود میں آیا ۔آپ نے مزید کہا کہ انہیں اس ادارہ کی صدارت کی پیش کش کی گئی مگر مرحوم نے اسے قبول نہیں کیا ۔۔ولکی جماعت کے جنرل سکریٹری محی الدین داولجی صاحب نے مرحوم کو ایک روشن چراغ سے تعبیر کرتے ہوئے ماضی میں بمبئی میں قیام کے دوران آپسی روابط کے بارے میں بتایا ۔اور ولکی جماعت کی بمبئی کی خوللی (مسافر خانہ )سے متعلق ایک اہم تنازعہ کے حل کے سلسلہ میں مرحوم کے خصوصی تعاؤن کی تفصیل بتائی ۔ منکی جماعت کے ذمہ دار حسن باپو صاحب نے بھی اپنی جماعت اور مدسہ رحمانیہ منکی کی طرف سے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی حلقہ کے ہر علاقہ میں مرحوم نے اپنی خدمات کے نقوش چھوڑے ہیں ۔ انہیں ہمیشہ ہم یاد رکھیں گے ۔آپ نے مرحوم کی توصیف میں کچھ اشعار بھی پیش کئے ۔
ان کے علاوہ تنگنگنڈی جماعت کے جنرل سکریٹری جناب محمد اقبال صاحب بنگالی ،کینرا مسلم خلیج کؤنسل کے صدر جناب کن الدین عبد القادر باشاہ صاحب اور مدیر نقشِ نوائط مولوی عبد العلیم صاحب قاسمی نے بھی مرحوم کے بارے میں مختصراً اپنے اپنے خیالات پیش کئے ۔جناب عبد اللہ دامودی صاحب کے نواسے صفوان موٹیا نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے نانا دوافراد ،دو خاندانوں اور دو جماعتوں کے بیچ اختلافات کو اپنے گھر میں بیٹھ کر حل کرتے تھے ۔رشتوں کو جوڑنے کا سبب بنتے تھے ۔نوائط میوزیم قائم کرنے کا ان کا خواب ادھورارہ گیا ۔جس کے لئے انہوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے بہت سی چیزیں اکٹھا کی ہیں ۔آپ نے ان کے اس خواب کو پورا کرنے کی ذمہ داران سے گذارش کی ۔اس کے بعد انجمن حامی مسلمین کی طرف سے اس کے جنرل سکریٹری جناب صدیق اسمٰعیل صاحب نے تعزیتی قرارداد پڑھ کرسنائی ۔ مجلسِ اصلاح و تنظیم کی طرف سے سکریٹری مالیات جناب ڈی ایف محمدصدیق صاحب نے تعزیتی قرار داد حاضرین کے گوش گذار کی ۔بھٹکل کمیونٹی جدّہ اور بھٹکل مسلم ایسو سی ایشن ریاض کی طرف سے بھی تعزیتی قرار دادیں موصول ہوئی تھیں مگر وقت کی تنگی کی وجہ سے پڑھی نہیں جا سکی ۔

نائب صدرِ تنظیم جناب شاہ بندری عنایت اللہ صاحب نے عبد اللہ صاحب کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ان کے ایک بڑے بھائی کی طرح تھے ۔ انہیں تیار کرنے میں عبد اللہ صاحب کا ہاتھ ہے ۔وہ ایک خادمِ قوم تھے ۔بہت سی صلاحیتوں کے مالک تھے ۔آپ نے کہا کہ اپنی زندگی میں ہم بھی ایسا کام کر جائیں کہ ہمارے مرنے کے بعد لوگ ہمیں بھی یاد رکھیں ۔اجلاس میں شریک قاضی صاحبان ،اداروں کے ذمہ داران ،علماء کرام ،اسمبلی حلقہ کی جماعتوں کے نمائندوں اور تمام حاضرین کا آپ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی بات ختم کی ۔

انجمن حامی مسلمین بھٹکل کے صدر جناب جوکاکو عبد الرحیم صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ تعزیتی اجلاس کے انعقاد کا مقصد صرف مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں ہے ۔بلکہ ایسے بے لوث خدمت گذاروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دینا ہے ۔آپ نے ائی ایچ صدیق ،ایم ایم صدیق اور عثمان حسن جیسی شخصیات کا نام لیتے ہوئے بتایا کہ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے خود کو قوم کے لئے وقف کیا اور قوم کی خدمت کی خاطر بڑے بڑے عہدوں اور منصبوں کی پیش کش کو ٹھکرایا ۔یہاں تک کہ انہوں نے اپنی تجارت کو بھی قربان کیا۔ انہیں اپنی ذات سے ذیادہ قوم کی فکر ستاتی تھی ۔عبد اللہ صاحب کا بھی شمار ایسے لوگوں میں کیا جا سکتا ہے ۔آپ نے مزید کہا کہ اولاد نرینہ (مرد بچے) نہ ہونے کے باوجود وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے ۔حوصلہ سے کام کیا ۔
آخر میں جماعت المسلمین بھٹکل کے قاضی محترم مولانا اقبال صاحب ملّا نے قبرو حشر کی منزلوں میں مرحوم کے لئے ثابت قدمی کی دعا ،اور قرآن خوانی اور صدقہ و خیرات کے ذریعہ ایصالِ ثواب کی گذارش کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور بلندیِ درجات کے لئے دعا کی۔ مغرب کی اذان پر یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا ۔اس اجلاس کی نظامت مولوی نائطے محمد میراں ارشاد صاحب نے کی۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔

کاروار کے ہوم گارڈس دفتر اورکیگا شہری تحفظ مرکز میں یوم ِآزادی کی خصوصی تقریب

شہر میں ہوم گارڈس دفتر میں 72واں یوم ِ آزادی کا جشن پرچم کشائی کے ساتھ منایاگیا ۔ ضلعی آفیسر دیپک گوکرن  نے جھنڈا لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ آزادی کئی ایک مہان ہستیوں کی قربانی کے بعد ملی ہے۔ یہ ملک تکثریت میں وحدت پیش کرنے والا ایک انوکھا ملک ہے۔انہوں نے کہاکہ ...

کاروار : ضلع پنچایت اورمیڈیکل کالج میں یوم ِ آزادی کا جشن :ایمانداری سے اپنے فرائض کو انجام دینا  سچی دیش بھگتی  

اترکنڑا ضلع کے مرکزی مقام کاروار میں اترکنڑا ضلع پنچایت اور میڈیکل سائنس سنٹر میں  جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی کا جشن منایا ۔ جس کی مختصر تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔ ...

بھٹکل میں یوم آزادی کا جشن پورے جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا؛ تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر نے لہرایا جھنڈا

ہر سال کی طرح امسال بھی بھٹکل میں پورے جوش و خروش کے ساتھ  یوم آزادی کی تقریب منائی گئی اور تعلقہ انتظامیہ سمیت مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سمیت تعلیمی اداروں میں بھی  ترنگا جھنڈا لہرایا گیا۔

کورگ میں بارش کی بھاری تباہی ، تین اموات،زمین کھسکنے کے متعدد واقعات 

جنوبی ہند کا کشمیر کہلانے والے ریاست کے کورگ ضلع میں بارش نے زبردست تباہی مچادی ہے۔ ایک طرف بارش کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے تو دوسری طرف پڑوسی ریاست کیرلا میں طوفانی بارش کے سبب وہاں کی ندیوں کا پانی بھی کرناٹک کی طرف بہادیا گیا ہے،

مہادائی ٹریبونل کے فیصلے کا چیلنج کرنے ریاستی حکومت تیار

ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے بعض اضلاع کو پینے کے پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ مہادائی کے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں حال ہی میں ٹریبونل نے جو فیصلہ صادر کیا ہے ریاستی حکومت اس کا سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔