نیم فوجی دستوں کے معذور جوانوں کو اب 20لاکھ روپے معاوضہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 19th June 2017, 11:20 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،18؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کسی کارروائی میں زخمی ہونے کے بعد100فیصد تک معذور ہونے والے نیم فوجی دستوں کے جوانوں کے لئے امدادی رقم نو لاکھ روپے سے بڑھا کر 20لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔وزارت داخلہ نے حال ہی میں ایک دفتری حکم میں کہا کہ یہ بڑھاہوامعاوضہ یکم جنوری 2016کویا اس کے بعدکی سروس میں رہتے معذور ہونے والے تمام مرکزی فورسز کے جوانوں پرلاگوہوگا۔اس میں کہا گیا ہے کہ ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر یہ فیصلہ لیا گیا کہ آسام رائفلز کے جوان کی 100 فیصد معذوری کے لئے ایک جنوری 2016 سے یکمشت امدادی رقم کو 9لاکھ روپے سے بڑھا کر 20لاکھ روپے کیاجائے گا۔100فیصدسے کم معذوری کے معاملات میں معاوضہ کی رقم کومعذوری کی سطح کے تناسب میں کم کیا جا سکتا ہے۔وزارت داخلہ کے تحت آٹھ فورسز کے تقریباََ 10لاکھ نوجوان آتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ولکاتہ برمن اغواء معاملہ عمرقید کی سزاؤں کے خلاف کولکاتہ ہائی کورٹ میں اپیل داخل اپیل سماعت کے لئے منظور ہونے کے بعد ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں داخل کی جائیں گی: گلزار اعظمی

۲۳؍جولائی ۲۰۰۱ء کو مغربی بنگال کے شہر کولکاتہ کی مشہور جوتے کی کمپنی کے مالک روئے برمن کو اغواء کرنے والے معاملے میں نچلی عدالت سے ملزمین کو ملی عمر قید کی سزاؤں کے خلاف جمعیۃ علماء کے توسط سے کولکاتہ ہائی کورٹ میں نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کردی گئیں

کولکاتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال پنچایت الیکشن کے لیے ازسر نو تاریخوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا

مغربی بنگال پنچایت الیکشن میں کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے گذشتہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ الیکشن کے لئے نامزدگی اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان ریاست کے اتفاق رائے سے کرے۔

انڈین مجاہدین مقدمہ (گجرات) کیا واقعی بہت سارے گواہوں کی ضرورت ہے ؟ سپریم کورٹ کا استغاثہ سے سوال

انڈین مجاہدین (گجرات ) مقدمہ میں ماخوذ گذشتہ ۹؍ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقیددو مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے گذشتہ دنوں سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے استغاثہ سے سوال کیا کہ آیاواقعی انہیں ہزاروں گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے ؟