کامن سول کوڈ ایک پہیلی جو حل نہیں ہوسکتی .... رپورٹ: مھدی حسن عینی قاسمی

Source: رپورٹ: مھدی حسن عینی قاسمی | By I.G. Bhatkali | Published on 11th October 2016, 12:17 AM | اسپیشل رپورٹس |

ایک بار پھر سے مودی سرکار کا اسلام دشمن چہرا سامنے آگیا ہے.مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ  میں ’ طلاقِ ثلاثہ‘ کے خلاف حلف نامہ داخل کرکے  کامن سول کوڈ کا دبے لفظوں میں مطالبہ کردیا ہے. آئیے سب سے پہلے یہ جانیں کہ  مسلم پرسنل لاء کسے کہتے ہیں اور مشترکہ سول کورڈ کا نفاذ ہوبھی سکتا ہے یا نہیں؟؟
              
           *مسلم پرسنل لاء*
رب کائنات نے کرہ ارضی پر تمام مخلوقات کو پیدا کرکے ان کےلئےغذا کا انتظام بھی کیا ہے  لیکن انسان چونکہ "بہیمت اور ملکوتیت"
کا مجموعہ ہے اس وجہ سےاس کے لئے جسمانی و روحانی دونوں طرح کی غذاؤوں کا انتظام کیاگیا،انسانوں کی روحانی غذا انبیاء ورسل کی تعلیمات و پیغامات ہیں، اور اب نبی آخر الزماں محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات اورہدایات ہی کا نام "شریعت اسلامی" ہے اور ان کا سمجھنا فقہ کہلاتا ہے اور ان کو علمی و عملی طور پر بصیرت  کے ساتھ سمجھنے والا اوران کی تشریح کرنے والا فقیہ کہلاتا ہے،

شریعت اسلامی کا مدار فوزوفلاح اخروی ہے،
یہی بنیادی فرق اسلامی احکامات اورعدالتوں واسمبلیوں کےقوانین کے مابین ہے جس کی وجہ سے دنیوی عدالتیں  تمام حقوق واحوال کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، PERSONAL LOW شخصی و ذاتی احوال Common Low مشترکہ قانون،جو ملک کے تمام باشندوں پر یکساں نافذ ہوتے ہیں،لیکن شریعت مطہرہ اس تقسیم کو نہیں تسلیم کرتی بلکہ شریعت کے پیغامات ہمہ جہت و عالمگیر اور معاشرت و معاملات، تہذیب وثقافت،اجتماعی و انفرادی،خانگی وبیرونی، ملکی وملی سیاسی وسماجی الغرض تمامہائے شعبہائے حیات انسانی کو پیش آنے والے احوال و مسائل کو محیط ہوتے ہیں،ہمارے ملک عزیز میں بنیادی طور پر رائج "سول کوڈ" سےدو قسم کے احوال و قوانین نافذ ہوتے ہیں،"CIVIL CODE" جس میں یقینی طور پر "criminal CODE" یعنی جرائم پر تادیبی قوانین ملک کے ہر ایک باشندے کے لئے برابر ہیں،اس میں نسل و رنگ،مذھب و مسلک،ذات پات کی وجہ سےکوئی تفریق و امتیاز نہیں ہوتا،
البتہ سول کوڈکا ہی ایک حصہ personal LAW کہلاتا ہے جو ملک کے تمام باشندوں اور مختلف مذاھب کے پیروکاروں  کو ان کے مذھب کی وجہ سے ملتا ہے جس میں مسلمان بھی شامل ہیں،جن کو ان کے مذھبی احکامات کی وجہ سے بعض شعبوں میں  اختیارات ملتے ہیں کہ عائلی مسائل" نکاح و طلاق خلع، ایلاءوظہار،وقف و رضاعت" جیسے معاملات اگر ملکی عدالتوں میں دائر کئے جائیں اور دونوں فریق مسلمان ہوں تو عدالتیں اسلامی قانون کے مطابق ہی فیصلہ کرنےکےپابند ہونگی،انہیں قوانین کےمجموعے  کوMUSLIM PERSONAL LAW  کہا جاتا ہے اور اس کاثبوت قرآن و حدیث سے ہے، مسلم پرسنل لاء  کسی پارلمینٹ کاپاس کردہ قانون نہیں،لہذا اس میں کسی بھی ترمیم وتبدیل کی گنجائش بھی نہیں  ہے.

ہمارےملک ہندوستان میں عرصے سے مسلم پرسنل لاء کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، حکومتیں اور عدالتیں مسلم پرسنل لا کے بنیادی خطوط کو ملک کی ایکتا و اکھنڈتا کے لئے خطرہ بتاتی رہی ہیں. لیکن بورڈ  کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ھیکہ محمڈن لاء کی بنیادقرآن و حدیث ہے جس میں تبدیلی کاکوئی جواز نہیں اور شریعت مطہرہ نے تین طلاق کے بعد بیوی کو کلیۃً علی حدہ کرنے کاحکم دیاہے، لہذا تین طلاق دینے کے بعد بیوی کو روکنا کسی بھی مسلمان کے لئے جائز نہیں، لہذا اس قانون شرعی میں ترمیم عدالت عظمی کے اختیار سے باہر ہے، نیز مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یونیفارم سول  کوڈ کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت عظمی سے سوال بھی  کیاتھا کہ قومی ایکتا و اکھنڈتاکے لئےکیا یونیفارم کایکساں ہونا  ضروری ہے؟ اگر ایساہی ہے تو یکساں سول کوڈ کے باوجود عیسائیوں کے مابین دودو عالمی جنگ کیوں ہوئیں؟ نیز ۱۹۵۶ میں ہندوکوڈ کے آنے کے بعد بھی ہندؤوں کے مابین ذات پات کا اتنا اختلاف کیوں ہے ؟ویسے تو مسلم پرسنل لاء کی تشکیل و ترتیب دستور سازی کے وقت ہی ہوچکی تھی لیکن اس پر بڑےپیمانے پرحملہ اس وقت ہوا جب۱۹۸۵ء میں ” شاہ بانو“ مقدمہ کا سپریم کورٹ نے مسلم پرسنل لاء کے  اِس دفعہ کے خلاف کہ مرد پرعورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری اس کی عدت کے ختم ہونےتک ہی ہے، یہ فیصلہ دیاکہ اُس کا شوہر عدت کے بعد بھی اُس کے نفقہ وخرچہ کو اُٹھاتا رہے گا، تواِس فیصلے کےمخالفِ شرع ہونے کی وجہ سے تمام ہندوستانی مسلمانوں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی، جس کے نتیجے میں ۱۹۸۶ء میں پارلیمنٹ نے مسلم خواتین کے لیے ایک نیا قانون پاس کیا، جس سے سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار پایا.

سرکاری عدالتوں کے اِس طرح کے فیصلے جہاں مسلم پرسنل لاء میں مداخلت ہیں، وہیں مسلمانوں کو دستورِ ہند میں حاصل حق سے محروم کرنے اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی منصوبہ بند سازش کاحصہ ہے۔مگر اِس میں ہم مسلمان بھی برابر کے قصوروار ہیں کہ اپنے اِس طرح کے نزاعات وجھگڑوں کو اپنے مذہبی اداروں (دار الافتاء، دار القضاء، شرعی پنچایت) سے حل کرنے کے بجائے سرکاری عدالتوں کا رخ کرتے ہیں ، اور اُنہیں مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

اب آئیے تفصیل و تحقیق کے ساتھ یکساں سول کوڈ کی حقیقت،اور ازروئےدستور ھند مذھبی آزادی کی حقیقت کو کھنگالیں، نیز
ایک تنقیدی نگاہ دستور ہند اور  مسلم پرسنل لاء پرڈالتے ہیں،ملک کے دستور کا دیباچہ بہت واضح ہے بھارت ایک آزاد، سماج وادی، سیکولرجمہوریہ ہے جس کے شہریوں کو سیاسی،سماجی اور معاشی انصاف حاصل رہے گا اور عقیدہ وعبادت کے ساتھ ساتھ اظہار رائے کی آزدی حاصل ہوگی نیز میعارو مواقع کے اعتبار سے سب شہری برابر ہوں گے ۔ اس دیبا چے کے علاوہ دستور میں  fundamental Rights کے قبیل سے  آرٹیکل 25 و26بھی ہیں  جس میں ملک کے تمام شہریوں کواپنے عقائد اور مذہب پرنہ صرف عمل بلکہ ان کی ترویج و تبلیغ کا حق بھی حاصل ہے اور مذھبی اداروں کا قیام بھی ہے، یہ حق بنیادی حق ہے جو نا قابل تنسیخ ہے ۔مگر اسی دستور میں آگے چل کر رہنما اصول کو جہاں متعین کیا گیا ہے وہاں آرٹیکل44میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ حکومت ہند کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش مسلسل کرتی رہے کہ بالآخر ملک کے تمام طبقات ایک یکساں سول کوڈ کو قبول کرنے پر آمادہ ہو جائیں 15-14،آرٹیکل25،-26آرٹیکل30 اورآرٹیکل44کو اگر ایک ساتھ سامنے رکھ کر پڑھا جائے اور غور کیا جائے توناسخ ومنسوخ کا فلسفہ سامنے آجاتا ہے ۔بلکہ کبھی کبھی تو لگتا ہے  کہ مذکورہ تمام قانونی دفعات آرٹیکل44 کوسامنے رکھ کر ہی ترتیب دی گئی ہیں مثلاً دستور کے دیباچے میں سیاسی، معاشی اور سماجی بنیادوں پر انصاف کو قائم کر نے کی بات کی گئی ہے مگرمذہبی اداروں کے قیام اوران کے انتظام و انصرام کی آزادی کو بھی مشروط کیا گیا ہے۔ان دونوں کا حوالہ عموماً مذہبی آزادی کے ذیل میں دیا جاتا رہا ہے لیکن یہ آزادی کس قدر مشروط ہے اس کی بات کبھی نہیں کی جا تی۔

اس آزادی کو"نقض امن کےاندیشہ" کے تحت سلب کر لینے کی پوری آزادی حکومت ہند کو حاصل ہے نیز اس آزادی کو کسی بھی وقت محدود کر دینے کا اختیار بھی حاصل ہے ۔اسےایسے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی وقت ملک کا کوئی بھی مذہبی طبقہ کسی دوسرے مذہبی طبقے کی مذہبی آزادی کے خلاف بر سرپیکار ہو جائے تو قیام امن کے خاطر اس دفعہ میں ترمیم کرنے کے لئے حکومت با اختیار ہے ۔

نیز یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ مذکورہ بالا دفعات15-14 اور دیباچہ دستور کے پیش نظر اگر عدلیہ ہی برسرپیکار ہوجائےاور حکومت ہندسےمطالبہ کر ےکہ تمام ہندوستانی شہری انصاف کے حصول کی خاطر یکساں ہیں لہٰذا مذہبی بنیادوں پر تفریق کو ختم کیا جائے تو بھی حکومت ہند کے پاس دفعہ 25میں ترمیم یا تنسیخ کا حق حاصل ہے۔ 

اس پورے پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب اگر قانون کے رہنما اصولوں میں تحریر کی گئی دفعہ 44 کا مطالعہ کریں جس میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی بات کی گئی ہے تو صاف محسوس ہو جا تا ہے کہ پورا دستور ہی در اصل اسی دفعہ کو ذہن میں رکھ کر تربیت دیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ اس دستور سازی میں آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا کا کوئی رول نہیں تھا کیوں کہ دستور ساز اسمبلی میں صرف کانگریسی نمائندے ہی موجود تھے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈ کر اور کے ایم منشی نے زور دار طریقے سے یکساں سول کوڈ کی حمایت کی تھی ۔خود نہرو بھی 1930سے ہی اس طرح کے یکساں قانون کے ہمیشہ حامی رہے اور در اصل ان کے اور"امبیڈ کر" کے اصرار پر ہی یہ دفعہ دستور کے رہنما اصولوں میں شامل کی گئی تھی۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ نہرونے 1951 میں ہی پارلیمنٹ میں ہندو کوڈ بل پیش کر دیا جسے ہندؤں کے شدید مخالفت کا سامنا تو ضرور کرنا پڑا مگر1954 سے1956تک وہ پاس بھی ہوگیا ۔ اس بل کے پاس ہونے کے بعد یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی راہ میں محض مسلمان،عیسائی، اور پارسی ہی رکاوٹ ہیں ۔اب جبکہ پارسی اور عیسائی میرج ایکٹ میں بھی ترمیم ہو چکی ہے بودھ،سکھ اور جین پہلے ہی ہندؤں کے زمرے میں شامل ہیں تو اب بظاہر مسلمان ہی اس راستے کی تنہا رکاوٹ محسوس ہوتے ہیں ۔1950میں نرسو مالی اور بمبئی حکومت کے مابین مقدمے کے فیصلے سے ہی اس یکساں کوڈ کے نفاذ کی جانب قدم بڑھائے جانے شروع کر دیئے گئے تھے بعد ازاں زہرہ خاتون بنام محمد ابرہیم الہ آباد،سرلا مدگل بنام حکومت ہند، 
محمد احمد خان بنام شاہ بانو بھوپال، دانیال لطیفی بنام حکومت ہند اور  6جولائی2015 میں ہندو ماں بنام عیسائی بچہ جیسے فیصلوں  میں ہر مرتبہ ججوں نے یکساں سول کوڈ کی حمایت کی اور دستور کے بنیادی حقوق کی دفعہ 14اور15کا حوالہ دیتے ہوئے آرٹیکل44کے نفاذکا مطالبہ کیا ہے ان میں سے کوئی بھی فیصلہ بادی النظر میں خلاف قانون نہیں ہے لیکن ہر فیصلہ یا تو خلاف شریعت ہے یا اس میں خواتین کے حقوق کی دہائی دے کر شریعت پر حملہ کیا گیا ہے ۔ 

ابھی مرکزی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ میں جو حلف نامہ پیش کیا گیا ہے اس میں تین باتوں پر زور دیا گیا ہے ۔
(۱)طلاقِ ثلاثہ ضروری اسلامی اصولوں میں سے نہیں ہے ۔۔۔ یعنی  اگر’طلاقِ ثلاثہ‘ پر ’ پابندی‘ عائد بھی کردی گئی تو اس پابندی سے اسلامی شریعت اور اسلامی اصولوں کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی
(۲) ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو ۔۔۔ کیا مرد اور کیاخواتین ۔۔۔ یکساں حقوق فراہم کرتا ہے ۔۔۔ یعنی ’طلاقِ ثلاثہ‘  کے ذریعے آئین کے فراہم کردہ یکساں حقوق کی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوتی ہے ،کیونکہ مرد یک طرفہ طور پر تین بار ’ طلاق‘ بول کر عورت کو چھوڑ دیتا ہے،لہٰذا آئین کے فراہم کردہ ’حقوق‘ کو یقینی بنانے کے لئے ’طلاقِ ثلاثہ‘  پر پابندی لگنی ہی چاہیئے ۔ (۳) خواتین کی عزتِ نفس سے کھلواڑ کرنے والوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔ یعنی یہ کہ ’طلاقِ ثلاثہ‘  کا عمل اس ملک کی مسلم  خواتین کی عزتِ نفس سے کھیلنے کا عمل ہے لہٰذا اس پر پابندی ضروری ہے ۔ 
حلف نامہ میں ’ تعددازدواج‘ یعنی ایک سے زائد شادیوں اور ’ حلالہ‘ کا بھی ذکر ہے ۔۔۔ حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ ’ تعددازدواج ‘ پر اور’حلالہ‘ پر بھی پابندی عائد ہونی چاہئے
اس حلف نامہ کا خلاصہ یہی ھیکہ مسلم پرسنل لاء کا وجود ختم کرکے کامن سول کوڈ کو نافذ  کیا جائے 
اب اگر ہم حکومت سے مطالبہ کریں کہ    پہلے اس کا خاکہ پیش کرو کہ وہ سول کوڈ کیا ہوگا؟ 
پھر ہم اس پر بحث کریں گے تو یقیناًحکومت ہند دباؤ میں آجائے گی۔ اس لئے کی ایسا  کوئی خاکہ پیش کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ 1870میں ہی تاج برطانیہ نے اعلان کر دیا تھا کہ ہندوستانیوں کے مذہبی امور میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ 

اس سے قبل ہندو عہد اور مغلیہ  عہد میں بھی کوئی مشترکہ سول کوڈ نہیں رہا اور سب نے اس امر کا اعتراف ہمیشہ سے کیا ہےکہ کسی بھی مذہب کے عائلی قوانین میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے گویا ایک ہزار سال کی ہندو مسلم مشترکہ تہذیب میں کبھی بھی مشترکہ کوڈ کی  ضرورت محسوس نہیں کی گئی اس کے عدم موجودگی میں کسی عوامی نقض امن کا کوئی معاملہ بھی پیش نہیں آیا۔ اسی طرح آزاد ہندوستان کی تقریباً70سالہ تاریخ میں بھی ہم ایک مشترکہ سول کوڈ کے بغیر بناکسی تنازع کے پرامن طور پر جی رہے ہیں۔ چنانچہ جب ہزاروں سال سےبناکسی مشترکہ سول کوڈ کے ملک چل رہا ہے تو اب اس بحث کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے یہ مان بھی لیا جائے کہ 1947میں آزادی کے وقت ملک کو ایک سیکولر اور بقائے باہم پرمبنی ریاست کے قیام کے لئے نہرو جیسے کچھ جدت پسند افرادنے مشترکہ سول کوڈکی ضرورت محسوس کی ہوگی مگرآزاد ہندوستان کے گذشتہ 70سال کے احوال کے بجائے خود یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ملک کوکسی مشترکہ کوڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہے. کم از کم عدلیہ کو ہی حکومت ہند سے براہ راست یہ سوال کرنا چاہئے کہ اس نے دفعہ44کی تنفیذکے لئے کیا کیا اقدامات کئے ہیں۔ ملک میں سیکولر اور مشترکہ سول کوڈ کی وکالت کرنے والی تنظیموں کو بھی حکومت ہند سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ دفعہ 44کی تنفیذکے لئے کئے گئے اقدامات پر قرطاس ابیض جاری کرے ۔ اور اگر اس سمت ابھی تک کچھ نہیں ہوا ہے تو پھر اس کا مطلب سمجھنا چاہیئے کہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ یکساں سول کوڈ کا نفاذ ایک ملی جلی تہذیب والے ملک میں ناممکن الحصول امر ہے اور حکومتیں خود بھی اس قسم کے کوڈ بنانے اور ان پر عمل پیرائی کرانے سے عاجز ہیں ۔چنانچہ مسلم تنظیموں سمیت ملک میں قیام امن اور سماجی انصاف کے لئے کام کرنے والی تمام تنظیموں کو مطالبہ کر نا چاہئے دستور کے رہنما اصولوں کی دفعہ44کو فی الفورحذف کیا جائے۔ 

واقعہ یہ ہے کہ جب تک دستور میں دفعہ 44 موجود ہے اور جب تک دفعہ14 اور15میں ترمیم نہیں کی جاتی اور دفعہ25اور 26کو غیر مشتروط نہیں کیا جاتا تب تک ہندستان میں مسلمانوں کی عائلی نظام پر تلوارلٹکتی رہے گی۔ فعال و متحرک نیز مرکزی  تنظیم جمعیۃ علماء ھند  ومسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ پتوں کو چھوڑ کر جڑوں کی بیخ کنی کی تحریک کا آغاز کریں۔
اور عدالت عظمی سے یہ اپیل کرے اگر کامن سول کوڈ لانا ہو تو ہندؤوں کی شادی کوڈ کو منسوخ کرے.سکھوں سے کرپال رکھنے کو منع کرے،جینیوں کو ننگا رہنے سے روکے، مذھبی مقامات پر  نشہ خوری پر پابندی لگائے،کیونکہ یہ سب بھی آئینی دفعات  کے مخالف ہیں لیکن ان سبھوں کو مذھبی معاملات  بتا کر اجازت دی گئی ہے.

ایک نظر اس پر بھی

آننت کمار ہیگڈے۔ جو صرف ہندووادی ہونے کی اداکاری کرتا ہے ’کراولی منجاؤ‘کے چیف ایڈیٹر گنگا دھر ہیرے گُتّی کے قلم سے

اُترکنڑا کے رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے جو عین انتخابات کے موقعوں پر متنازعہ بیانات دے کر اخبارات کی سُرخیاں بٹورتے ہوئے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے، اُس کے تعلق سے کاروار سے شائع ہونے والے معروف کنڑا روزنامہ کراولی منجاو کے ایڈیٹر نے  اپنے اتوار کے ایڈیشن میں اپنے ...

کیا جے ڈی نائک کی جلد ہوگی کانگریس میں واپسی؟!۔دیشپانڈے کی طرف سے ہری جھنڈی۔ کانگریس کر رہی ہے انتخابی تیاری

ایسا لگتا ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے چند مہینے پہلے کانگریس سے روٹھ کر بی جے پی کا دامن تھامنے اور بی جے پی کے امیدوار کے طور پر فہرست میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کی جلد ہی دوبارہ کانگریس میں واپسی تقریباً یقینی ہوگئی ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق اس کے لئے ضلع ...

ضلع شمالی کینرا میں پیش آ سکتا ہے پینے کے پانی کابحران۔بھٹکل سمیت 11تعلقہ جات کے 423 دیہات نشانے پر

امسال گرمی کے موسم میں ضلع شمالی کینرا میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کے آثار نظر آر ہے ہیں۔ کیونکہ ضلع انتظامیہ نے 11تعلقہ جات میں 428دیہاتوں کی نشاندہی کرلی ہے، جہاں پر پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

ہوناور قومی شاہراہ پرگزرنےو الی بھاری وزنی لاریوں سے سڑک خستہ؛ میگنیز کی دھول اور ٹکڑوں سے ڈرائیوروں اور مسافروں کو خطرہ

حکومت عوام کو کئی ساری سہولیات مہیا کرتی رہتی ہے، مگر ان سہولیات سے استفادہ کرنےو الوں سے زیادہ اس کاغلط استعمال کرنے والے ہی زیادہ ہوتے ہیں، اس کی زندہ مثال  فورلین میں منتقل ہونے والی  قومی شاہراہ 66پر گزرنے والی بھاری وزنی لاریاں  ہیں۔

لوک سبھا انتخابات 2019؛ کرناٹک میں نئے مسلم انتخابی حلقہ جات کی تلاش ۔۔۔۔۔۔ آز: قاضی ارشد علی

جاریہ 16ویں لوک سبھا کی میعاد3؍جون2019ء کو ختم ہونے جارہی ہے ۔ا س طرح جون سے قبل نئی لوک سبھا کا تشکیل ہونا ضروری ہے۔ انداز ہ ہے کہ مارچ کے اوائل میں لوک سبھا انتخابات کا عمل جاری ہوجائے گا‘ اور مئی کے تیسرے ہفتے تک نتائج کا اعلان بھی ہوجائے گا۔ یعنی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت 17ویں ...

2002گجرات فسادات: جج پی بی دیسائی نے ثبوتوں کو نظر انداز کردیا: سابق IAS افسر و سماجی کارکن ہرش مندرکا انکشاف

 خصوصی تفتیشی ٹیم عدالت کے جج پی ۔بی۔ دیسائی نے ان موجود ثبوتوں کو نظر انداز کیاکہ کانگریس ممبر اسمبلی احسان جعفری جنہیں ہجوم نے احمدآباد کی گلمرگ سوسائٹی میں فساد کے دوران قتل کردیا تھا انہوں نے مسلمانوں کو ہجوم سے بچانے اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے فساد پر قابو ...