دھنیا شری خودکشی معاملہ: کلیدی ملزم گرفتار۔ وہاٹس ایپ گروپس کے اراکین پر پولیس کی نظر

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th January 2018, 10:13 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

چکمگلورو11؍جنوری (ایس او نیوز)مسلم لڑکے کے ساتھ دوستی کے معاملے کو لے کر زعفرانی مورل پولیسنگ بریگیڈ کی ہراسانی کی وجہ سے موڈی گیرے کامرس کالج طالبہ دھنیا شری نے جو خود کشی کرلی تھی، اس تعلق سے کلیدی ملزم جنوبی کینرا بنٹوال تعلقہ کے سنتوش(20سال) کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ سنتوش نے دھنیا شری سے وہاٹس ایپ پر مسلم لڑکے کے ساتھ اس کی دوستی کے تعلق سے بحث کی تھی اور یہ تمام گفتگو بجرنگ دل کے کارکنان اور کچھ دیگر افراد کو فارورڈ کردی تھی۔ جس کے بعدبجرنگ دل کے لیڈروں کی طرف سے دھنیا شری کو دھمکیاں دی جانے لگیں۔ سنتوش اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دھنیا شری کے والدین کو بھی دھمکیاں دی تھیں۔جس کے بعدذہنی دباؤ کی وجہ سے دھنیا نے پھانسی لگاکر خودکشی کی تو سنتوش فرار ہوکر بنگلورو میں روپوش ہوگیا تھا۔بالآخر مصدقہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے موڈی گیرے پولیس اسٹیشن ہاوس افیسر ایم رفیق اور ان کی ٹیم نے سنتوش کو گرفتار کرلیااور مزید دو افراد کی تلاش جاری ہے۔اس سے پہلے اسی معاملے میں بی جے پی یوا مورچہ کے ایک لیڈر انیل کو پولیس نے گرفتارکرلیا تھا۔

دھنیا شری کے والد نے ابتدا میں پولیس کو بیان دیا تھا کہ دھنیا شری موبائل فون پر اجنبیوں سے چیاٹنگ میں مصروف رہتی تھی۔ چونکہ امتحانات قریب تھے اس لئے انہوں نے اس کے موبائل استعمال کرنے پر پابندی لگادی تھی۔ اس سے ناراض ہوکر اس نے خود کشی کی ہے۔ لیکن پولیس نے تفتیش کے دوران دھنیا شری کے گھر سے ’ڈیتھ نوٹ‘ برآمد کرلیا جس سے خود کشی کا اصل سبب سامنے آگیا۔

دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے اشتعال انگیز مسیج وہاٹس ایپ پر شیئر نہ کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔یاد رہے کہ ہندولڑکیوں کو غیر ہندو لڑکوں کے ساتھ دوستی نہ کرنے کی وارننگ دینے والا مسیج ’موڈی گیرے بجرنگ دل گروپ‘ میں پوسٹ ہواتھا اور وہاں سے دیگر گروپس میں شیئر اور فارورڈ ہوتا گیا ۔اب پولیس موڈی گیرے وہاٹس ایپ گروپس کے ان اراکین پر تفتیشی نظر بنائے ہوئے ہیں جنہوں نے اس مسیج کو پھیلانے میں حصہ لیا ہے۔ 

چکمگلورو کے ایس پی انّا ملائی نے کہا ہے کہ’’ اس قسم کا مسیج سوشیل میڈیا پر عام کرنا ایک جرم ہے۔6جنوری کو جس دن یہ مسیج عام ہواتھا اسی دن دھنیا شری نے خود کشی کرلی تھی۔اس لئے ہم نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جنہوں نے اس مسیج کو شیئر یا فارورڈ کیا تھا۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

بیلتھنگڈی میں غیر قانونی ریت کا ذخیرہ ؛ تحصیلدار کی قیادت میں چھاپہ : کشتیاں ضبط

بیلتھنگڈی تحصیلدار کی قیادت میں تعلقہ کے دھرمستھل ، اجکوری نامی مقام پر چھاپہ مارتے ہوئے افسران نے ندی کنارے جاری غیر قانونی ریت سپلائی کے ذخیرے اور کشتیوں کو ضبط کرلینے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

منگلورمیں سواریوں کی تلاشی کے دوران غیر قانونی ریت سپلائی کرنے والی ٹپر لاریاں ضبط

منگلورو جنوبی زون کے اے سی پی ، جنوبی زون راؤڑی نگراں دستہ کے ساتھ مشترکہ طورپر کنکناڑی شہری پولس تھانہ حدود کے پڈیل جنکشن اور پمپ ویل قومی شاہراہ پر سواریوں کی تلاشی کے دوران غیر قانونی طورپر ریت سپلائی کرنےو الی لاریوں کا پتہ چلنے پر سواریوں کو ضبط کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

ہوناور شراوتی ندی سے ریت سپلائی کے انتظار میں مزدور، ٹھیکدار اور سواری مالکان :کیا حکومت اس طرف توجہ دے گی ؟

گذشتہ جون سے بند ریت سپلائی ستمبر ختم ہونےکو ہے شروع ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آنے  سے ریت پر انحصار کرنے والے مزدور، سواری مالکان، ٹھیکدار سب پریشان ہیں۔ سرکاری عمارات سمیت کئی پرائیویٹ عمارات کی تعمیر ریت نہیں ملنے کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں، ترقی کو گرہن لگاہے۔

مینگلور کے قریب بنٹوال میں نابالغہ کی عصمت دری کی کوشش : تین ملزم گرفتار

چہارم جماعت میں زیر تعلیم نابالغہ کی عصمت دری کی کوشش کئے جانے کا واقعہ بنٹوال تعلقہ پانے منگلورو کے قریب گوڈینبلی میں پیش آیاہے۔ اس سلسلے میں بنٹوال شہری تھانہ پولس نےمعاملے کو لےکر تین ملزموں کو گرفتار کیا ہے۔

یڈیورپا میرے صبر کا امتحان نہ لیں؛ حکومت کو گرانے کی بارہا کوشش بی جے پی کو زیب نہیں دیتی: کمار سوامی کا بیان

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا کو متنبہ کیا ہے کہ بارہا ریاستی حکومت کو گرانے کی کوشش کرکے وہ ان کے صبر کا امتحان نہ لیں۔اگر یہ کوشش جاری رہی تو یڈیورپا کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش پرسدرامیا نے کہا؛ اپوزیشن کار ول ادا کرنے کی بجائے بی جے پی بے شرمی پر اتر آئی ہے

سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی  حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا نے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کو ایک تعمیری اپوزیشن پارٹی کا رول ادا کرنا چاہئے، لیکن ایسا کرنے کے  بجائے انتہائی بے شرمی سے یہ پارٹی ریاستی حکومت کو گرانے کی کوششوں کو اپنا معمول بناچکی ہے۔