سول سروسس کے امتحانات اور مسلم نوجوان تحریر: آفتاب حسین کولا

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 25th September 2016, 6:46 PM | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل کے انگریزی صحافی آفتاب حُسین کولا کے اس معلوماتی انگریزی مضمون کا اُردو ترجمہ ساحل آن لائن کے قارئین کے لئے پیش کیا جارہا ہے۔ ساحل آن لائن کی درخواست پر اُردو صحافی ڈاکٹر محمد حنیف شباب صاحب نے اس مضمون کا اُردو ترجمہ پیش کیا ہے۔  (ادارہ) 

ہندوستان میں اکثر مسلم نوجوان اپنی اعلیٰ تعلیم کے لئے ڈاکٹر، انجینئریا ایم بی اے کا شعبہ اختیار کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے دیگر پیشہ وارانہ شعبہ جات اورخاص کر سول سروسس کے اہم ترین شعبے میں مسلمانوں کی نمائندگی بہت ہی کم نظر آتی ہے۔حالانکہ مسلمانوں میں تعلیم کا گراف کافی حد تک بڑھ گیا ہے مگر طلباء کی صحیح سمت میں رہنمائی کے فقدان کی وجہ سے حقیقی معنوں میں مسلم ملت کی سماجی ترقی کا رخ متعین نہیں ہوسکا ہے۔

 ہمارے ملک میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جوسول سروس امتحانات میں شریک ہونے اوراس راستے سے سرکاری سطح پر انتظامیہ کا حصہ بننے کا خواب دیکھتی ہے اور اپنے اندر اس منزل کو پانے کا جذبہ بھی رکھتی ہے۔سول سروسس میں مسلمانوں کی نمائندگی کا جائزہ لینے سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں اس شعبے کی اہمیت کیا ہے۔اس بات سے کسی کو بھی انکار ہو ہی نہیں سکتا کہ سول سروسس کے امتحانات پاس کرنا حکومتی ڈھانچے کا حصہ بننے کے لئے ایک بنیادی ذریعہ ہے۔یہ و ہ شعبہ ہے جہاں اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کے جوہر دکھانے اوراعلیٰ سماجی خدمات انجام دینے کے بہترین مواقع حاصل ہوتے ہیں۔

سول سروسس کے افسران مرکزی، ریاستی، ضلعی اور مقامی سطحوں پر سیاسی لیڈروں کے مشیر ہوتے ہیں جو انہیں غیر جانبدارانہ اور منصفانہ مشورے دینے اور مفید اقدامات  کی راہ دکھانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔مرکزی اور ریاستی سطح پر حکومت کی پالیسیاں وضع کرنے اور ان پر عمل درآمد کروانے میں ان کا ہاتھ ہوتا ہے۔جبکہ ضلعی سطح پر ایک آئی اے ایس افیسرضلع کے معاملات اور اس علاقے کی ترقی کے لئے سرگرم رہتا ہے۔ڈیویژنل سطح پر امن و قانون کا ماحول بنائے رکھنا، عام انتظامی ذمہ داریاں ادا کرنا اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل پیرائی اس طرح کے افسران کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC)کے ذریعے سول سروسس امتحانات کی بنیاد پر حکومت کا حصہ بن کر افسری کی خدمات انجام دینے کے لئے فی الحال 28مختلف شعبہ جات ہیں۔جن میں انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس(آئی اے ایس)، انڈین پولیس سروس(آئی پی ایس)، انڈین فارین سروس(آئی ایف ایس)، انڈین ریوینیو سروس(آئی آر ایس)، انڈین پوسٹل سروس، انڈین ریلوے سروس اور دیگر شعبہ جات شامل ہیں۔

ان امتحانات میں شرکت کے لئے کسی بھی فیکلٹی میں گریجویشن کافی ہے۔ البتہ ہر سال یکم اگست تک امیدوار کی عمر کی حد 21سے32سال کے اندر ہونی چاہیے۔ پسماندہ ذات/پسماندہ قبائل، دیگرپچھڑے طبقات اور جسمانی معذورین کے لئے عمر کی حد میں رعایت کی جاتی ہے۔عام زمرے کے تحت جو امیدوار ان مقابلہ جاتی امتحانات میں شریک ہوتے ہیں،اور ناکام رہتے ہیں ان کو مزید قسمت آزمانے کے لئے زیادہ سے زیادہ چھ مواقع ملتے ہیں۔جبکہ دیگر زمروں کے تحت  شریک ہونے والوں کو کچھ اور اضافی مواقع دئے جاتے ہیں۔آئی اے ایس، آئی پی ایس اور انڈین فاریسٹ سروس کے امتحانات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو بطور افیسر مخصوص ریاستوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔جبکہ بقیہ سروسس کے کامیاب امیدوار بطور افیسرکسی مخصوص ریاست کے بجائے ہندوستان میں کہیں بھی ذمہ داریاں ادا کرسکتے ہیں۔

ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی صورتحال کے بارے میں جائزہ لینے کے لئے قائم کردہ سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ دیگر قوموں کے مقابلے میں مسلمان ان تینوں محاذوں پر بہت ہی پچھڑے ہوئے ہیں۔مشہور مصنف اور زکوٰۃ فاونڈیشن آف انڈیا کے صدر ظفر محمود کا کہنا ہے کہ:"   1947میں ہندوستان کی آزادی کے بعدمسلسل چھ دہوں سے اس مجموعی محرومی کے برے اثرات اس طرح بھی پڑے کہ اہلیت اوربہترین صلاحیتیں موجود ہونے کے باوجود مسلم نوجوان افسرشاہی گروہ میں شامل ہوکر حکومتی سطح پر خدمات انجام دینے کے لئے مقابلہ جاتی امتحانات میں شریک ہونے اورآگے بڑھنے سے دور رہے۔اس کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ مقابلہ جاتی امتحانات کے بارے میں نوجوانوں میں بیداری اور معلومات کی بڑی کمی پائی جاتی ہے۔اور اس کے لئے مناسب تیاریاں بھی نہیں کی جاتی ہیں۔ان تینوں محاذوں پر اداروں اور تنظیموں کی سطح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔"

آج مسلم قوم میں ایک نئی صبح طلوع ہونے کے آثار اس طرح نمایاں ہورہے ہیں کہ مسلم نوجوان زیادہ سے زیادہ اعلیٰ تعلیم پانے کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی صحیح رہنمائی کا فقدان اب بھی باقی ہے۔بنجارہ اکیڈیمی بنگلور وکے علی خواجہ جنہوں نے ہزاروں نوجوانوں کی کاونسلنگ کرتے ہوئے ان کی زندگی کے دھارے کو ایک نیا موڑ دیا ہے، کہتے ہیں کہ:  "اپنے مستقبل کے پیشہ کا انتخاب کسی طالب علم کی زندگی کاشاید سب سے اہم ترین فیصلہ ہوتا ہے۔اس کا صحیح انتخاب وہ نہیں ہوتا ہے جو اس نے دوسروں کی دیکھا دیکھی یا مستقبل کی گنجائش(اسکوپ) کو سامنے رکھ کر کیا ہو۔ بلکہ صحیح انتخاب وہ ہے جو اس نے اپنی صلاحیت، دلچسپی، رجحان اور استعداد کی بنیاد پرکیا ہو۔اور یہی چیز اسے اس مقابلہ جاتی دنیا میں اپنے قدم جمانے، آگے بڑھنے اوربرق رفتاری سے کامیاب ہونے میں ممد و معاون ہوتی ہے۔"

سول سروسس ایک بہت ہی عزت و اکرام والا شعبہ ہے مگر مسلم نوجوان اس سے دامن بچاتے ہیں۔وہ سوچتے ہیں کہ یہ انتہائی سخت مقابلہ ہوتا ہے جس میں کامیاب ہونا بہت ہی دشوار ہے۔ اس کے علاوہ ان کو یہ احساس بھی رہتا ہے کہ مسلم فرقے کو انٹرویو کے موقع پر استحصال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے ساتھ جانبداری برتی جاتی ہے۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اس طرف راغب کرنے کی صحیح معنوں میں کوشش بھی نہیں ہوتی اور رہنمائی بھی نہیں کی جاتی ہے۔ان نوجوانوں کے پاس منصوبہ بندی نام کو بھی نہیں ہوتی۔زندگی میں کئی بار وہ سنہرے مواقع سے صرف اس لئے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کہ ان کے اندر پیشگی منصوبہ بندی کی کمی تھی۔یا پھر انہیں اپنے سامنے موجودمختلف ترجیحات میں سے کسی ایک کے انتخاب کا شعور نہیں تھا۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ پچھلے کچھ برسوں سے سول سروسس میں مسلم نمائندگی صرف 3فیصد پر کیوں اٹکی ہوئی ہے؟ سال 2012میں ان مقابلہ جاتی امتحانات میں 998 امیدوار کامیاب ہوئے ان میں کامیاب ہونے والے مسلم امیدوار صرف 31 تھے۔ جس کا مطلب ہے کہ نتیجہ 3.10%تھا۔سال  2013   میں 1,122 امیدوار کامیاب ہوئے جن میں 34مسلم امیدوار شامل تھے۔ یعنی نتیجہ 3.03%رہا۔پھر اگلے سال جو1236امیدوار کامیاب رہے ا ن میں 40 مسلم امیدوار کامیاب رہے اور اس بار ان میں 4خواتین بھی شامل تھیں۔ نتیجہ 3.2فیصد رہا۔سال2015میں یو پی ایس سی کے جو نتائج نکلے اس میں کامیاب مسلم امیدواروں کی تعداد 37ہے اور اس میں ایک کشمیری نوجوان اطہر عامرالشفیع خان شامل ہے۔جس نے 1,078کامیاب امیدواروں میں دوسرا مقام حاصل کیا ہے۔اس بار کا نتیجہ بھی 3.43فیصد ہی رہا۔ اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کامیابی کی شرح 3فیصد کے آس پاس ہی اٹک کر رہ گئی ہے۔

اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اس تین فیصد کو اور آگے بڑھا کر کم ازکم پانچ فیصدتک کیسے لایا جاسکتا ہے؟سب سے پہلے مسلمانوں کے خلاف اگر امتیازی سلوک کا ماحول موجود ہے تو پھر اسے ختم کرنا ضروری ہے۔اس قسم کی ایک مثال امسال یو پی ایس سی کے آئی اے ایس فائنل نتائج میں کامیاب ہونے والے ایک مسلم امیدوار کی سامنے آئی ہے جسے ممبئی سے پونہ آکر فرگوسن کالج میں داخلہ لینے کے بعد رہائش اور اقامتی سہولت پانے کے لئے اپنا مسلم تشخص ختم کرنا پڑا تھا۔اوراپنے نام کے ساتھ ہندو تشخص ظاہر کرنے والا لقب 'شوبھم'اختیار کرنا پڑا تھا۔

اگر سچر کمیٹی رپورٹ کی بات کریں تو پتہ چلتا ہے کہ 20سال کی عمر کے مسلم نوجوانوں میں 4%سے بھی کم نوجوان گریجویشن مکمل کر پاتے ہیں۔ یہ شرح عام آبادی کے تناسب سے بہت ہی کم ہے۔مسلم نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔ اس لئے کہ بالفرض اگر سول سروسس میں موقع نہیں بھی ملتا ہے تو بھی اعلیٰ درجے کی عزت و اکرام والی ملازمتیں تو ضرور حاصل کی جاسکتی ہیں۔اگر مسلمانوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس سے یو پی ایس سی امتحانات میں شریک ہونے لائق طلباء کی تعداد میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔اگر آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ہر سال مسابقہ جاتی امتحانات میں کامیاب ہونے والے مسلم امیدواروں کی تعداد کا اوسط180کے آس پاس ہونا چاہیے۔جبکہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق امتحانات میں مسلم امیدواروں کی شرکت کا تناسب محض 0.25 فیصد ہے۔ظاہر ہے کہ اسی مقام پر بہت زیادہ اضافے کی ضرورت ہے۔ طلباء کو مسابقہ جاتی امتحانات کی طرف راغب کرنے کا سلسلہ Plus-2لیول پر ہی شروع کیا جانا چاہیے۔

آج کے دور میں ایسے بہت سارے ادارے سرگرم عمل ہیں جو طلباء کو مسابقہ جاتی امتحانات کی طرف راغب کرنے کے لئے سیمینارس منعقد کرنے اور آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسر بننے میں دلچسپی کا رجحان رکھنے والے طلباء کی خصوصی تربیت کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ان میں سے ایک زکوٰۃ فاونڈیشن آف انڈیا ہے جہاں محدود تعداد میں ان طلباء کوسول سروسس کے مسابقہ جاتی امتحانات میں شریک ہونے کی پوری تربیت دی جاتی ہے،جوتعلیمی اعتبار سے بہت ہی زیادہ باصلاحیت اور مالی اعتبار سے کمزورہوتے ہیں۔ظفر محمود کا کہنا ہے کہ "زکوٰۃ فاونڈیشن کی طرف سے امیدواروں کا انتخاب آن لائن درخواست کے بعد پوری طرح جانچ پڑتال اور محنت کے ساتھ کیا جاتا ہے جس میں ٹیسٹ اور انٹرویوز بھی شامل ہیں۔اس انتخاب کے بعد دہلی میں موجود ایسے امتحانات کی کوچنگ کرنے کے لئے مشہور اورنامور اداروں جیسے Vajiram, ALS, Synergy, Sriram وغیرہ میں ان طلباء کا داخلہ کروایا جاتا ہے۔طلباء کی فیس زکوٰۃ فاونڈیشن کی جانب سے براہ راست کوچنگ کرنے والے مراکزکو ادا کردی جاتی ہے۔دوسرے ادروں کے مقابلے میں اس میدان میں زکوٰۃ فاونڈیشن کے امیدواروں کی کامیابی کا تناسب کافی زیادہ ہے۔ سال 2008سے 2016تک اس ادارے کے تحت تربیت پاکر کامیاب ہونے والے امیدواروں کی تعداد76ہے، جو اب سرکاری مشینری کا ایک حصہ بن کر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔"

 ظفر محمود کا احساس ہے کہ حکومتی سطح پر پالیسی سازی اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے والوں میں مسلمان دیگر سماجی اور مذہبی گروہوں سے کہیں زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں۔مستقبل کے منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ:"زکوٰۃ فاونڈیشن کی طرف سے دہلی میں اپنا ایک وسیع عریض کیمپس اسی مقصد کے لئے 'سر سید کوچنگ اینڈ گائیڈنس سنٹر فار سول سروسس کے نام سے قائم کیا جارہا ہے۔جہاں تقریباًپانچ سو طلباء کے لئے رہائشی سہولت کے ساتھ ٹریننگ دی جائے گی۔اس سے زکوٰۃ فاونڈیشن کو ہر سال زیادہ سے زیادہ طلباء کو مسابقہ جاتی امتحانات میں آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔اورمبنی بر صلاحیت اسپانسر شپ کی ذریعے سول سروسس میں مسلمانوں کی نمائندگی کی کمی دورکی جاسکے گی۔"انہوں نے کہا کہ یہ جو مجوزہ سر سید کوچنگ اینڈ گائڈینس سنٹروائی فائی کی سہولت سے آراستہ اسٹڈی کم ریسیڈنشیل کیمپس ہوگا۔جہاں ملک کے بہترین کوچ طلباء کی تربیت کیا کریں گے۔یہاں پر طلباء کو تمام جدیدسہولیات حاصل رہیں گی۔اس ضمن میں مزید معلومات کے لئے اس پتے پر [email protected]رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت ہمدرد کوچنگ سنٹر بھی سول سروس امتحانات کی تیاری کے لئے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔یہاں پر طلباء کے لئے قیام و طعام کی بہت ہی عمدہ سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔جنوبی دہلی میں 14ایکڑ پر پھیلے تعلیم آبادمیں بہت ہی کارآمد اور مفید لائبریری، انٹرنیٹ کی سہولت، ریکریشن روم، جدید طرز کا ڈائننگ روم اور کچن کے ساتھ آفس کامپلیکس وغیرہ موجود ہے۔یہاں ہاسٹل کے اخراجات کے طور پر 800روپے اورطعام کے لئے 850روپے ماہانہ ادا کرنے ہوتے ہیں۔رابطہ کا پتہ نوٹ کرلیں: [email protected]

مکہ مسجد کے امام مولانا شمس الدین صالح قاسمی کی قیادت میں چینئی میں قائم اے کے ((Azhagiya Kadanاکیڈمی ہے جو سول سروسس میں مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے بڑی پرزور تحریک چلارہی ہے۔مسلم نوجوانوں کو سول سروسس کے امتحانات میں شرکت پر آمادہ کرنا اور ا س کے لئے ان کی ذہن سازی کرنا اس اکیڈمی کا اہم اور قابل ستائش کام ہے۔اکیڈمی کی جانب سے منصوبہ بند طریقے پر امتحان میں شرکت کے خواہشمند طلباء کی تربیت انجام دی جاتی ہے۔ اس ادارے سے اس پتے پر رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے۔[email protected]

:SahilOnline Coastal news bulletin in URDU dated 26 September 2016

 

ایک نظر اس پر بھی

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...

کیرالہ اور مڈکیری میں پہاڑ کھسکنے کے واقعات کے بعد کیا بھٹکل محفوظ ہے ؟

جب کسی پر  بوجھ حد سے زیادہ  بڑھ جاتا ہے تو انسان ہو یا  جانور اس کو جھکنا ہی پڑتاہے، اس میں پہاڑ، چٹان، مٹی کے ڈھیر،تودے  سب  کچھ شامل ہیں۔ قریبی ضلع کورگ اورپڑوسی ریاست کیرالہ میں شدید بارش کے نتیجے میں جس طرح پہاڑ کے پہاڑ کھسک گئے اور چٹانیں راستوں پر گرنے کے ساتھ ساتھ  ...

جیٹ ایئرویز کے سیفٹی آڈٹ کا حکم، پائلٹ صاحب  ہوا کا دباو کم کرنے والا سوئچ آن کرنا ہی بھول گئے

جیٹ ائیرویز کے طیارہ میں پائلٹ ٹیم کی غلطی کی وجہ سے مسافروں کی طبیعت بگڑنے کے معاملہ میں شہری ہوابازی کی وزارت نے ڈی جی سی اے کو ایئر لائن کا سیفٹی آڈٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ شہری ہوابازی کے وزیر سریش پربھو نے اس معاملہ میں جانچ کی ہدایت بھی دی ہے۔

مذہبی تہوار کی آڑ میں ہزاروں یہودیوں کی قبلہ اول میں آمد ورفت جاری

شر پسندیہودی آباد کاروں کی جانب سے قبلہ اول کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ مذہبی تہوار ’عید کپور‘ کی مناسبت سے ہزاروں یہودی صبح وشام قبلہ اول میں داخل ہو کر اشتعال انگیز حرکات اورتلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کررہے ہیں۔

اسرائیلی ریاستی دہشت گردی، 24 گھنٹے میں 6 فلسطینی شہید

قابض صہیونی فوج نے فلسطین میں ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران چھ فلسطینیوں کو بے رحمی کے ساتھ شہید کر دیا۔ شہداء کا تعلق غزہ، غرب اردن اور بیت المقدس سے ہے۔اطلاعات کے مطابق دو فلسطینی کو غزہ کی پٹی میں جنگی طیاروں کے ذریعے بم باری کرکے شہید کیا ...

تین طلاق پر آرڈیننس لانامودی حکومت کی ہٹ دھرمی اورمسلم خواتین کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش:مولانا اسرارالحق قاسمی

معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے تین طلاق پرمودی حکومت کے آرڈیننس لانے کے اقدام کوقطعی نامناسب اور ضدو ہٹ دھرمی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو موقر ایوان اور دستور کی کوئی پروانہیں ہے اور وہ آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر مسلم خواتین کو گمراہ ...

طلاق دینے پر صرف مسلم مردوں کو سزاء کیوں؟ ہندومردوں کو سزاء کیوں نہیں؟ کویتا کرشنن کا سوال

ملک کی اپوزیشن جماعتوں اور سرگرم خاتون کارکنوں نے کل جبکہ حکومت ہند ’’ بیک وقت تین طلاق ‘‘ کو ایک تعزیری جرم قراردینے ‘ آرڈیننس جاری کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے‘ حکومت سے پوچھا ہے کہ ایسے ہندومَردوں کیلئے مذکورہ نوعیت کی دفعات کیوں نہیں بنائی گئیں جو اپنی بیویوں کو ...