مسلم پرسنل لااوریکساں سول کوڈ:چندقابلِ غورپہلو از:مولانااسرارالحق قاسمی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 19th October 2016, 11:33 AM | اسپیشل رپورٹس |

تین طلاق ،تعددِازدواج،حلالہ وغیرہ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کے ذریعہ داخل کئے گئے حلف نامہ کے بعدپورے ملک میں بحث ومباحثہ کی ایک نئی فضاتیار ہوگئی ہے۔حکومت کی نیت اس سلسلے میں کیاہے ،وہ بھی کھل کر سامنے آگیاہے۔جہاں حکومت نے اپنے حلف نامے میں اس چیزکاحوالہ دیاکہ ملک میں سماجی و صنفی مساوات کے لیے تین طلاق وغیرہ جیسی چیزوں میں تبدیلی ہونی چاہئے،وہیں وزیر اعظم مسٹرنریندرمودی بھی اپنی حالیہ ریلیوں اور جلسوں میں یہ کہتے نظرآئے کہ عورتوں کوانصاف اور حقوق ملناچاہیے۔اس طرح کی باتیں بظاہر توبہت بھلی معلوم ہوتی ہیں مگراس کے درپردہ حکومت جوچاہتی ہے وہ یہ ہے کہ ملک کے تمام شہریوں بالخصوص مسلمانوں کوہندونیشنلزم پر مبنی کسی ایسے قانون کاپابند کردیاجائے جوان کی شریعت اور مذہب سے الگ اور مغائر ہو۔یکساں سول کوڈکاشوشہ کوئی نیانہیں ہے،ماضی میں کئی باراس قسم کی آوازیں خود سرکاروں کی سرپرستی میں اٹھتی رہی ہیں۔اس سلسلے میں قابلِ غوربات یہ ہے کہ دستور ہندکی دفعہ 44کوبنیادبناکریہ کہاجاتاہے کہ ملک میں یکساں سول کوڈنافذکیاجائے گا،اس دفعہ میں یہ کہاگیاہے کہ ریاست یہ کوشش کرے گی کہ ملک کے تمام صوبوں کوکسی ایک یونیفارم سول کوڈکے تحت لایاجائے،جاننے والے جانتے ہیں کہ جب پارلیمنٹ میں دستور کی اس شق پر بحث ہوئی توڈاکٹرامبیڈکرنے کہاتھا کہ اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی بھی حکومت اپنے شہریوں اور عوام کی خواہش کی رعایت کیے بغیر کوئی قانون ان پر مسلط کردے،بلکہ شہریوں کی خواہشات اوران کی رضامندی ہوگی تبھی ایسا کوئی قانون بنایاجاسکتاہے۔اس وقت تویہ بات کہہ دی گئی،مگر افسوس ہے کہ بعدکے دنوں میں آنے والی حکومتیں اسی دفعہ کاحوالہ دیتے ہوئے یکساں سول کوڈکاراگ الاپتی رہیں۔یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ ہماراملک کسی ایک مذہب کے ماننے والے شہریوں سے عبارت نہیں ہے بلکہ اس کاامتیازیہ ہے کہ یہاں کئی ایک مذاہب کے پیروکاربستے ہیں،تہذیبی تنوع ہندوستان کی شناخت ہے ،کثرت میں وحدت ہماری خصوصیت ہے اورخوددستورِ ہندنے اس ملک کے تمام شہریوں کومذہبی آزادی دی ہے یعنی وہ اپنے سماجی و مذہبی معاملات،عبادات اور دیگرامورکواپنے مذہبی اصول کے مطابق انجام دینے کے لیے آزادہیں ان پر کسی طرح کاکوئی دباؤنہیں ڈالاجائے گا۔

سماجی اصلاحات کوبہانہ بناکراگر یہ کہاجاتاہے کہ ملک میں یکساں سول کوڈہوناچاہیے توزمینی حقائق کی روشنی میں یہ کوئی معقول بات نہیں ہے،کیوں کہ ہمارے یہاں پہلے سے تقریباً نوے فیصدمعاملات میں یکساں قانون ہی رائج ہے مثلاً بچہ مزدوری یانابالغوں کی شادی یااور بہت سے معاملات مگر اس کے باوجودکیاکوئی بتاسکتاہے کہ ہمارے یہاں بچہ مزدوری ختم ہوگئی ہے یااس کی شرح میں کمی واقع ہورہی ہے یاکیاہمارے ملک سے نابالغوں کی شادی کاسلسلہ ختم ہوگیاہے؟اسی طرح جرائم کے سلسلے میں جوبھی قوانین ہیں وہ سب یکساں ہیں اوران میں بلاتفریق مذہب سبھی کے ساتھ یکساں سلوک کرنے،یکساں سزائیں دینے کاقانون ہے،لیکن کیااس قانون کی وجہ سے ہمارے ملک میں جرائم کی شرح کم ہورہی ہے؟یقیناً نہیں،توپھرکوئی بھی یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتاہے کہ تین طلاق کوختم کردینے سے اچانک عورتوں کومکمل انصاف مل جائے گا اوران کے ساتھ جنسی مساوات ہونے لگے گی،پھراگر تین طلاق کی وجہ سے مسلم عورتیں بدحال ہیں،توکیاہمیں کوئی حقائق کی روشنی میںیہ بتاسکتاہے کہ ہندویادوسرے مذاہب کی عورتیں سوفیصدبااختیاراورتمام معاملات میں مردوں کی برابرکی شریک ہیں؟جبکہ دوسری طرف ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر چہ بعض سیاسی مفادات کی وجہ سے مسلمانوں میں پائی جانے والی تین طلاق کی شکل کومورد اشکال بنایاجاتاہے،مگرطلاق یامیاں بیوی میں علیحدگی کی شرح مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہندووں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں میں ہے۔ تعددِ ازدواج کے حوالے سے بھی مسلمانوں کوہی نشانہ بنایاجاتاہے،حالاں کہ اسلام نے تعددِ ازدواج کی مطلقاً اجازت نہیں دی ہے،اس کی بہت کڑی شرطیں ہیں جن پر عمل کیے بغیر دوسری یاتیسری شادی کی اجازت نہیں دی جاسکتی،اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے پس منظرمیں دیکھاجائے توتعددِ ازدواج کی شرح بھی مسلمانوں میں بہت ہی کم ہے،اتنی کم کہ اس کوبنیادبناکراسلامی قانون پر اعتراض کرناکسی بھی طورپرمعقولیت پر مبنی نہیں کہاجاسکتا۔

اس پورے معاملے پر سنجیدگی اور معروضیت کے ساتھ غورکرنے کے بعدجوحقیقت سامنے آتی ہے،وہ بس یہ ہے کہ حکومت مسلمانوں کوہر معاملے میں اپنے طے کردہ قوانین کاپابند بناناچاہتی ہے جوخود دستورِ ہندکے سراسرمنافی ہے۔جہاں تک بات نکاح یاطلاق جیسے معاملات کی ہے،تواس سلسلے میں ایک چیزسمجھنے کی یہ بھی ہے کہ اسلام کے بہت سے قوانین اور مسائل ایسے ہیں جن میں بوقت ضرورت ترمیم اور غوروفکرکرکے کسی متبادل کی تلاش کی اجازت دی گئی ہے اوربحمداللہ ماہرین فقہ علماء کرام اس فریضہ کوانجام بھی دے رہے ہیں،لیکن اسلام کے کچھ مسائل اور قوانین ایسے بھی ہیں جن میں ترمیم یاتنسیخ کی اجازت نہیں دی جاسکتی،کیوں کہ اگر ایساہوتوپھرانسان کوجب مرضی ہووہ اپنے حساب سے اس میں تبدیلی کرتارہے گا اوراس طرح شریعت اور مذہب بازیچۂ اطفال بن کر رہ جائے گا۔چنانچہ طلاق وغیرہ کے مسائل بھی قرآن و حدیث کے نصوص کی روشنی میں طے کیے گئے ہیں اور ان میں اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق تبدیلی یا تحریف کی اجازت نہیں ہے۔بعض لوگوں کویہ اشکال ہے کہ اسلام نے طلاق کااختیار مردوں کودے کر عورتوں پر زیادتی کی ہے،افسوس کی بات ہے کہ ایسے لوگوں کویہ نظرنہیں آتاکہ اسلام نے خلع یاتفویض وغیرہ کی صورت میں عورتوں کوبھی توعلیحدگی کا حق دیاہے اورپھریہ بھی توایک روشن حقیقت ہے کہ اسلام نے کبھی بھی اور کسی بھی حال میں طلاق کی حوصلہ افزائی نہیں کی،نبی اکرمﷺنے خود فرمایاکہ طلاق حلال چیزوں میں ایک ناپسندیدہ ترین امرہے،یہ آپ ؐنے اس لیے فرمایاکہ مسلمان طلاق دینے سے احترازکریں اور جب تک کوئی ناگزیر ضرورت نہ پیش آجائے اپنی بیویوں کوطلاق نہ دیں۔عائلی مشکلات اور دشواریوں سے نمٹنے کے سلسلے میں اسلام نے جواصول اپنے ماننے والوں کوبتائے ہیں وہ نہایت ہی متوازن،انسانی فطرت سے قریب تراورحکمت و مصلحت کے تقاضے کے مطابق ہیں۔شوہربیوی میں اگر ناچاقی ہوجائے تواسلام یہ ہدایت دیتاہے کہ دونوں صلح کرنے کی کوشش کریں،اگر دونوں میں صلح نہ ہوپائے توخاندان کے ذی ہوش افراد اس سلسلے میں اپنا رول اداکریں ،اگر اس کے بعدبھی دونوں میں نباہ کی گنجائش باقی نہ رہے تب اجازت دی گئی ہے کہ دونوں علیحدہ ہوسکتے ہیں اور پھر علیحدگی میں جودرست طریقہ ہے وہ یہ ہے کہ شوہربیوی کوایک طلاق رجعی دے کہ اگر اس کے بعد میاں بیوی کواپنے رویے پر پچھتاواہواور دونوں پھرسے ایک ساتھ رہناچاہیں تواس کی گنجائش باقی رہے۔اگرصحیح طورپراسلامی عائلی قانون کوکوئی مسلمان اپناتااوراس پرعمل کرتاہے توکسی طرح کے تنازع یا جھگڑے کی نوبت ہی نہیں آسکتی۔

حکومت کی طرف سے سماجی اصلاح اور جنسی مساوات و برابری کا دعویٰ کیاجاتاہے،یہ بادی النظرمیں درست ہے،لیکن اس کی آڑمیں کسی خاص مذہب اوراس کے ماننے والوں پر نشانہ سادھنادراصل ایک سازش سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔اس وقت ہمارے ملک کوسماجی سطح پر بہت سارے مسائل کا سامنا ہے، جن میں سب سے اہم اور سنگین غربت،فاقہ کشی اور بھک مری کامسئلہ ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر غربت اور بھک مری کے سلسلے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق ہندوستان کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے۔’گلوبل ہنگرانڈیکس‘میں قلتِ تغذیہ اور فاقہ کشی کے حوالے سے تیار کی گئی 118ملکوں کی فہرست میں ہندوستان97ویں نمبرپرہے،جس کامطلب یہ ہے کہ ہندوستان بہت بری حالت میں ہے۔ملک کے 39فیصدبچے قلتِ نموکا شکار ہیں، جبکہ15.2فیصدآبادی قلتِ تغدیہ کے مسائل سے دوچار ہے۔حیرت کی بات ہے کہ اس فہرست میں ہمارے پڑوسی ملک نیپال (72) میانمار (75) شری لنکا(84)اوربنگلہ دیش(90 )نمبرپرہیںیعنی ان ملکوں میں غربت وافلاس اور بھک مری کا تناسب ہم سے بہت کم ہے۔اس سے تویہ سمجھ میں آتاہے کہ سماجی فلاح و بہبودکے ضمن میں حکومت کے کرنے کااصل کام یہ ہے کہ وہ ملک سے غربت،فاقہ کشی اور بھک مری جیسے سنگین مسائل سے نبردآزماہونے کے لیے ٹھوس اور مضبوط قدم اٹھائے۔ملک سے بے روزگاری کے خاتمے پر غورکرے اور سماجی برابری کے لیے جومطلوبہ اقدامات ہیں ان کی سمت میں آگے بڑھے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اصل مسائل پر توجہ دیناہی نہیں چاہتی،اس کے پیش نظراپنی سیاسی دوکان چمکاناہے اوروہ اسی مقصدسے ملک کے عوام کوان مسائل میں الجھائے رکھناچاہتی ہے جوانھیں اپنی اصل مشکلات پر سوچنے اور حکومت کا مؤاخذہ کرنے کاموقع ہی نہ دے۔

اس موقع پر خاص طورسے مسلمانوں کوبھی سوچنااور غورکرناچاہیے۔بحیثیت مسلمان کے ہمارایقین اور ایمان ہے کہ اسلام نے جس صنفی مساوات کی دعوت دی ہے وہ دنیاکے کسی بھی مذہب اور قانون سے زیادہ ہی نہیں بلکہ بہتر اور برتر ہے۔ہمارے مذہب نے مردوعورت سب کوان کے حقوق پوری فیاضی کے ساتھ دیے اور پوری زندگی کاایک ایسامکمل ضابطہ بناکردیاہے کہ اس پر عمل کرنے کے بعدہمیں کسی بھی دوسرے قانون کی ہرگزضرورت نہیں رہتی۔یہ نہایت افسوس کامقام ہے کہ ہم اپنی خانگی،اجتماعی و انفرادی زندگیوں میں اسلام کے بتائے ہوئے راہِ ہدایت پر نہیں چلتے اورپھرجب ہمیں کوئی مشکل پیش آتی ہے توہمارے اندر سے ہی کوئی مردیاعورت اٹھ کرسرکاریاکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اورپھردشمنانِ اسلام کواس ایک دوفردکی وجہ سے پورے مذہب اسلام اوراس کے قوانین پر انگشت نمائی کاموقع ہاتھ آجاتاہے۔اسلام نے شادی کونہایت آسان بنایاہے ،مگر ہم نے خوداس کوایک دشوارگزارعمل بنادیاہے،جورسمیں اور رواج دوسرے مذاہب والوں میں پائے جاتے ہیں بدقسمتی سے ہم مسلمان بھی ان پراسی طرح عمل کرنے لگے ہیں گویاوہ ہماری شریعت کا حصہ ہیں۔اسلام نے خانگی زندگی گزارنے کے نہایت اعلیٰ اورنفع بخش اصول ہمیں دیے ہیں مگرہم ان اصولوں پرچلتے ہی کب ہیں۔اس لیے موجودہ ماحول میں جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ مسلم پرسنل لاکے خلاف حکومت کی جانب سے کی جانے والی سازش کوسمجھ کراس کی مخالفت کی جائے، وہیں اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ منظم طورپرمسلمانوں میں سماجی بیداری پیداکی جائے ،عورتوں اور مردوں کواسلامی قوانین سے مکمل طورپرآگاہ کرنے کی تحریک چلائی جائے اوراپنی زندگیوں کومکمل اسلامی سانچے کے مطابق ڈھالنے کاتہیہ کیاجائے۔اگرہم ایسا کرلیں توکسی بھی حکومت یاسیاسی سسٹم کی یہ مجال نہیں کہ وہ ہمارے تشخص اور پرسنل لاپرانگلی اٹھانے کے بارے میں سوچ بھی سکے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...