بی جے پی لیڈر کا شرمنا ک بیان ، سیاسی اقدار کوبھی کیاپا مال ، کیا کانگریس کے داؤسے بی جے پی ہواس باختہ ہوگئی ہے ؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th November 2017, 11:30 PM | ملکی خبریں |

بھوپال ، 13نومبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) مدھیہ پردیش کے بی جے پی کے رکن چنتامنی مالویہ نے ر اہل گاندھی کے متعلق متنازعہ بیان دے کرمخالفانہ سیاست کومزیدہوا    دے دی  ہے ، ان کا یہ بیان اوچھی سیاست کابھی مظہرہے ۔ راہل گاندھی آج کل گجرات کے دورے پر ہیں اورمسلسل مندروں کی زیارت بھی کر رہے ہیں ۔ اسے لے کربی جے پی لیڈر مالویہ نے کہا ہے کہ راہل گاندھی مذہبی ہوگئے ہیں یہ خوشی کی بات ہے لیکن وہ گجرات کے مندروں میں ہی کیوں جا رہے ہیں، کبھی کشمیر، کیرلا، اور کرناٹک کے مندروں کی زیارت کیوں نہیں کرتے ؟

 بی جے پی کے رہنما چنتا منی مالویہ نے کہا کہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ راہل گاندھی کامذہب سے لگاؤ حقیقت پر مبنی ہے یا کچھ دنوں کیلئے ڈھونگ رچایا جا رہا ہے ۔ ا نہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہیں یہ مذہبی لگاؤ ویسے ہی تو نہیں جیسا کہ سنتے آئے ہیں کہ طوائف ہی سب سے زیادہ مذہبی ہوتی ہیں۔ بی جے پی ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ اچھا ہے کہ کم سے کم کسی بہانے مندر تو پہنچے ورنہ ان کا مذہبی رنگ صرف ٹوپی پہننے اور مزارات پر چادر چڑھانے تک ہی محدود تھا ۔ کانگریس نائب صدر پر حملہ کرتے ہوئے بی جے پی ترجمان اور ایم پی چنتا منی نے کہا کہ راہل گاندھی نے بیان دیا تھا کہ مندروں میں  لڑکیوں سے چھیڑ خانی کی جاتی ہے تو جب آپ آج مندر مندر بھٹک رہے ہیں پھر بھی پہلے والے بیان پر قائم ہیں، چنتا منی نے اپنے تیور میں کہا کہ انہیں چاہیے کہ اپنے بیان کو بدل دیں ۔

چنتا منی نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کا یہ مذہبی رنگ محض گجرات انتخابات کی وجہ سے بدلا ہے ۔ گزشتہ دنوں فلم ’’ پدماوتی ‘‘ کے تعلق سے بھی ایک متنازعہ بیان دیا تھا جس پر کافی ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی ۔ چنتامنی مالویہ نے اپنے بھگوار نگ میں ڈوبتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی آج گوشالہ جاتے ہیں ؛ لیکن کیرل میں بیچ چوراہے پر کانگریسی ورکر بچھڑے کو ذبح کرکے بیف پارٹی کرتے ہیں تو اس وقت خاموش کیوں رہتے ہیں ۔ چنتامنی نے راہل گاندھی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جو گائے گجرات میں تقدیس کی حامل ہے وہی گائے کیرل میں خوراک کیوں کر بن گئی ۔ واضح ہو کہ بی جے پی بھی اسی زمرے کی سیاست کر تی آ رہی ہے ، ملک بھر میں جہاں گائے کے نام پر تشدد ہورہا ہے او رخود بی جے پی کے لیڈران گائے کے حوالے سے تشددآمیز بیانات دے رہے ہیں وہیں گوا میں بی جے پی کی سرکار نے اعلان کیا تھا کہ گوا میں بیف کی کوئی کمی نہیں ہونے دے گی ، چنتامنی کو اس طرح کی اوچھی سیاست سے قبل گوا کی بی جے پی کا بیان دیکھ لینا چاہیے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

گجرات:بی جے پی میں بڑی بغاوت کے آثار،ٹکٹ کٹنے پراستعفوں کی دھمکی،اعلیٰ قیادت پرامیدوارتبدیل کرنے کادباؤ

بی جے پی کے ٹکٹ کی تقسیم کے بعد شروع ہونے والی بغاوت تھمنے کانام نہیں لے رہی ہے۔ پارٹی کے اعلیٰ کمان دفترتک پہنچنے کے بعد بی جے پی کے کارکنان نے اپنا احتجاج کرناشروع کردیا۔