چین علاقائی بے یقینی کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ ہے:صدر ڑی جن پنگ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th November 2017, 8:53 PM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

بیجنگ،17؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)چین، سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر ترقی کے عمل اور قومی سالمیت کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ علاقائی سطح پر سعودی عرب، ایران، لبنان اور یمن میں کشیدگی کے تناظر میں یہ یقین دہانی چینی صدر ڑی جن پنگ نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو گذشتہ روز ٹیلی فون پر کرائی۔ مبصرین اس بیان کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔اگرچہ چین اپنی تیل کی ضروریات کے لئے مشرق وسطیٰ کے ملکوں پر انحصار کرتا ہے لیکن روایتی طور پر چین نے مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں بہت کم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم گذشتہ مارچ میں شاہ سلمان کے دورہ بیجنگ کے بعد سے چین اپنا سفارتی پروفائل بڑھانے کی کوششیں کر رہا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے مطابق صدر ڑی نے شاہ سلمان کو ٹیلی فونک گفتگو میں بتایا کہ بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے قطع نظر سعودی عرب کے ساتھ چین کے گہرے تزویراتی تعاون کا عزم کبھی متزلزل نہیں ہو گا۔دنوں ملکوں کی قیادت اور حکومتوں کے درمیان گہرے مراسم کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ڑی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اور سعودی عرب وسیع المشرب تزویراتی شریک ہیں۔ ان کا باہمی اسٹرٹیجک مفاد انتہائی گہرا ہے۔صدر ڑی کے شاہ کو ٹیلی فون کے حوالے سے ایک بیان میں بیجنگ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین، سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر ترقی کے عمل اور قومی سالمیت کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ بیان میں اس کی مزید وضاحت نہیں کی گئی۔ نیز بیان میں وزیر اعظم سعد الحریری کے استعفی جیسے معاملات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔یمن کی آئینی حکومت کی حمایت اور تحفظ کی خاطر سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادی فوج ایران نواز حوثی باغیوں کو دو برسوں سے نشانہ بنا رہی ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق مسٹر ڑی اور شاہ سلمان نے باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی اورعلاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ایک نظر اس پر بھی

یمن : حوثیوں کے لیے کام کرنے والے ایرانی جاسوس عرب اتحاد کے نشانے پر

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے تعز شہر کے مشرقی حصّے میں جاسوسی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس مرکز میں ایرانی ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں جو باغی حوثی ملیشیا کے لیے کام کرتے ہیں۔

شاہ سلمان اور صدر السیسی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ اس موقع پر شاہ سلمان نے مصر کی سلامتی اور استحکام کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

کرد ملیشیا کی عفرین میں ترکی کے خلاف اسدی فوج سے معاہدے کی تردید

شام کے علاقے عفرین میں ترک فوج کا مقابلہ کرنے والی کردملیشیا ’کرد پروٹیکشن یونٹ‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کرد ملیشیا نے ترکی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسدی فوج کے ساتھ ساز باز کرلیا ہے۔