اگر ہندو لڑکے ہم ہندو لڑکیوں کے ساتھ ہی انصاف نہیں کرتے ،توہم آخر کہاں جائیں ؟ خود کشی نوٹ میں دھنیا شری کا سوال

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 12th January 2018, 11:48 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

چکمنگلور:12/ جنوری (ایس اؤنیوز)دو دن پہلے چکمنگلور ضلع کے موڈیگیرے میں خو د کشی کرنےو الی 20سالہ طالبہ دھنیا شری ہمیشہ کی طرح واٹس ایپ کی چاٹنگ میں مصروف رہتے ہوئے جو کچھ لکھا تھا، اس کے اقتباسات اب منظر عام پر آگئے ہیں، اخباری رپورٹوں کے مطابق اس نے وہاٹس ایپ پر جو کچھ لکھا تھا، وہکچھ اس طرح  ہے:

’’تم کیاکرسکتے ہو؟ اگر تم اس کو اسٹیٹس کے طورپر پوسٹ بھی کرتے ہوتو مجھے کوئی ڈر نہیں ، گیٹ لاسٹ‘‘۔

’’ میں مسلم سے پیا ر کرتی ہوں، میری خواہش ہی میری زندگی ہے۔ تمہیں اس سے پریشانی کیوں ہورہی ہے؟‘‘۔

’’ تم کیوں مذہب کے نام پر مرتے ہوجب کہ ہم سب انڈین ہیں ؟‘‘۔

’’تم جو کچھ کہہ رہے ہو ،مجھے اس سے کوئی فکر نہیں ، میرے والدین ہمیشہ میرے ساتھ ہیں ‘‘۔

دھنیا شری کو سنتوش نامی فرد نے دھمکی دیتے ہوئے کہاکہ ’’آپ کی بات چیت کا یہ اسکرین شاٹ موڈیگیرے کے بجرنگ دل والوں کو بھیج چکا ہوں ‘‘تو دھنیا شری نے مندرجہ بالاچاٹنگ کے ذریعے جرأت مندانہ جواب دیا تھا۔

جواب پڑھنے کے بعد سنتوش نے طعنہ مارتے ہوئے لڑکی سے کہا کہ اگر تمہارا باپ مسلم ہے تو اس کے ساتھ بھاگ جائو۔

چک مگلورو پولس کی طرف سے فراہم کردہ آپسی بات چیت کا یہ اردو ترجمہ ہے جو دھنیا شری نے چاٹنگ کے طورپر تلو زبان میں کیا تھا۔

جمعرات کو چک مگلورو پولس نے سنتوش کو گرفتار کیا ہے جس کے متعلق کہاجارہاہے کہ وہ کلیدی ملزم ہے۔ ’’سنتوش  دکشن کنڑا ضلع کے بنٹوال کا رہنے والاہے، جس کو بنگلورو میں گرفتارکیاگیا ہے۔ ایس پی اناملائی نے بتایا کہ سنتوش، راجیش پجاری کا بیٹا ہے۔

پولس ذرائع کے مطابق سنتوش بی جے پی کا ممبر ہے جب کہ اس معاملے میں پہلی گرفتاری بی جے پی موڈیگیرے شاخ کے یوتھ مورچہ کے صدر ایم وی انیل کی ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ  6جنوری کو دھنیا شری نے اپنے گھر میں ہی خود کشی کی تھی ۔ اس کی ماں نے ایک تنظیم کے ممبران کی طرف سے مسلم لڑکے سے عشق ہونے کے بہانے ہراساں کئے جانے کاالزام لگایا تھا۔

چکمنگلور کے رکن اسمبلی سی ٹی روی نے معاملے کے متعلق کہاکہ دھنیا شری معاملے میں جو کچھ ہوا ہے،بد قسمتی سے ہواہے۔بی جےپی ورکر انیل گرفتار ہوا ہے لیکن اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے، اس نے کوئی قتل نہیں کیا ہے۔ اس نے صرف لڑکی کے خاندان والوں کولو جہاد کے خطرے کے متعلق اطلاع دینے کی کوشش کی تھی جس کا بہت سارے ہندو لڑکیوں نے دعویٰ کیا ہے۔اس کا خود کشی پر مشتعل کرنےکا کوئی ارادہ نہیں تھا، لڑکی کے گھروالوں نے بھی ہراسانی کے متعلق کسی کو ملزم نہیں گردانا ہے، یہ سب کچھ پولس کی طرف سے کیا جارہاہے۔

ایس پی اناملئی نے بتایا کہ یہ سب کچھ واٹس ایپ پر دھنیاشری کے اسٹیٹس کو بدلنے سے شروع ہوتاہے، جہاں اس نے صرف اپنی باریک اور چھوٹی آنکھوں کی تصویر لگائی تھی جو سیاہ منظر میں وہ ایک برقعہ پہنی ہوئی تصویر جیسےتھی۔ یہی تصویر واٹس ایپ کے ایک دوسرے گروپ میں مسلمانوں سے عشق کئے جانے کے ثبوت کے طورپر پوسٹ کی گئی ۔

ہم اب بھی تفتیش کررہے ہیں کہ سنتوش نے کس طرح دھنیاشری کی فوٹو اور نمبر حاصل کیا تھا۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ 4جنوری کو اس نے دھنیاشری کے والدین اور اس کو فون کیا تھا اور اسی نے اس کے ساتھ واٹس اپ پر لمبی چاٹنگ کی تھی۔

ایس پی اناملئی کے مطابقدوسرے دن انیل سمیت 5بجرنگ دل کے کارکن  دھنیا شری کے گھر پہنچے تھے ۔ انہوں نے دھنیاشری کو بیہودہ اور بازاری زبان میں گالی دی تھی، انہوں نے اس کے والدین پر دباؤڈالا تھا کہ وہ اس کا فون لےلیں۔ اس دن دھنیاشری دوپہر میں کھانا نہیں کھائی ، دوسرے دن بھی کھانا نہیں کھایا اور اسی شام  اس نے خود کشی کرلی ۔

اتوار کو یادو اور سرسوتی  گھر سے نکل گئے تھے، گھر کے باہر کچھ پرانی ٹی وی ہیں، یادو ٹی وی میکانک کے طورپر کام کرتے ہیں، جب کہ سرسوتی ٹیلر ہیں۔

اتوار کو دھنیاشری کالج نہیں گئی تھی۔ چھوٹے سے گاؤ ں میں دھنیا شری کی خودکشی کی خبرکافی تیزی کے ساتھ پھیلی۔پولس ذرائع کے مطابق اس دن دھنیا شری کے والدنشہ کی حالت میں پولس تھانہ پہنچے۔ انہوں نےکہاکہ اُن کی بیٹی فون پر ہمیشہ ڈانٹ ڈپٹ کرتی رہتی تھی ،جس کے بعد اُس نے خود کشی کرلی۔ انہوں نے شکایت در ج کرتےہوئے کہا تھا کہ اس کی موت کے لئے کوئی ذمہ دارنہیں ہے۔

اس کے بعد پولس ان کے گھر پہنچی اور خاصی جانچ پڑتال کی ،جہاں پولس کو  دھنیا شری کا ڈیتھ نوٹ ملا۔ جس کے بعد اس کی ماں نے ہراسانی کے لئے گھر آئے ہوئے لوگوں کےخلاف شکایت درج کی ۔

پولس ذرائع کے مطابق اس نوٹ میں لڑکی نے کچھ اس طرح پوچھا تھا کہ ’’اگر تم ہندو لڑکے ہوکر ہندو لڑکیوں کے ساتھ اس طرح ناانصافی کرتے ہو، جس طرح میرے ساتھ کیا، توپھر ہم انصاف کے لئے کہاں جائیں ؟ دھنیا شری نے مزید لکھا تھا کہ میں کسی مسلم لڑکے کے ساتھ پیار نہیں کرتی ، میں کسی مسلم لڑکے ساتھ باہر نہیں جاتی ، مگر تمہاری بے ضرورت ہراسانی سے میرا نام اور میری عزت داغدار ہوئی ہے، جو کچھ میرے ساتھ ہواہے وہ کسی اور لڑکی کے ساتھ نہ ہو۔

ایک نظر اس پر بھی

22نومبر کووزیر اعظم نریندرمودی کے ہاتھوں رکھا جائے گا ’سٹی گیس ‘ کا سنگ بنیاد۔ منصوبے میں منگلورو شہر بھی شامل

مرکزی حکومت کی اسکیم’سٹی گیس‘ کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نریندر مودی ہاتھوں22نومبر کو شام 4بجے نئی دہلی کے وگیان بھون میں رکھا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ رسوئی گیس سلینڈروں کے بجائے براہ راست پائپ کنکشن کے ذریعے گھر گھر پہنچائی جائے گی۔

کاروار میں اترکنڑا ماہی گیروں کی جانب سے احتجاج کے بعد گوا حکومت پربڑھ گیا مچھلی کی درآمد پر لگائے گئے نئے قانون کو ہٹانے کا دبائو

کاروار میں اترکنڑا ماہی گیروں کی جانب سے احتجاج کے بعد گوا حکومت  مچھلی کی درآمد پر لگائے گئے نئے قانون کو ہٹانے کا دبائو بڑھ گیا ہے۔ کاروار میں ہوئے  سخت احتجاج کو دیکھتے ہوئے پیر کو گوا کے پنجی میں آل انڈیا فشرمین کانگریس (AIFC) اور گوا بوٹ یونین کے درمیان مسئلہ کے حل کے لئے ...

ضلع اُترکنڑا میں 23،24،25 نومبر کو ووٹرلسٹ میں ناموں کے  اندراج کے لئےچلائی جائے گی خصوصی مہم : کاروار میں ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول کا بیان

ہندوستانی الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق 23،24اور 25نومبر کو اترکنڑا ضلع میں ووٹرس کے نام اندراج کے لئے خصوصی مہم کا اہتمام کئے جانے کی اطلاع ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے دی۔

22نومبر کووزیر اعظم نریندرمودی کے ہاتھوں رکھا جائے گا ’سٹی گیس ‘ کا سنگ بنیاد۔ منصوبے میں منگلورو شہر بھی شامل

مرکزی حکومت کی اسکیم’سٹی گیس‘ کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نریندر مودی ہاتھوں22نومبر کو شام 4بجے نئی دہلی کے وگیان بھون میں رکھا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ رسوئی گیس سلینڈروں کے بجائے براہ راست پائپ کنکشن کے ذریعے گھر گھر پہنچائی جائے گی۔

موجودہ بیماریوں کا علاج طب یونانی کے ذریعہ ممکن: یونانی ڈاکٹروں کے اجلاس میں یونانی طریقہ علاج پرزور

موجودہ بیماریوں کا علاج طب یونانی کے ذریعہ ممکن ہے۔ یونانی ڈاکٹر، یونانی طریقہ علاج میں ہی پریکٹس کریں اورطب یونانی کے ذریعہ سماج اورمعاشرے کوصحت مند بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار یہاں بنگلورو میں یونانی ڈاکٹرس کے اجلاس میں کیا گیا۔ ساتھ ہی یونانی طریقہ علاج پربھی زوردیا گیا۔

ودھان سودھا میں میڈیا کے داخلے پر پابندی سے قریب ایک اور قدم، محکمۂ اطلاعات میں سرکاری میڈیا سنٹر کا قیام

ریاست کے مرکز اقدار ودھان سودھا میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی لگانے پر بضد وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے آج ایک بار پھر یہ بات دہرائی کہ شہر کے محکمۂ اطلاعات کے دفتر میں قائم مہاتما گاندھی میڈیا سنٹر کا استعمال صحافی اپنی سرگرمیوں کے لئے کرسکتے ہیں۔