چکمگلورو میں کانگریس دفتر کے گھیراؤ کی کوشش : سی ٹی روی سمیت بی جے پی لیڈران کی گرفتاری اور رہائی

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 12th January 2018, 6:31 PM | ریاستی خبریں |

 چکمنگلورو:12/ جنوری (ایس اؤنیوز)جمعہ کو بی جے پی کارکنان نےشہر کے ضلع کانگریس دفتر کے روبرو وزیراعلیٰ سدرامیا کے بیان کی مذمت کرتےہوئے احتجاج کیاجس  کے دوران کانگریس دفتر کا گھیراؤ کرنے کے لئے پہنچے رکن اسمبلی سی ٹی روی ، ودھان پریشد کے رکن ایم کے پرانیش سمیت کئی بی جے پی کارکنا ن کو پولس  نےگرفتارکیا،اور وہاں سے دوسری طرف لے جاکر  سبھوں کو رہا کردیا ۔

اس سے قبل رکن اسمبلی سی ٹی روی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سدرامیا کا بیان اوروزیر داخلہ کے بیان سے سماج میں خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے، انہوں نے  سدرامیا کے  دہشت گردی والے بیان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردانہ طریقے سے بات کرنا ہی دہشت گردی ہے تو سدرامیا بھی ایک دہشت گرد ہونگے ، انہوں نے بتایا کہ  وزیر اعلیٰ کا بیان خوف پیدا کرنے والا ہے ، اُن کے بیان سے اُن کے اندر ایک طرح کا گھمنڈ نظر آتا ہے ، ہم نے کبھی گھمنڈ نہیں کیا اور نہی ہی ڈرا دھمکا کر بات  کی ہے۔

سی ٹی روی نے سوال کیا کہ کیا سچ کی حمایت میں جدوجہد کرنا  دہشت گردی ہے اگر ہے، تو پھر سچ کی حمایت کیسے کریں ؟  انہوں نے سدرامیاسے پوچھا کہ  سچ کو دہشت گردی کہنے کے لئے انہوں نے  آخر کونسی لغت کا مطالعہ کیا ہے  ،لغت میں دہشت گردی کے معنی کچھ اور ہیں۔ انہوں نے وزیرداخلہ  رام لنگا ریڈی اور قواعد کی بات کرنے والے سدرامیا سے لغت کا صحیح طور پر مطالعہ کرنے کی بات کہی۔ اس موقع پر بی جے پی لیڈران پریم کمار، سی ایچ لوکیش، ورسدی وینوگوپال، ریکھا ہلیپا گوڈا، دیورا ج شٹی وغیرہ موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

یڈیورپا میرے صبر کا امتحان نہ لیں؛ حکومت کو گرانے کی بارہا کوشش بی جے پی کو زیب نہیں دیتی: کمار سوامی کا بیان

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا کو متنبہ کیا ہے کہ بارہا ریاستی حکومت کو گرانے کی کوشش کرکے وہ ان کے صبر کا امتحان نہ لیں۔اگر یہ کوشش جاری رہی تو یڈیورپا کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش پرسدرامیا نے کہا؛ اپوزیشن کار ول ادا کرنے کی بجائے بی جے پی بے شرمی پر اتر آئی ہے

سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی  حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا نے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کو ایک تعمیری اپوزیشن پارٹی کا رول ادا کرنا چاہئے، لیکن ایسا کرنے کے  بجائے انتہائی بے شرمی سے یہ پارٹی ریاستی حکومت کو گرانے کی کوششوں کو اپنا معمول بناچکی ہے۔