صدر سے لے کر وزیراعظم تک کی گاڑیوں پر اب لال بتی نہیں

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 20th April 2017, 9:08 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 20/ اپریل (ایس او نیوز/ایجنس). ملک میں بڑھتے ہوئے وی آئی پی کلچر پر روک لگاتے ہوئے مودی حکومت نے تمام رہنماؤں، ججوں اور سرکاری افسروں کی گاڑیوں سے لال بتی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے. ان میں صدر، نائب صدر، وزیر اعظم، مرکزی وزیر، سپریم کورٹ کے جج، اعلی عدالتوں کے جج، ریاستوں کے وزیر اعلی اور وزراء سمیت  تمام سرکاری افسروں کی گاڑیاں شامل ہیں. اب صرف ایمبولینسوں، فائر سروس جیسی ہنگامی خدمات اور پولیس و فوج کے افسران کی گاڑیوں پر ہی نیلے رنگ کی روشنی لگے گی. یہ فیصلہ یکم  مئی سے لاگو ہوگا۔

بدھ کو وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا، 'اس تاریخی فیصلے میں کابینہ نے ہنگامی خدمات کو چھوڑکر تمام گاڑیوں سے لال بتی  ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے. اس کے لئے متعلقہ قوانین میں ترمیم  کریں گے. ' بہرحال مرکزی وزیر برائے قومی شاہراہ اور ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا نوٹیفکیشن عوام سے رائے حاصل کرنے کے بعد جاری کی جائے گی.

بتایاجارہاہے کہ تقریبا دس دن پہلے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کا استقبال کرنے وزیر اعظم نریندر مودی بغیر کسی روٹ کے باقاعدہ ٹریفک میں ایئرپورٹ گئے تھے. شاید اس وقت تک انہوں نے وي آئی پی  کلچر ختم کرنے  کا فیصلہ لے لیا تھا. یہی وجہ ہے کہ وہ کابینہ کے اجلاس میں آئے تو یہ فیصلہ سنا دیا.

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے غیر ضروری لال بتیوں کو  ہٹانے کا حکم دے چکا تھا. کورٹ نے 2014 میں دوبارہ لال بتی کو ریاستی نشان  بتاتے ہوئے کہا تھا کہ آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگوں اور ایمبولینسوں، فائر سروس، پولیس اور فوج کو چھوڑ کر کسی کو لال بتی لگانے کی ضرورت نہیں. 2015 میں سپریم کورٹ نے مرکز کو مخصوص افراد کی فہرست میں کمی کرنے کو کہا تھا. جیٹلی کے مطابق فیصلے کے تحت 1998 کی موٹر گاڑیوں کے دستور العمل کے قوانین 108 (1-III) اور 108 (2) میں ترمیم کی جائے گی. اصول 108 (1-III) کے تحت مرکز اور ریاستی حکومتوں کو گاڑیوں میں لال بتی لگانے  مخصوص افراد کی فہرست جاری کرنے کا حق ہے. جبکہ 108 (2) کے تحت ریاستوں کو نیلے رنگ کی روشنی لگانے قابل افسران کی فہرست جاری کرنے کا حق دیا گیا ہے۔

اس موقع پر مرکزی وزیر برائےسڑک، نقل و حمل اور ہائی وے  نتن گڈکری نے کہا، 'یہ عام لوگوں کی حکومت ہے. اسی لیے لال بتی  اور سائرن والے وی آئی پی  کلچر کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے. ' اسی طرح  مرکزی وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان نے کہا، 'نیو انڈیا میں ہر شخص وي آئی پی  ہے اور آپ  یقین کریں، میں نے کبھی لال بتی کا استعمال نہیں کیا.'

کئی وزراء نے لال بتی ہٹادی
مرکزی وزراء نے فیصلے کے فورا بعد اپنی گاڑيوں سے  لال بتی ہٹانا شروع کر دیا. نتن گڈکری نے سب سے پہلے اپنی کار  کی لال بتی ہٹائی. اس کے بعد گری راج سنگھ نے بھی اوراوما بھارتی کو بھی بتی ہٹاتے دیکھا گیا. اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، پنجاب اور گجرات سمیت کئی ریاستوں کے وزرائے اعلی نے اپنی کاروں سے لال بتی  ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

گجرات: کار۔بس تصادم میں 7 نوجوان موقع پر ہلاک

اوجھا مہسانا ہائی وے پر آج یہاں ایک گاڑی ایک ڈیوائڈر سے ٹکراکر سڑک کے دوسری طرف جا گری جہاں مخالف سمت سے آنے والے بس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں سات کار سوار افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ۔