سہراب الدین انکاؤنٹر معاملہ : تین سال پہلے ہوئی جج کی موت پر اب اُٹھے سوال ؛ کیا ان کا قتل ہوا تھا ؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 24th November 2017, 1:27 AM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

نئی دہلی 23/نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) سہراب الدین کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر کی شنوائی کر رہے سی بی آئی جج برج گوپال ہرکشن لویا ، جن کی یکم دسمبر 2014 میں موت واقع ہوئی تھی، اب تین سال بعد اُن کی موت پر سوالات اُٹھ کھڑے ہوگئے ہیں۔  انگریزی ماہنامہ کاروان نے ایک رپورٹ شائع کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ  سی بی آئی جج برج گوپال ہرکشن لویا کی  بہن انورادھا بیانی نے  الزام لگایا ہے کہ جسٹس موہت شاہ (جو اس وقت  ممبئی ہائی کورٹ کے  چیف جسٹس تھے )نے ان کے بھائی کو 100کروڑ روپے کی پیش کش کی تھی کہ  وہ سہراب الدین انکاؤنٹر معاملے میں ملزمین کے حق میں فیصلہ سنائیں ۔کاروان کے سینئر صحافی نرنجن ٹکلے نے اپنی رپورٹ میں جسٹس برج گوپال لویا کی بہن سے ملاقات کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کو ان کے بھائی نےموت سے کچھ ہفتےپہلےدیوالی کے موقع پراپنےآبائی گھر ’گاتےگاؤں‘ میں یہ باتیں بتا ئی تھیں۔رپورٹ کے مطابق جسٹس لویا کے والد ہر کشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے ۔

 میگزین نے  اس معاملے سے متعلق اپنی رپورٹ شائع کی ہے ،جس میں جسٹس لویا کی موت پر کئی سوال اٹھائے گئے ہیں ۔غور طلب بات یہ ہے کہ سی بی آئی جج کی موت پر اہل خانہ نے 3 سال کے بعد چپی توڑی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سہراب الدین انکاؤنٹر معاملے کی شنوائی کر رہے خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج برج گوپال لویا کی اچانک ہوئی موت کے اتنے دنوں  بعد ان کےگھر والوں نے چپی توڑتے ہوئے ان کی موت پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔خیال رہے کہ  گجرات کے اس مشہور معاملے میں بی جے پی صدر امت شاہ سمیت گجرات پولیس کے کئی اعلیٰ افسروں کے نام آئے تھے۔

برج گوپال لویا کے اہل خانہ سے ہوئی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے  دی کارواں رسالہ میں شائع ہوئی ایک رپورٹ میں لویا کی موت کی مشکوک صورت حال پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔واضح  ہو کہ لویا کی موت یکم دسمبر 2014 کو ناگپور میں ہوئی تھی، بتایا گیا تھا کہ اُن کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ ناگپور میں اپنے معاون جج سوپنا جوشی کی بیٹی کی شادی میں گئے ہوئے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ ممبئی  میں سی بی آئی اسپیشل کورٹ کے جج برج گوپال ہرکرشن لویا (48) ایک اچھی صحت کے مالک تھے ، وہ ہرروز دو گھنٹے  ٹیبل ٹینس کھیلتے تھے اور ان کی فیملی میں  کسی کی دل کی بیماری کی کوئی تاریخ نہیں ملتی ۔ ان کے 80 سالہ والدین ابھی بھی حیات ہیں اور صحت مند ہیں۔ لیکن یہ جج جو 29نومبر2014 کو اپنے ایک ساتھی کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کے لئے ناگپور گئے تھے اور وہاں سے 30نومبر کو رات 11بج کر 40 منٹ  پر اپنی اہلیہ سے خوشگوار موڈ میں فون پر گفتگو کی تھی ، مگر اچانک خبر آئی کہ  اسی رات  12.30بجے  (یکم دسمبر) کو ان کو دل کا زبردست دورہ پڑا اور ان کا انتقال ہو گیا۔

 صحافی نرنجن ٹاکلے نے  اپنی رپورٹ میں جن باتوں کا انکشاف کیا ہے، اُس  کی وجہ سے سہراب الدین فرضی انکائونٹر معاملے میں ناگپور پولس، آر ایس ایس اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ پر شک کے بادل گہرے ہو گئے  ہیں۔ خیال رہے کہ  اس معاملے کی سنوائی سی بی آئی عدالت میں چل رہی تھی۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا آرڈر تھا کہ شروع سے آخر تک اس معاملے کی سنوائی  ایک ہی جج کرے گا۔ واضح رہے کہ  اس معاملے میں پہلے جج کا تبادلہ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے ایک ماہ کے اندر 25جون کو کر دیا گیا تھا۔ جج نے عدالت میں امت شاہ کو عدالت میں حا ضر نہ ہونے کے لئے سختی بھی کی تھی۔ امت شاہ کے وکیل نے عدالت سے کہا تھا کہ ان کو شوگر ہے اس لئے ان کو آنے میں دشواری ہے۔ مئی 2014میں انتخابات جیتنے کے بعد امت شاہ کے وکیل نے عدالت کو صرف اتنی اطلاع دی تھی کہ وہ دہلی میں کافی مصروف ہیں۔

برج گوپال ہرکرشن لویا جنہوں نے  اکتوبر 2014کو اس کیس کو لیا تھا انہوں نے امت شاہ کو ذاتی طور پرعدالت میں حاضر ہونے سے چارجس کے طے ہونے تک چھوٹ دے دی تھی۔ انہوں نے اس بات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ امت شاہ ممبئی میں موجود ہونے کے با وجود عدالت میں حاضر نہیں ہوئے تھے اور  لویا نے 15دسمبر کو امت شاہ کی  سنوائی کی تاریخ طے کی تھی لیکن یکم دسمبر کو ہی ان کی موت واقع ہوگئی،  مگر اب اُن کی موت پر شک کے بادل چھاتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور اس موت پر اب  قتل کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

میگزین نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ  لویا کی موت کے 29 دن بعد آئے جج نے اس معاملے میں بی جے پی صدر امت شاہ کو معاملے کی سماعت شروع ہوئے بنا ہی بری کر دیا۔اس کے بعد آج تک اس معاملے میں 11دیگر لوگوں کو، جن میں گجرات پولیس کے اعلیٰ افسران  بھی شامل  ہیں، کو بری کیا جا چکا ہے۔غور کرنے والی بات ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اس معاملے کی تفتیش کر رہے اہم ادارہ سی بی آئی نے اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی ہے۔اس سے پہلے جب سپریم کورٹ کے ذریعے اس معاملے کی سی بی آئی جانچ‌کے حکم دئے گئے تھے، تب دو باتیں واضح طور پر کہی گئی تھیں، پہلی اس معاملے کی سماعت گجرات سے باہر ہو، دوسری ایک ہی جج اس تفتیش کو شروع سے آخر تک دیکھے۔

میگزئین کے مطابق اس معاملے میں  عدالت عظمی ٰکے دوسرے احکام کی توہین ہوئی ہے۔ معاملے کی تفتیش کی شروعات جج جےٹی اتپت نے کی تھی، لیکن اچانک وہ اس سے ہٹ گئے۔6 جون 2014 کو جج اتپت نے امت شاہ کو اس معاملے کی سماعت میں حاضر نہ ہونے کو لےکر پھٹکار لگائی اور ان کو 26 جون کو پیش ہونے کا حکم دیا۔ لیکن 25 جون  2014 کو اتپت کا تبادلہ ہوا اور اُنہیں  پونے سیشن کورٹ میں بھیجا گیا۔

اس کے بعد برج گوپال لویا آئے، لویانے بھی امت شاہ کے حاضر نہ ہونے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے سماعت کی تاریخ 15دسمبر 2014 طے کی، لیکن 1دسمبر 2014 کو ہی ان کی موت ہو گئی۔ان کے بعد سی بی آئی اسپیشل کورٹ میں یہ معاملہ جج ایم بی گوسوی دیکھ رہے تھے، جنہوں نے دسمبر 2014 کے آخر میں امت شاہ کو اس معاملے سے بری کرتے ہوئے کہا کہ ان کو امت شاہ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔

دی کارواں کی رپورٹ میں لویا کی بہنوں اور والد کے بیان شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لویا کی بیوی شرمیلا اور بیٹے انوج نے اس رپورٹر سے بات کرنے سے منع کر دیا کیونکہ ان کے مطابق ان کو اپنی جان کا خطرہ تھا۔

ٹاکلے نے  اپنی رپورٹ میں جو سوالات اٹھائے ہیں اس سے سی بی آئی جج کی موت پر شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں، جس کی آزادانہ جانچ کے لئے اب آوازیں اُٹھنے لگی ہیں۔ ٹاکلے نے جو سوالات اُٹھائے ہیں، وہ کچھ اس طرح ہیں: 

جن دو ساتھی جج حضرات کے کہنے پر برج گوپال ہرکرشن لویا ان کے ساتھ ناگپور میں شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے گئے تھے انہوں نے مہلوک جج  کے اہل خانہ سے ان کے انتقال کے دیڑھ ماہ تک کوئی ملاقات نہیں کی۔نہ ہی وہ اپنے ساتھی کے جنازے کے ساتھ اُن  کے آبائی گھر لاتور تک گئے۔

ناگپور میں یہ جج وی آئی پی گیسٹ ہائوس’ روی بھون ‘ میں ٹھہرے تھے لیکن دعوی یہ ہے کہ لویا کوایک نجی اسپتال میں بذریعہ ایک آٹو رکشا پر  لے جایا گیا تھا۔

’روی بھون ‘سے آٹو رکشا کا اسٹیند 2کیلومیٹر کے فاصلہ پر ہے اور عام طور پر دن میں بھی گیسٹ ہائوس کے قریب آٹو رکشا نہیں ملتے ہیں۔ ان کو آدھی رات کے بعد کیسے آٹو رکشا مل گیا؟

لویا کو غیر معروف ’ڈانڈے اسپتال‘ کیوں لے جایا گیا؟

جج دعوی کرتے ہیں کہ لویا ڈانڈے اسپتال میں سیڑھیاں خود چڑھے تھے اور وہاں ان کو میڈیسن دی گئی تھی۔ ان کو جب دوسرے پرائیویٹ اسپتال ’ میڈیٹرینا اسپتال‘ لے جایا گیا تو وہاں کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’مردہ لایا گیا‘۔

اگر ان کی موت قدرتی تھی اور اس میں کوئی تخریبی کارروائی نہیں تھی تو پھر ان کا پوسٹ مارٹم کیوں کیا گیا؟ کس نے فیصلہ کیا کہ پوسٹ مارٹم ضروری ہے؟

کس نے پوسٹ مارٹم کے ہر صفحہ پرمرحوم کے رشتےدار کی حیثیت سے دستخظ کئے۔ اور یہ کون پراسرار شخص تھا جس کو لویا  کی لاش سپرد کی گئی؟

نہ تو ناگپور پولس نہ ہی جج حضرات نے لویا  کے گھر والوں کو انتقال کی خبر دی اور آر ایس ایس کے کارکن اشور بہیٹی نے یہ اطلاع کیوں دی؟

بہیٹی نے صبح پانچ بجے کیسے لویا  کے گھروالوں کو انتقال کی خبر دی اور لویا  کے گھر والوں کو دل کا دورہ پڑنے کے فورا بعد کیوں اطلاع نہیں دی گئی؟

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں انتقال کا وقت کیوں 6.30بجے درج ہے۔

پولس پنچنامہ تیار کرنے میں کیوں ناکام رہی اور ان کی ذاتی چیزوں کوضبط کرکے کیوں نہیں رکھا ؟

آر ایس ایس کارکن بہیٹی کے پاس لویا   کاموبائل فون کہاں سے آیا جو انہوں نے تین دن بعد اُن  کے خاندان کو لوٹایا؟

کس نے لویا  کے فون سے تمام کال ریکارڈس اور میسج ڈیلیٹ کئے جس میں وہ میسج بھی تھا جو لویا  کو انتقال سے کچھ روز پہلے  ملا تھا؟ لویا  کے گھر والوں کے مطابق اُن کے موبائل میں  پیغام موصول ہوا تھا کہ  ’’سر، ان لوگوں سے محفوظ رہئے‘‘

لویا  کے  گھر والوں نے نوٹس کیا کہ لویا  کی شرٹ کے کالر پر خون کے دھبے تھے، ان کی بیلٹ الٹی جانب مڑی ہوئی تھی، پینٹ کا کلپ ٹوٹا ہوا تھا اور سر کے پیچھے چوٹ تھی اور ان میں سے کسی بھی چیز کا پوسٹ مارٹم میں ذکر نہیں ہے۔

لویا  کے گھر والوں کو دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نہ لینے کا مشورہ کس نے دیا ؟

لویا  کی بیوہ اور بیٹے کو کس بات کا خوف ہے؟ وہ ٹاکلے سے بات کرنے سے کیوں خوفزدہ ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔

کاروان میگزین میں رپورٹ شائع ہونے کے بعد اب عام عوام  خوف محسوس کررہے ہیں کہ ایک سی بی آئی جج کے ساتھ اتنا سب کچھ ہوسکتا ہے اور اُس کے گھر والے ہی اپنی جان کو لے کر منہ کھولنے میں خطرہ محسوس کرسکتے ہیں تو ایک عام آدمی کے ساتھ  کیا کچھ ہوسکتا ہے ؟   اُٹھائے گئے سوالات سے عام لوگوں میں   صاف طور پر جج صاحب کی موت پر شکوک  و شبہات پیدا ہوگئے  ہیں۔ عوام سوال کررہے ہیںکہ کیا ایک جج کی موت   کی آزادانہ جانچ ہوگی ؟   

 

ایک نظر اس پر بھی

اگرپاکستانی الیکشن میں مداخلت کررہاہے تواین آئی اے کیاکررہی ہے، اسدالدین اویسی کاسوال ،بنکاک میں پاکستان کے ساتھ مجوزہ میٹنگ کی تفصیلات بتائیں مودی

حیدرآبادکے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسڑاسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ گجرات کے انتخابی جلسوں میں جس طرح کی زبان وزیراعظم نریندر مودی استعمال کر رہے ہیں، اس پر ان کو کوئی تعجب نہیں ہوا ہے۔

خبطی ’ وکاس‘ کا تازہ ترین سروے ، مہنگائی آسمان پر ،اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ ، نومبر میں شرح 15 ماہ بلند سطح پر

سبزیاں، پھل او ر انڈوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کی بری خبر ہے ۔ دن رات ٹی وی ڈیبیٹ نے عوام کو اس قدر غافل اور نکما کر دیا ہے کہ آج ہونے والے ہندو۔ مسلم موضوع پر پارٹی کے بکواس ترجمان کی ہنگامہ آرائی کو تو یاد رکھتے ہیں ؛

گجرات نے جنگ آزادی کی قیادت کی ہے ،فرقہ پرست طاقتوں کو آگے بڑھنے سے روکنا بھی اس کی اہم ذمہ داری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقطہ نظر : ڈاکٹر منظور عالم

گجرات انتخابات کی تاریخ قریب آچکی ہے ،ممکن ہے جس وقت آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہوں اس کے ایک دن بعد گجرات میں رائے شماری کا سلسلہ شروع ہوجائے ،9 اور 14 دسمبر کو دو مرحلوں میں ووٹنگ ہونی ہے جبکہ 18 دسمبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا ۔گجرات کے رواں انتخابات پر پورے ہندوستان کی نظر ہے ،خاص ...

انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟ .................آز: مولانا سید احمد ومیض ندوی

سیرتِ رسول آج کے مسلمانوں کے پاس بھی پوری طرح محفوظ ہے، لیکن ان کی زندگیوں میں کسی طرح کے انقلابی اثرات نظر نہیں آتے، آخر وجہ کیا ہے؟ موجودہ دور کے ہم مسلمان صرف سیرت کے سننے اور جاننے پر اکتفاء کرتے ہیں، سیرتِ رسول سے ہمارا تعلق ظاہری اور بیرنی نوعیت کا ہے۔حالانکہ س سیرت کی ...

بھٹکل اسمبلی حلقے میں کھیلا جارہا ہے ایک نیا سیاسی کھیل! کون بنے گا کانگریسی اُمیدوار ؟

یہ کوئی ہنسی مذاق کی بات ہرگز نہیں ہے۔بھٹکل کی موجودہ جو صورتحال ہے اس میں ایک بڑا سیاسی گیم دکھائی دے رہاہے۔ کیونکہ 2018کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں لگی ہوئی سیاسی پارٹیاں اپنا امیدوار کون ہوگا اس پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ مخالف پارٹیوں سے کون امیدوار بننے پر ان کی جیت کے ...

سعودی عربیہ میں شہزادوں کی گرفتاریاں؛ کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن یا خاندانی دشمنیاں ؟

سعودی عربیہ میں حال ہی میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں اور شہزادوں سمیت  وزراء اور اہم  سرکاری عہدیداروں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں، اُس سے نہ صرف سعودی عربیہ  بلکہ پوری اسلامی دنیا پر گہرا  پڑا ہے اور مسلمان سعودی عربیہ میں ہونے والے واقعات پر تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں ..... آز: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے ...