110 دیہاتوں کو کاویری کے پانی کی فر اہمی کے کام کی شروعات، میری حکومت قول وفعل کی پابند:سدرامیا

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 20th April 2017, 12:54 AM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو:19/اپریل(ایس او نیوز) برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی حدود میں شامل 110 دیہاتوں کو کاویری کاپانی مہیا کرانے کیلئے 1886 کروڑ روپیوں کے منصوبے کا آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آغاز کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کاویری پانچویں اسٹیج کے پراجکٹ کی تکمیل کے ساتھ شہر بنگلور کے مزید علاقوں کو پینے کے پانی کی سربراہی ممکن ہوسکے گی۔پانچ ہزار کروڑ روپیوں کی لاگت پر اس پراجکٹ کو مکمل کیا جارہاہے۔سدرامیا نے کہا کہ ان کی حکومت قول اور فعل کی پابند حکومت ہے۔ یہ وعدہ کیاگیاتھاکہ بی بی ایم پی کی حدود میں شامل ہونے والے نئے دیہاتوں کوکاویری کاپانی مہیا کرایا جائے گا۔ اس وعدہ کی تکمیل کرتے ہوئے پانی کی سربراہی کا کام آج سے شروع کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ آنے والے دنوں میں ریاست کی ترقی کیلئے منصوبوں کوآگے بڑھانے کے ساتھ اور بھی عوام پرور فلاحی اسکیمیں لاگو کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جن 110 دیہاتوں کو آج سے پینے کے پانی کی فراہمی کے کام کا آغاز ہورہا ہے، جلد ہی ان دیہاتوں کیلئے مستقل ڈرینج نظام بھی مہیا کرایا جائے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج نے کہا کہ ریاستی حکومت شہر کی ترقی کی پابندہے۔ آنے والے دنوں میں اور بھی بڑے بڑے منصوبوں کو عملی شکل دی جائے گی، اس کیلئے حکمت عملی وضع کرنے کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ تقریب میں وزیر زراعت کرشنا بائرے گوڈا، رکن اسمبلی بائرتی بسوراج، میئر جی پدماوتی، راجیہ سبھا ممبر کے سی رام مورتی، اراکین اسمبلی اروند لمباولی، وشواناتھ، کارپوریٹر رادھما وینکٹیش، بی ڈی اے ممبر جگدیش ریڈی وغیرہ موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

ڈی کے شیوکمار پہلے وزارت سے استعفی دیں اور تحقیقات کاسامنا کریں۔کاروار میں اپوزیشن لیڈر ایشورپا کا مطالبہ

پچھلے دنوں وزیر توانائی ڈی کے شیو کمار کے مختلف ٹھکانوں پر آئی ٹی کے چھاپے اور غیر محسوب دولت کے سلسلے میں چل رہی تحقیقات کے پس منظر میں اپوزیشن لیڈر ایشورپا نے مانگ کی ہے کہ ڈی کے شیوکمار سب سے پہلے اپنے قلمدان سے مستعفی ہوجائیں اور پھر تحقیقات کریں۔

نیشنل ہائی ویزکو ڈی نوٹیفائی کرنے کا معاملہ: ریاستی حکومت شراب لابی کو راحت پہنچانا چاہتی ہے جبکہ مرکزی حکومت دامن بچارہی ہے

سپریم کورٹ کے حکم پر نیشنل اور اسٹیٹ ہائی ویز سے قریب واقع شراب خانوں کو بند کروانے کے بعد ریاستی حکومت کو بڑاخسارہ ہوا ہے جس کی بھرپائی اور شراب لابی کو راحت پہنچانے کے لئے حکومت نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل ہائی ویز کے کچھ حصے کو ڈی نوٹیفائی کرکے اسے ریاستی ہائی ...

اسکولوں میں عوام اور والدین کے داخلے پر پابندی، لیجسلیچر کمیٹی ریاستی حکومت سے سفارش کرے گی: اگرپا

رکن کونسل وریاستی محکمۂ بہبود خواتین واطفال کی لیجسلیچر کمیٹی کے چیرمین وی ایس اگرپا نے کہا کہ اسکولوں میں عوام کے داخلے پر پابندی لگنی چاہئے۔ اسکول کے پرنسپل کی اجازت کے بغیر اسکول کے احاطہ میں والدین کے داخلے کو بھی ممنوع قرار دینے کی سفارش پر ان کی کمیٹی سنجیدگی سے غور ...

شہر سے عازمین حج کی 13 پروازیں روانہ، مکہ مکرمہ میں تمام عازمین سکون کے ساتھ مقیم

شہر بنگلور سے عازمین حج کی روانگی کا سلسلہ تکمیل کی طرح رواں دواں ہے۔ اب تک روزانہ 340 عازمین پر مشتمل بارہ پروازیں کیمپے گوڈا انٹر نیشنل ایرپورٹ سے جدہ کے شاہ عبدالعزیز ایرپورٹ پہنچ چکی ہیں۔ یہاں سے پہنچنے والے عازمین حج مکہ مکرمہ کے گرین اور عزیزیہ زمروں میں آرام سے مقیم ہیں ...

جی ایس ٹی نظام معاشی حالات کو بہتر بنانے کیلئے ہے

الگ الگ زمروں کے ٹیکس نظام کو یکجا کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی طرف سے جی ایس ٹی کی شکل میں رائج یکساں ٹیکس نظام کا مقصد ٹیکس کی ادائیگی کو سہل بنانا ہے۔ یہ بات آج معروف ماہر معاشیات اور آئی ٹی آر اے ایف کے چیرمین ڈاکٹر پارتھا سارتھی نے کہی۔ آج یہاں ایف کے سی سی آئی ممبران سے خطاب ...

دو سال قبل ہندودیوی کے خلاف فیس بک پر ہتک آمیز تبصرہ کرنے کے الزام میں مینگلور کے شخص کی ممبئی ایئر پورٹ پر گرفتاری

دو سال قبل فیس بک پر ہندو دیوی سیتا کے تعلق سے نازیبا تبصرہ کرنے کے الزام میں منگلورو پولیس کو مطلوب شخص کو ممبئی ایئر پورٹ پر گرفتار کرلیا گیاجس کا نام درویز محی الدین ( ۲۷سال) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

ڈی کے شیوکمار پہلے وزارت سے استعفی دیں اور تحقیقات کاسامنا کریں۔کاروار میں اپوزیشن لیڈر ایشورپا کا مطالبہ

پچھلے دنوں وزیر توانائی ڈی کے شیو کمار کے مختلف ٹھکانوں پر آئی ٹی کے چھاپے اور غیر محسوب دولت کے سلسلے میں چل رہی تحقیقات کے پس منظر میں اپوزیشن لیڈر ایشورپا نے مانگ کی ہے کہ ڈی کے شیوکمار سب سے پہلے اپنے قلمدان سے مستعفی ہوجائیں اور پھر تحقیقات کریں۔