کاویری سے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کمار سوامی کا حکم،34ٹی ایم سی فیٹ پانی پڑوسی ریاست کو دیاجائے گا، منڈیا کے کاشتکار حکومت کے فیصلے پر برہم

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2018, 11:24 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،11؍جولائی(ایس او نیوز) وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کاویری طاس کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش کے پیش نظر ریاستی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ دریائے کاویری سے تملناڈو کو مطلوبہ مقدار کا پانی بہادیا جائے۔

حال ہی میں منعقدہ کاویری ریور اتھارٹی میٹنگ میں کرناٹک کو ہدایت دی گئی تھی کہ جولائی کے دوران تملناڈو کو مطلوبہ 34 ٹی ایم سی فیٹ پانی کاویری سے بہایا جائے۔ وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے انتظامیہ کو یہ پانی بہادینے کی ہدایت جاری کی ہے۔کہاجارہا ہے کہ پانی کی فراہمی میں اگر تاخیر ہوتی ہے تو تملناڈو کی طرف سے 50 ٹی ایم سی کی مانگ ہوسکتی ہے۔

حکومت تملناڈو کاویری ریور اتھارٹی پر یہ دباؤ ڈال رہی ہے کہ اگست کے دوران کرناٹک کو ہدایت دی جائے کہ کاویری سے 84 ٹی ایم سی فیٹ پانی جاری کیا جائے۔تملناڈو کی طرف سے ایسے کسی بھی دباؤ کو ناکام بنانے کے مقصد سے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کاویری ریور اتھارٹی میں کرناٹک کے نمائندہ اور محکمۂ آبی وسائل کے سکریٹری راکیش سنگھ کے ذریعے کاویری ریور اتھارٹی کے چیرمین مسعود حسین کو اطلاع دی ہے کہ کرناٹک کی طرف سے تملناڈو کو34 ٹی ایم سی فیٹ پانی جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست کے آبی ذخائر چونکہ بھرے پڑے ہیں اسی لئے جولائی کے دوران تملناڈوکو پانی فراہم کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ البتہ اگست ستمبر اور اکتوبر کے دوران آبی ذخائر میں پانی کی سطح بہت کم رہتی ہے ایسے میں تملناڈو کو پانی فراہم کرناممکن نہیں ہے۔ فی الوقت پانی جاری کرکے کرناٹک نے کاویری ریور اتھارٹی کے حکم کی تعمیل کی ہے ، اس کے بعد اگر پانی کا تقاضہ کیا گیا تو کرناٹک نے اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاست بھر میں جابجا موسلادھار بارش کی وجہ سے جمع پانی کو تملناڈو کی طرف بہادیا گیا ہے، ایسے مرحلے میں جبکہ بارش نہ ہو تملناڈو کو پانی نہیں دیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے کاویری ریور اتھارٹی اور سپریم کورٹ میں اپنی طرف سے پانی کی قلت کے متعلق دلائل مضبوطی سے پیش کرنے کے مقصد سے پانی جاری کیاگیاہے۔

اس دوران وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارس وامی اور وزیر آبی وسائل ڈی کے شیوکمار کی طرف سے کاویری کاپانی تملناڈو کو مہیا کرائے جانے پر کاویری ہوراٹا سمیتی کے چیرمین جی مادے گوڈا نے سخت اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ کاویری سے تملناڈو کو پانی فراہم کرکے حکومت نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ کاویری ریور اتھارٹی میں کرناٹک کے نمائندے پر کوتاہی برتنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کل جماعتی اجلاس میں حکومت نے کیا فیصلہ لیاتھا؟۔

اب حکومت کیاکررہی ہے ، یہ طے کیاگیا تھاکہ تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کی ہدایت کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا یا پھر کاویری ریور اتھارٹی سے نظر ثانی کی درخواست کی جائے گی، لیکن اچانک وزیراعلیٰ نے 34 ٹی ایم سی فیٹ پانی تملناڈو کو مہیا کرانے کی ہدایت دی ہے۔ اگر یہ پانی بہادیا گیا اور آئندہ بارش نہ ہوئی تو کرناٹک کے کسان کیا کریں گے؟۔ ستمبر اور اکتوبر کے دوران اگر مانسون ناکام ہوگیا تو کاویری طاس کے آبی ذخائر پوری طرح سوکھ جائیں گے۔ حکومت کو چاہئے تھاکہ اس سلسلے میں ماہرین سے جانکاری حاصل کرتے اور بعد میں کوئی بھی فیصلہ کرتی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تملناڈوکو پانی کی فراہمی روک دی جائے۔ اور ریاست کے آبی ذخیروں میں پانی جمع رکھا جائے تاکہ ریاست کے کاشتکاروں کو آسانی ہوسکے۔ ڈی کے شیوکمار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مادے گوڈا نے کہاکہ آب پاشی کے مسائل کے بارے میں اگر نئے وزیر کو جانکاری نہیں ہے تو اپنے پیش رو ایم بی پاٹل سے جانکاری حاصل کریں۔ اور بعد میں فیصلہ لیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

جمہوریت اوردستورکے تحفظ کے لیے ووٹر فہرست میں ناموں کا اندراج لازمی سی آر ڈی ڈی پی کی ملک گیر جدوجہد

مسلمانوں کے لیے ایوان میں کم ہورہی مسلم نمائندگی سے زیادہ تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ ملک بھر میں ووٹرس فہرست سے کروڑوں مسلمانوں کے نام غائب ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ملک میں تقریباً 25 فیصد سے زائد اہل ووٹروں کے نام فہرست سے غائب ہیں۔ اس اہم مسئلے پر ماہر معاشیات و سچر کمیٹی کے ممبر ...