ذبح کے لیے مویشیوں کی خریدوفروخت پر پابندی سے متعلق ہدایت کو لے کر مرکز کو نوٹس

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th June 2017, 3:48 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،15؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مویشی بازاروں میں ذبح کرنے کے مقصدسے مویشیوں کی خریدو فروخت کئے جانے پر پابندی لگانے والے مرکز کے متنازعہ نوٹیفکیشن کو چیلنج دینے والی درخواستوں پرسپریم کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔جسٹس آرکے اگروال اور جسٹس ایس کے کول کی بنچ نے مرکزکونوٹس جاری کر کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی دو درخواستوں پر دو ہفتے کے اندر جواب دینے کو کہا ہے۔عدالت نے معاملہ کی اگلی سماعت کے لیے 11؍جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔مرکز کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پی ایس نرسمہا نے بنچ کو بتایا کہ یہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کے پیچھے منشا ملک بھر کے مویشی بازاروں کے لیے قوانین نظام لانے کی ہے۔انہوں نے عدالت سے کہا کہ مدراس ہائی کورٹ نے بھی نوٹیفکیشن پر عبوری روک کی ہدایت جاری کی ہے۔عدالت میں نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی دو درخواستوں میں سے ایک میں دعوی کیا گیا ہے کہ نوٹیفکیشن کی تجویز غیر آئینی ہیں ،کیونکہ وہ ضمیر کی آزادی، مذہب اور ذریعہ معاش کی آزادی جیسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔غورطلب ہے کہ مرکز نے 26؍مئی کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے ملک بھر کے مویشی بازاروں میں ذبح کے لیے جانوروں کی خرید وفروخت کئے جانے پر پابندی لگا دی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

ولکاتہ برمن اغواء معاملہ عمرقید کی سزاؤں کے خلاف کولکاتہ ہائی کورٹ میں اپیل داخل اپیل سماعت کے لئے منظور ہونے کے بعد ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں داخل کی جائیں گی: گلزار اعظمی

۲۳؍جولائی ۲۰۰۱ء کو مغربی بنگال کے شہر کولکاتہ کی مشہور جوتے کی کمپنی کے مالک روئے برمن کو اغواء کرنے والے معاملے میں نچلی عدالت سے ملزمین کو ملی عمر قید کی سزاؤں کے خلاف جمعیۃ علماء کے توسط سے کولکاتہ ہائی کورٹ میں نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کردی گئیں

کولکاتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال پنچایت الیکشن کے لیے ازسر نو تاریخوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا

مغربی بنگال پنچایت الیکشن میں کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے گذشتہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ الیکشن کے لئے نامزدگی اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان ریاست کے اتفاق رائے سے کرے۔

انڈین مجاہدین مقدمہ (گجرات) کیا واقعی بہت سارے گواہوں کی ضرورت ہے ؟ سپریم کورٹ کا استغاثہ سے سوال

انڈین مجاہدین (گجرات ) مقدمہ میں ماخوذ گذشتہ ۹؍ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقیددو مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے گذشتہ دنوں سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے استغاثہ سے سوال کیا کہ آیاواقعی انہیں ہزاروں گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے ؟