رافیل ڈیل پر سی اے جی نے پارلیمنٹ میں پیش کی رپورٹ، اپوزیشن نے کہا-حقائق چھپانے کی کوشش کی گئی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th February 2019, 11:21 AM | ملکی خبریں |

ئی دہلی،14؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل ( سی اے جی/کیگ) نے کہا ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دوران ہوئی رافیل جنگی طیارے کی ڈیل پہلے کی یو پی اے حکومت کے ذریعے کی گئی ڈیل کی مقابلے میں سستی ہے۔ پارلیمنٹ میں بدھ کو پیش کیگ کی رپورٹ کے مطابق، این ڈی اے حکومت کے تحت ہوئی رافیل ڈیل پہلے کی یو پی اے حکومت کے دوران ہوئی مذاکراتی پیشکش کے مقابلے میں 2.86 فیصد سستی ہے۔ڈیفنس سے متعلق  پارلیمنٹ کی ایڈوائزری کمیٹی کے ممبر اور کانگریس رکن پارلیامان پردیپ بھٹاچاریہ نے جنگی طیارے رافیل کی خرید‌کے معاملے میں کیگ کی رپورٹ کو نا مکمل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو ابھی درست کئے جانے کی ضرورت ہے۔کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر بھٹاچاریہ نے بدھ کو پارلیامنٹ میں کیگ کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد کہا، ‘ رپورٹ کو ایک نظر دیکھنے کے بعد فوری طور پر ایسا لگتا ہے کہ سودے کا صحیح اندازہ ہوا ہی نہیں ہے۔ صحیح اندازہ کیوں نہیں ہوا… ، مجھے لگتا ہے کہ کچھ حقائق کو چھپانے کے لئے کوئی بندوبست ہوا ہے۔ ‘انہوں نے حکومت پر حقائق کو چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ‘ یا تو وزارت دفاع کے ذریعے پورے دستاویز کیگ کے پاس نہیں پہنچائے گئے یا دستاویز پورے پہنچنے کے بعد بھی حقائق کو کیوں چھپایا گیا، یہ ہماری سمجھ سے پرے ہے۔ ایسے میں مجھے لگتا ہے کہ اس رپورٹ کو تھوڑا درست کرنا ضروری ہے۔ ‘ بھٹاچاریہ نے کہا کہ ابھی ان کو پوری رپورٹ دیکھنے کا موقع نہیں ملا ہے، لیکن فوری طور پر اس کو دیکھنے سے صاف لگتا ہے کہ رافیل ڈیل کو لےکر اس میں پوری حقیقت شامل نہیں ہو پائی ہے۔ ایسا اس لئے، کیونکہ اس میں جنگی طیارے کی قیمت کا مناسب ذکر نہیں ہے۔

اضافہ وہیں رافیل ڈیل پر کیگ کی رپورٹ پر مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے کہا کہ مہاجھوٹ بندھن کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا اور سچ کی جیت ہوئی۔پارلیامنٹ میں پیش سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق، این ڈی اے حکومت کے تحت ہوئی رافیل ڈیل پہلے کی یو پی اے حکومت کے دوران ہوئی مذاکراتی پیشکش کے مقابلے میں 2.86 فیصد سستی ہے۔

جیٹلی نے ٹوئٹ کیا، ‘ ستیہ میو جیتے… سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔ رافیل مدعے پر کیگ کی رپورٹ نے اس کی تصدیق کی ہے۔ ‘ انہوں نے کہا کہ 2016 بنام 2007… کم قیمت، فوری فراہمی، بہتر رکھ رکھاؤ، مہنگائی کی بنیاد پر کم اضافہ۔

کانگریس سمیت اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘ یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ سپریم کورٹ غلط ہے، کیگ غلط ہے اور صرف فیملی صحیح ہے۔ ‘ جیٹلی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب آج کیگ کی رافیل مدعے پر رپورٹ پارلیامنٹ میں پیش کی گئی ہے۔اس مدعے پر کانگریس صدر راہل گاندھی سمیت مختلف حزب مخالف جماعت حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔کانگریس اور دیگر حزب مخالف جماعت رافیل ڈیل میں مبینہ گھوٹالے کا الزام لگاتے ہوئے اس کی جوائنٹ پارلیامانی کمیٹی سے تفتیش کرانے کی مانگ کرتی رہی ہیں۔پارلیامنٹ کے سیشن کے دوران بھی یہ مدعا دونوں ایوانوں میں چھایا رہا اور کارروائی میں رکاوٹ پیداہوئی ۔ ارون جیٹلی نے کہا، ‘ جو لوگ لگاتار جھوٹ بولتے ہوں، ان کو جمہوریت کیسے سزا دے۔ ‘ انہوں نے کہا، ‘ مہاجھوٹ بندھن کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا۔ ‘سی پی ایم رہنما سیتارام یچوری نے بھی رافیل پر کیگ رپورٹ کی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی این ٹی میں شامل وزارت دفاع کے تین سینئر افسروں نے 8 صفحہ کا ایک اعتراض نامہ دےکر نئی ڈیل کو یو پی اے حکومت کے ذریعے کی گئی ڈیل سے بہتر بتانے اور رافیل طیاروں کو جلد مہیا کرانے کے دعووں پر اعتراض کیا تھا۔

یچوری نےسی اے جی ہنس مکھ ادھیا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب رافیل ڈیل ہوئی تھی تو وہ وزارت خزانہ میں تھے۔ اس لئے وہ اس ڈیل کی آڈٹ نہیں کر سکتے ہیں جس کا وہ حصہ تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

اعظم خان کے سامنے بی جے پی کا کوئی بھی ہتھکنڈہ کارگر نہیں ہوگا: مایاوتی

اترپردیش کے رامپور پارلیمانی سیٹ سے سماجوادی کے قدآور لیڈر و پارٹی امیدوار اعظم خان کی حمایت میں ووٹروں سے ووٹ کرنے کی اپیل کرتی ہوئیں بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ مرکز میں برسراقتدار پارٹی لاکھ ہتھکنڈے اپنائے لیکن رامپور سے اتحاد کے امیدوار اعظم خان کی جیت یقینی ہے۔

مودی چنندہ صنعت کاروں کے چوکیدار، عوام دوسرا موقع نہیں دے گی: راہل گاندھی

کانگریس صدر راہل گاندھی نے آج کہاکہ ملک کی چوکیداری کرنے کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم نریندر مودی حقیقت میں انیل امبانی سمیت کچھ چنندہ صنعت کاروں کے چوکیدار ہیں اس لئے عوام نے انہیں ڈیوٹی سے ہٹانے کا من بنا لیا ہے۔

فلم کے بعد پی ایم مودی پربنی ویب سیریز کے نشریات پربھی الیکشن کمیشن نے لگائی روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ منسلک ایک ویب سیریز کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جھٹکا لگا ہے۔دراصل الیکشن کمیشن نے اس ویب سیریز کو ریلیز کر رہے پلیٹ فارمس ارس ناؤ کو نوٹس جاری کر اسے فوری اثر سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔