بلندشہر تشدد:سابق پردھان نے کہا،ہم تومان گئے تھے، بجرنگ دل والوں نے برسائے پتھر، پولیس پربرسانے کے لیے باہرسے لائے گئے تھے پتھر،منصوبہ بندلگتاہے حادثہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th December 2018, 11:41 AM | ملکی خبریں |

بلندشہر،5دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) گؤکشی کے شک میں بلندیش کے جس گاؤں میں تشددہوااس گاؤں مہاؤ کے سابق پردھان نے کہا کہ ہماری پولیس والوں سے صلح ہوگئی تھی،ہمارے گاؤں والوں نے پتھراؤ نہیں کیا،پتھراؤکرنے والے باہر سے تھے۔سابق پردھان پریم جیت سنگھ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے ساتھ ہماری صلح ہوگئی تھی،پولیس نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ملزمین کے خلاف ایف آئی آردرج کردی جائے گی،ہمارے گاؤں کے لوگ بھی مان گئے تھے، لیکن اچانک بجرنگ دل کے لوگوں نے ٹریکٹر پرقبضہ کرلیا،ہم نے بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے۔سنگھ کے کھیت میں میں گائے کے کچھ بقایہ ملے،جس کے بعد یہ تنازع ہوگیاتھا۔اس کے ساتھ ہی سنگھ نے کہا کہ ہم نے ٹریکٹر کو ہٹالیا تھا لیکن جب ہم ٹرالی ہٹانے گئے تو پتھراؤشروع ہوگیا،پتھراؤ گاؤں کے لوگوں نے نہیں کیا،مجھے پتہ ہی نہیں کہ اتنے پتھرکہاں سے آئے،گاؤں میں تواتنے پتھرہوتے نہیں،میں تو صلح کروا رہا تھا، اچانک بھیڑ نے پتھرمارنا شروع کر دیا،یہ سب باہرکے تھے،جب پتھر چلنے لگے تو ہم جان بچاکر بھا گے،یہ لڑکا یوگیش راج آگے تھا، اس کاہم سے کچھ لینادینا نہیں ہے،میں نہیں جانتا کہ جب پولیس ایف آئی آر کر رہی تھی تو پتھر کیوں چلے؟ یہ پوری طرح سے منصوبہ بندلگتا ہے۔اس کے علاوہ ایک راج کمار کا نام کے شخص کے کھیت میں بھی گوشت کے باقیات ملے،وہ کہتے ہیں کہ ہم گائے کے باقیات کوکھیت میں ہی گاڑناچاہ رہے تھے لیکن بھیڑ نے اسے قبول نہیں کیا۔

راج کمار کی بیوی رینیونے گفتگو کرتے کہاکہ جب ہم کل (3دسمبر)کوکھیت میں پہنچے، تو ہمیں وہاں گائے کے باقیات ملے،ہم نے اس کے بارے میں پولیس کو آگاہ کیا،اس کے بعد بڑی تعداد میں گاؤں اور ہجوم ہمارے کھیت تک پہنچ چکی تھی،اس کے بعد ہم نے کھیت میں باقیات کو گاڑنے کا فیصلہ کیا لیکن بھیڑ نہیں مانی۔اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ بھیڑ ہی ٹرالی لے کرآئی اورکہاکہ اس میں باقیات رکھ کر پولیس سٹیشن لے جاکر جام کرتے ہیں،ہم نے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے ہیں لیکن بھیڑ نہیں مانی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ تشدد کرنے والے لوگ کون تھے؟تو انہوں نے کہا کہ ہم نہیں بتا سکتے کہ آیا بجرنگ دل کے لوگ بھیڑ میں تھے یا نہیں۔ بتادیں کہ پیر کوبلندشہرکے کے مہاو گاؤں میں گؤکشی کی اطلاع پر پولیس پہنچی تھی۔پولیس نے وہاں ناراض بھیڑ کوسمجھانے کی کوشش کی لیکن بھیڑنے پولیس پرہی حملہ کردیا،حملے میں یو پی پولیس نے ایک انسپکٹر کی موت ہوگئی،وہاں ایک اور شہری بھی مر گیا۔پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرلی ہے اور آپریشن شروع کردیا ہے۔اس میں اب تک چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

پروٹوکول توڑنے میں مودی نے عمران سے مقابلہ کیا، سفارتی ناکامی پر جواب دیں: کانگریس

کانگریس نے سعودی عرب کے شہزادہ (ولی عہد) محمد بن سلمان کا پروٹوکول سے الگ جاکرخوش آمدید کئے جانے کو لے کر بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولا اور الزام لگایا کہ پروٹوکول توڑنے میں مودی تو گویا پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ، جیسے مقابلہ کر رہے ہیں۔

پلوامہ حملہ: اب آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے مودی حکومت کو گھیرا، کہا، قومی سلامتی خطرے میں ہے

پلوامہ دہشت گردانہ حملے کو لے کر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو نے مرکز کی مودی حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔

این سی ڈی آرسی نے آپریشن کے دوران لاپرواہی برتنے والے ڈاکٹر متاثرہ خاندان کو 2.7 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا

قومی صارفین تنازعہ سراغ رساں کمیشن(این سی ڈی آرسی) نے آپریشن کے دوران لاپرواہی کی وجہ سے ایک خاتون کی موت کے معاملے میں تین ڈاکٹروں کو متاثر خاندان کو پر 2.7 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔