کیرالا میں زعفرانی تشدد کا مؤثر جواب دیا جائے گا:سیتارام یچوری

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th October 2017, 12:23 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،9/اکتوبر(ایجنسی) سی پی آئی (ایم) جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے آر ایس ایس اور بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اگر زعفرانی تنظیمیں سیاسی تشدد کا سلسلہ نہ روکیں تو بائیں بازو جماعت مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سی پی آئی (ایم) نے کیرالا میں زعفرانی دہشت گردی کے خلاف بی جے پی کے ہیڈکوارٹر تک احتجاجی مارچ منظم کیا۔ ریاست میں بائیں بازو جماعتوں کے مبینہ تشدد کے خلاف بی جے پی مارچ کے جواب میں پارٹی نے آج یہ احتجاج منظم کیا تھا۔ سیتارام یچوری نے کہاکہ ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ اُنھوں نے بی جے پی کو خبردار کیاکہ اگر تشدد کا سلسلہ روکا نہ گیا تو پھر ہم جواب دیں گے۔ ہم ڈرنے اور گھبرانے والے نہیں ہیں۔ سیتارام یچوری کی زیرقیادت اِس مارچ میں سابق پارٹی جنرل سکریٹری پرکاش کرت اور دیگر پولیٹ بیورو ارکان بھی شامل تھے۔ بی جے پی ہیڈکوارٹر کے روبرو پارٹی کے کیڈر سے خطاب کرتے ہوئے سیتارام یچوری نے کہاکہ جہاں بی جے پی کیرالا میں بائیں بازو تشدد کے خلاف دہلی میں مہم چلارہی ہے وہیں ہم بائیں بازو کیڈر کے ساتھ تشدد کیخلاف اپنی مہم جاری رکھیں گے۔ اُنھوں نے کل پیش آئے واقعہ کا حوالہ دیا جس میں آر ایس ایس کارکنوں نے مبینہ طور پر کنور میں بائیں بازو کیڈر پر بم پھینکے تھے۔ سی پی آئی (ایم) پولیٹ بیورو رکن برندا کرات نے احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ کو تشدد کے سلسلے میں شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ امیت شاہ کیرالا میں بائیں بازو کیڈر کے خلاف دہشت پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ریاست کے عوام آرایس ایس اور بی جے پی کے آگے جھکنے والے نہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

اے ایم یوریزرویشن: مولانا ولی رحمانی نے پیش کیا 50-50 کا فارمولہ، اولڈ بوائزنے ٹھکرائی تجویز

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق  بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے ایم یوکو لے کرپولرائزیشن کی سیاست کی جارہی ہے۔ اس پرپرسنل لا بورڈ نے 50 فیصد مسلم اور 50 فیصد دلت ریزرویشن  کی تجویز پیش کردی۔

چنئی میں 11سالہ بچی کی 7 مہینے تک عصمت دری؛ 18 لوگوں گرفتار

چنئی میں 11سال کی بچی کی مبینہ طور سے عصمت دری کرنے کے الزام میں پولیس نے18  لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان لوگوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک اپارٹمنٹ میں سات مہینوں تک بچی کا جنسی استحصال کیا۔ گرفتار ملزموں کو منگل کو کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں مشتعل ہجوم نے ملزموں کی پٹائی کردی۔