کرناٹک :کانگریس ممبر اسمبلی کا دعوی ، بی جے پی نے حمایت کے عوض میں وزیر بنانے کی پیشکش کی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th May 2018, 12:14 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،16؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد اب وہاں کے سیاسی حالات کافی دلچسپ بنتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ خرید و فرخت کے ساتھ ساتھ منتخب ممبران اسمبلیوں کو وزارت کی لالچ دے کر اپنے پالے میں کرنے کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ کانگریس کے ایک ممبر اسمبلی نے دعوی کیا ہے کہ بی جے پی نے انہیں حمایت دینے بدلے میں وزیر بنانے کی پیشکش کی تھی ، جس کو انہوں نے مسترد کردیا ہے ۔

جے ڈی ایس کے ایک اور ممبر اسمبلی ٹی اے شرونا کا کہنا ہے کہ ان کے تین ممبران اسمبلیوں سے بی جے پی نے رابطہ کیا تھا ۔ پارٹی ممبران اسمبلی کی میٹنگ میں شامل ہونے سے پہلے میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم سب متحد ہیں ۔ تقریبا 80 فیصد ممبران اسمبلی یہاں پہنچ چکے ہیں اور باقی دیگر بھی رستے میںاور یہاں پہنچ رہے ہیں۔ کمار سوامی جو بھی فیصلہ لیں گے ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔

دریں اثنا ریاست میں حکومت سازی کیلئے اکثریت حاصل کرنے کی کوششوں مصروف بی جے پی کے لیڈر ایس وائی ایورپا کا کہنا ہے کہ کانگریس اور جے ڈی ایس کے کچھ ممبران اسمبلی ان کے رابطہ میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم حکومت بنانے جارہے ہیں۔ 100 فیصد ہماری ہی حکومت ریاست میں بن رہی ہے۔آپ لوگ صرف دیکھتے جائیے۔

ادھر بتایا جارہا ہے کہ بی جے پی کی حکومت بنانے کیلئے کان کنی گھوٹالہ کے ملزمین ریڈی برادران بھی حرکت میں آگئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بی جے پی کی اعلی قیادت نے ریڈی برادران سے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن کے لیڈروں کو اپنی طرف کھینچے ۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ جے ڈی ایس اور کانگریس کے کچھ ممبران اسمبلی جناردن ریڈی اور بی شری رامولو کے رابطے میں ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔