مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ حکومت کو گرانا چاہتی ہے بی جے پی: دگ وجے سنگھ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th January 2019, 10:27 AM | ملکی خبریں |

بھوپال 5 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کمل ناتھ حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہے۔

دگ وجے کا کہنا ہے کہ شیوراج حکومت میں وزیر رہے دو بی جے پی لیڈر ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بی جے پی کو اپوزیشن کا کردار ہضم نہیں ہورہا ہے تو وہ ہارس ٹریڈنگ کرکے اقتدار میں واپسی چاہتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سابق وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے یہ الزام لگایا ہے کہ کمل نا تھ حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ دگ وجے نے اس الزام کے جواب میں کہا کہ ایسا کہہ کر شیوراج سنگھ نے گورنر آنندی بین پٹیل کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے ہی اکثریت کی بنیاد پر کمل ناتھ کو وزیر اعلی کے عہدے کا حلف دلایا تھا ۔

دگ وجے نے یہ بھی کہا کہ شیوراج حکومت میں وزیر رہے تین بی جے پی لیڈر کانگریس حکومت گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے نروتم مشرا اور بھوپندر سنگھ کا نام لے کر کہا کہ یہ لوگ آزاد اور ایس پی۔بی ایس پی ممبران اسمبلی کو خریدنے کے لئے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کانگریس کے بھی کچھ ممبران اسمبلی کو لالچ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دگ وجے کے مطابق بی جے پی کے لیڈر ممبران اسمبلی کو دس سے پچیس کروڑ تک کی پیش کش کر رہے ہیں۔کانگریس لیڈر کا یہ بھی کہنا ہے، 'دراصل، بی جے پی کے لیڈر اقتدار کے بغیر رہ نہیں پا رہی ہے اس لیے وہ ایک چنی ہوئی، اکثریت والی حکومت گرانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ملے گی۔ 

ایک نظر اس پر بھی

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے