کمار سوامی حکومت کوگرانے یڈیورپاکی کوششوں پر بی جے پی اعلیٰ کمان برہم

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th September 2018, 12:04 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،11؍ستمبر(ایس او نیوز) سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کی طرف سے بارہا مختلف ذرائع سے ریاست کی کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کو کمزور کرنے کی کوششوں اور اس میں مسلسل ناکامیوں پر بی جے پی اعلیٰ کمان نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔

بتایاجاتاہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران کرناٹک کے اقتدار پر کسی بھی حال میں بی جے پی کو قابض کرنے اور ریاست کی زیادہ سے زیادہ لوک سبھا سیٹوں پر بی جے پی کو کامیاب بنانے کے اپنے دعوے کو پورا کرنے کے لئے یڈیورپاکی طرف سے کمار سوامی حکومت کو گرانے کبھی ڈی کے شیوکمار پر مقدموں کا سہارا لیا جارہاہے تو دوسری طرف بلگام میں کانگریس لیڈران لکشمی ہبالکر اور جارکی ہولی برادران کے درمیان سیاسی اختلافات کا سہارا لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

بی جے پی اعلیٰ کمان کو یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ ایسے مر حلے میں جب کہ لوک سبھا انتخابات کے لئے صرف چند ماہ رہ گئے ہیں۔ بی جے پی کی طرف سے آپریشن کمل کرنے کی کوئی بھی کوشش قومی سطح پر پارٹی کے امکانات کو متاثر کرسکتی ہیں۔ فی الوقت بی جے پی کی توجہ اس طرف مرکوز ہے کہ کسی بھی حال میں اگلی حکومت مودی کی بنے ۔کرناٹک میں پارٹی کو اقتدار ملتا ہے یا نہیں اس سے پارٹی کی مرکزی قیادت کو اتنی دلچسپی نہیں ہے۔اس سے پہلے بھی جب بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں 103سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی تو گورنر نے اکثریت کو خاطر میں لائے بغیر یڈیورپا کو حکومت سازی کی دعوت دے دی تھی، سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد یڈیورپا کو اعتماد کا ووٹ لئے بغیر استعفیٰ دینا پڑا تھا۔اب دوبارہ یڈیورپا کی طرف سے آپریشن کمل کی کوششیں بی جے پی میں بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔

ایسے مرحلے میں جبکہ تمام اپوزیشن پارٹیاں بی جے پی کے خلاف قومی سطح کا محاذ بناچکی ہیں۔ کرناٹک کی کمار سوامی حکومت کو گرانے کے لئے اگر بی جے پی کی طرف سے کوئی بھی کوشش ہوتی ہے تو قومی سطح پر یہ محاذ اور مستحکم ہوگا اور وزیر اعظم مودی کے لئے فی الوقت جو چیلنج پیش کیاگیا ہے وہ گزرتے وقت کے ساتھ مشکل ہوجائے گا۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے یڈیورپاکو سخت ہدایت دی ہے کہ کسی بھی حال میں کانگریس یا جے ڈی ایس کے کسی برگشتہ لیڈر کو طلب کرکے ان سے ملاقات کی حماقت نہ کریں ۔

یڈیورپا کا کہنا ہے کہ کمار سوامی حکومت کو گراکر انہیں وزیر اعلیٰ بنایا جاتاہے تو وہ ریاست کی 28 میں سے 25 لوک سبھا سیٹوں پر بی جے پی کو کامیاب بنائیں گے۔اگر لوک سبھاانتخابات تک موجودہ حکومت برقراررہی تو ریاست کی دس لوک سبھا سیٹوں پر بھی بی جے پی کا جیتنا مشکل ہے۔ یڈیورپا کے اس بیان کو مرکزی قیادت نے سنجیدگی سے نہیں لیا اور پارٹی کا ماننا ہے کہ کرناٹک کی 20 25 سیٹوں کی وجہ سے بی جے پی قومی سطح پر اپنی ساکھ گنوانے کے موقف میں نہیں ہے۔موجودہ حالات میں اگر کمار سوامی حکومت کو گرانے کے لئے بی جے پی کی طرف سے کوئی بھی حرکت ہوتی ہے تو قومی سطح پر پہلے کی کمزور پڑتی ہوئی مودی کی ساکھ اور بھی متاثر ہوگی۔

بی جے پی کی مرکزی قیادت کا یہ بھی ماننا ہے کہ ریاست میں اگر اقتدار نہ بھی ہوتو بی جے پی 28 میں سے 12سے14 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرلے گی، صرف چند سیٹوں کے لئے منتخب حکومت کو جس کی کوئی غلطی نہیں ہے گرانا احمقا نہ حرکت ہوگی۔ دوسری طرف یڈیورپا کی ضد ہے کہ کمار سوامی حکومت کو گراکر انہیں وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔ وہ پارٹی کو 25سیٹوں پر کامیابی دلانا چاہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل اگر انہیں وزیر اعلیٰ نہیں بنایا گیا تو لوک سبھاانتخابات میں پارٹی ان سے کسی طرح کی امید وابستہ نہ رکھے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو:آر ایس ایس پرچارک تربیتی کیمپ میں امیت شاہ کی شرکت۔ سرخ دہشت گردی ، رام مندر، سبریملا اور انتخابات پر ہوئی خاص بات چیت

ملک کی مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی مصروفیت کے باوجود بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے منگلورو میں آر ایس ایس ’ پرچارکوں‘ کے لئے منعقدہ 6 روزہ تربیتی کیمپ کے اختتام سے ایک دن پہلے ’سنگھ نکیتن‘ میں پہنچ نے کے لئے وقت نکالااور تربیتی کیمپ کے شرکاء سے خطاب کیا۔

مشاعروں کو با مقصد بنا کر نفرت کے ماحول کو پیار اور محبت میں بدلا جاسکتا ہے : سید شفیع اللہ

مشاعرے اردو زبان اور ادب کی تہذیب کے ساتھ ساتھ امن اور اتحاد کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی ہیں۔ ملک اور سماج کے موجودہ حالات کو بہتر بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ مشاعروں کا انعقاد کیا جائے۔ بنگلورو میں بزم شاہین کے کل ہند مشاعرے میں ان خیالات کا اظہار کیا گیا۔

ٹیپوجینتی منسوخ کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے جواہر لال نہروکی جنم دن تقریب سے وزیراعلیٰ کااظہار خیال

کسانوں کی طرف سے حاصل کردہ زرعی قرضہ معاف کئے جانے کے سلسلہ میں شکوک وشبہات کا شکار نہ ہوں۔ قرضہ وصولی کیلئے کسانو ں کوغیر ضروری طور پر اذیت دی گئی تو بینک منیجرکو بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے ۔