ریاست میں تین بڑی پارٹیوں نے امیدواروں کی تلاش تیز کردی کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کا معاملہ حل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th March 2019, 12:21 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو14؍مارچ(ایس او نیوز) ریاست کرناٹک میں اگلے ماہ اپریل میں لوک سبھا انتخابات کاانعقاد ہورہاہے، جس کے لئے ریاست میں تین بڑی پارٹیوں کانگریس، جے ڈی ایس اور بی جے پی نے امیدواروں کی تلاش تیز کردی ہے اور اپنے اپنے امیدواروں کی فہرستوں کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔ مخلوط پارٹیوں کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر معاملہ حلہوچکا ہے لیکن دونوں پارٹیوں نے ابھی تک باقاعدہ اپنے امیدواروں سے متعلق تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں، بی جے پی کو جیتنے والے امیدواروں کی تلاش ہے۔ بی جے پی نے کانگریس اور جے ڈی ایس سے ناراض طاقتور لیڈروں کو پارٹی میں شامل کرنے کی کوشش تیزکردی ہے۔ کانگریس کے سابق وزیر اے منجوکو باقاعدہ بی جے پی میں شامل کرلینے کے لئے بی جے پی کے کئی لیڈروں نے لابیاں چلانی شروع کردی ہیں۔ اطلاع ملی ہے کہ ٹمکور اور چترادرگہ حلقوں سے مناسب امیدواروں کا انتخاب کرنے میں بی جے پی کو دقت پیش آرہی ہے، اس تعلق سے پارٹی میں اب بھی رسہ کشی جاری ہے۔ ٹمکور سے سابق رکن پارلیمان بی ایس بسواراج ،سابق وزیر ایس شیوانا کے درمیان ٹکٹ کے لئے رسہ کشی جاری ہے۔چتردرگہ ریزروحلقہ سے سابق ایم پی جناردھن سوامی اور وظیفہ یاب آئی اے ایس افسر لکشمی نارائن دونوں ٹکٹ کے دعویدار ہیں، ان میں سے ایک کا انتخاب کرنے میں بی جے پی کو مشکل پیش آرہی ہے۔

سوامی جی تیارنہیں۔چتردرگہ ریزرو حلقہ سے مدرا چنیا سوامی جی کو میدان میں اتارے جانے کی بھی خبریں ہیں۔ لیکن سوامی جی نے کہہ دیاہے کہ سیاست سے انہیں دلچسپی نہیں ہے۔ حالانکہ اس حلقہ سے مدرا چنیا سوامی کو میدان میں اتارنے بی جے پی لیڈرسنجیدہ غورکررہے ہیں۔ امیدواروں کا انتخاب کرنے کے لئے15 مارچ کو بی جے پی کور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہورہاہے۔ اس اجلاس میں اکثرامیدواروں کے ناموں کو قطعیت دےئے جانے کا امکان ہے۔ حالانکہ پارٹی کے سینئر لیڈروں نے ایک فہرست مرکزی قیادت کو روانہ کردی ہے۔ ایک طرف بی جے پی امیدوار کون کون ہوں گے یہ تصویر آچکی ہے ۔ ہمیشہ کی طرح کانگریس اس مرتبہ بھی امیدواروں کے انتخاب میں تاخیر کررہی ہے۔جس کی وجہ سے امیدواروں کو متعلقہ حلقوں میں مہم شروع کرنے میں بھی تاخیرہوجاتی ہے۔ اس پر دونوں پارٹیوں کے درمیان رسہ کشی اب بھی جاری ہے۔ کانگریس قائدین کا کہنا ہے کہ میسور اور چکبالاپورجے ڈی ایس کے لئے چھوڑنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ راہل سے ملاقات: اطلاع ملی ہے کہ کرناٹک میں جے ڈی ایس اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم سے متعلق بات کرنے جے ڈی ایس کے قومی جنرل سکریٹری دانش علی نے کانگریس صدر راہل گاندھی سے آج کوچی میں ملاقات کرکے اپنی پارٹی کے لئے8سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

منی اپا کی امیدواری کی سخت مخالفت:۔کولار لوک سبھا حلقہ کے موجودہ رکن پارلیمان کے ایچ منی اپا کی امیدواری پر خود کانگریس پارٹی کے مقامی قائدین کی جانب سے سخت مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ ہر انتخابات میں مقامی قائدین کی مخالفت کے باوجود انتخابات کا سامنا کرتے ہوئے منی اپا جیت درج کرتے آئے ہیں۔ مسلسل سات مرتبہ کولار لوک سبھا حلقہ میں جیتنے والے منی اپا کو اس مرتبہ سخت مخالفت جھیلنی پڑرہی ہے۔ سوشیل میڈیا میں منی اپا کے خلاف مہم شروع کردی گئی ہے۔مقامی لوگوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سات مرتبہ کولار لوک سبھا حلقے کی نمائندگی کرنے کے باوجود منی اپا نے کولار ضلع میں کوئی ترقیاتی کام انجام نہیں دیا۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورنارتھ حلقہ سے کانگریس ٹکٹ دی جائے ورنہ بنگلور سنٹرل سے آزاد امیدوار بن جاؤں گا: ایچ ٹی سانگلیانہ

نگلورنارتھ لوک سبھا حلقہ سے مجھے کانگریس کی ٹکٹ دی جائے۔ پارٹی ہائی کمان اگر شام تک فیصلہ نہیں کرے گا تو آزاد امیدوار کے طورپر انتخابی میدان میں اتر جاؤں گا۔ یہ باتیں سابق رکن پارلیمان ایچ ٹی سانگلیانہ نے کانگریس قائدین کو انتباہ دیتے ہوئے کہیں۔

جے ڈی ایس نے بنگلورنارتھ کانگریس کے لئے چھوڑدیا بی یل شنکر کو میدان میں اتارے جانے کا امکان

کرناٹک میں لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلہ کے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے لئے صرف ایک دن باقی ہے۔ کانگریس نے آج کہاہے کہ مخلوط پارٹنر جے ڈی ایس نے بنگلور نارتھ حلقہ کی سیٹ کانگریس کے لئے چھوڑ دی ہے۔

سابق ماہی گیر وزیر پرمود مادھوراج نےملپے سے سات ماہی گیروں کے ساتھ بوٹ کی گم شدگی کے لئے نیوی کو قرار دیا ذمہ دار

اڈپی اورچکمگلورو سیٹ سے جنتادل اور کانگریس کے مشترکہ امیدوار اور سابق وزیر ماہی گیری پرمود مادھو راج نےسات ماہی گیروں کے ساتھ سوورنا تریبھوجا نامی کشتی کی گم شدگی کے لئے بحری فوج کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔

انتخابات کیلئے سرمایہ اکٹھا کرنے اولاٹیکسی پرپابندی عائد کی گئی تھی۔ گوڑا

مرکزی وزیر ڈی وی سداننداگوڑا نے الزام لگایا ہے کہ انتخابات کے لئے سرمایہ توقع کے مطابق جمع نہ ہونے کی وجہ سے کانگریس ۔ جنتادل (یس) مخلوط حکومت نے اولا ٹیکسی خدمات پر6؍ماہ کے لئے پابندی عائد کی تھی۔