کرناٹکا اسمبلی انتخابات: بھٹکل سمیت پورے ساحلی کرناٹکا میں بی جے پی کی زبردست جیت؛ 18 میں صرف تین میں کانگریس سیٹ بچانے میں کامیاب

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 15th May 2018, 3:01 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بھٹکل15/مئی (ایس او نیوز)  بھٹکل سمیت اُترکنڑا ، اُڈپی اور دکشن کنڑا میں  یعنی پورے ساحلی کرناٹکا میں کانگریس کو زبردست شکست ہوئی ہے صرف تین اسمبلی حلقوں میں ہی کانگریس اپنی سیٹیں بچانے میں کامیاب رہی ہے۔

مسلم اکثریتی علاقہ بھٹکل میں کانگریس کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ کانگریس اُمیدوار منکال وئیدیا نے یہاں کافی ترقیاتی کام کئے تھے اور سمجھا جارہا تھا کہ یہاں منکال کی جیت یقینی ہے، مگر ہندوتوا کے نام پر بی جےپی  یہاں  اکثریتی فرقہ کو لبھانے میں کامیاب رہی اور منکال کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔

بتایا گیا ہے کہ بھٹکل اسمبلی حلقہ میں بی جے پی کے سنیل نائک کو 83172 ووٹ ملے ، جبکہ کانگریسی اُمیدوار منکال وئیدیا صرف 77242 ووٹ ہی حاصل کرسکے، تعجب اس بات کا ہے کہ منکال کے حامی انتخابات کے بعد یہاں تک کہہ رہے تھے کہ منکال کو ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل ہوگا، مگر سمجھا جارہا ہے کہ یہاں صرف ہندوتوا فیکٹر کام آگیا اور ترقیاتی کاموں کو یہاں کے اکثریتی طبقہ نے پوری طرح نظر انداز کردیا۔ اس طرح منکال وئیدیا کو 5930 ووٹوں سے شکست ہوگئی۔

اُدھر کمٹہ میں بھی بی جے پی کے دینکر شٹی نے کانگریس کی شاردا موہن شٹی کو 30837 ووٹوں سے ہرانے میں کامیاب رہے۔ بی جے پی کو یہاں   56780 ووٹ حاصل ہوئے تھے، جبکہ موہن شٹی کو صرف  25943 ووٹ حاصل ہوئے۔ حالانکہ یہاں بی جے پی کے باغی اُمیدوار  سورج نائک سونی نے بھی بی جے پی کے ووٹوں کو خراب کرنے کی پوری کوشش کی تھی اور انہوں نے بھی 19869 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے، مگر  یہاں بھی ہندوتوا فیکٹر ہی کام آگیا اور کانگریس اُمیدوار اور سابق رکن اسمبلی شاردا شٹی کو آگے آنے کا موقع نہیں مل سکا۔

کاروار میں بھی کانگریس کو اپنی سیٹ گنوانی پڑی اور یہاں کے کانگریسی اُمیدوار ستیش سئیل تیسرے نمبر پر چلے گئے۔ یہاں بی  جے پی کی روپانی سنتوش نائک کو 59776 ووٹ، جے ڈی ایس کے آنند اسنوٹیکر کو 45967 ووٹ ،جبکہ کانگریس کے ستیش سئیل کو 44767 ووٹ ہی حاصل ہوسکے۔

سرسی کی اسمبلی سیٹ پر  پہلے بھی بی جے پی کے ویشویشور ہیگڈے کاگیری براجمان تھے، اس بار بھی انہوں نے ہی جیت درج کرلی۔ یہاں بی جے پی کو 66649 ووٹ، کانگریس کے بھیمنا نائک کو 49378 ووٹ اور جے ڈی ایس کے ششی بھوشن ہیگڈے کو 24790 ووٹ حاصل ہوئے۔

یلاپور میں کانگریس کے شیورام ہیبار اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب رہے، مگر اُنہیں صرف 1597 ووٹوں سے ہی جیت مل سکی۔  کانگریس کو یہاں  65983 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ بی جے پی کے اے وی شیون گوڈا پاٹل نے بھی زبردست مقابلہ کرتے ہوئے  64386 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ہلیال میں بھی کانگریس کے آر وی دیش پانڈے اپنی سیٹ  بحال رکھنے میں کامیاب رہے، انہیں اس بار 61577 ووٹ ملے، جبکہ ان کے مخالف بی جےپی اُمیدوار کو 56437 ووٹ حاصل ہوئے۔اس طرح کانگریس کو یہاں 5140 ووٹوں سے کامیابی ملی۔

پڑوسی ضلع اُڈپی:

اُدھر پڑوسی ضلع اُڈپی میں بھی کانگریس کا مکمل طور پر صفایا ہوگیا، یہاں کے وزیر پرمود مدھوراج بھی اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اُڈپی اسمبلی حلقہ میں بی جے پی کے  رگھوپتی بھٹ کو 84946 ووٹ حاصل ہوئے تو پرمود مودھوراج صرف 72902 ووٹ ہی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔اس طرح یہاں بی جے پی کو 12044ووٹوں سے کامیابی ملی۔

کاپو ، کنداپور، کارکلا اور بیندور میں بھی  بی جے پی نے جیت درج کی اور کانگریس کا یہاں مکمل طور پر صفایا ہوگیا۔

ایک اور ساحلی ضلع دکشن کنڑا میں بھی اس بار کانگریس  کو زبردست ہزیمت اُٹھانی پڑی ، جہاں صرف ایک مینگلور کے اُلال  اسمبلی حلقہ میں کانگریس اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب رہی۔ یہاں یو ٹی قادر نے  19,739 ووٹوں سے زبردست جیت درج کی اور بی جے پی کے سنتوش رائے بولیار کو ہرادیا۔ یو ٹی عبدالقادر کو جملہ   80813 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ بی جے صرف 61074 ووٹ ہی حاصل کرسکی۔

مینگلور (نارتھ) میں کانگریس کے محی الدین باوا کو بی جے پی کے بھرت شٹی نے ہرادیا تو مینگلور (سائوتھ) میں ویداویاس کامتھ نے کانگریس کے  جے آر لوبو کو شکست دی۔موڈ بیدری،  بیلتھنگڈی،  پتور اور سولیا اسمبلی حلقوں میں بھی کانگریس کو زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑ اور ان تمام حلقوں میں بی جے پی اُمیدواروں  نے جیت درج کی۔ حیرت کی یہ بات یہ رہی کہ بنٹوال میں سابق وزیر رماناتھ رائی کو بھی اس بار شکست ہوئی۔ انہیں بی جے پی کے راجیش نائک نے 16786 ووٹوں کے بھاری فرق کے ساتھ ہرادیا۔

اس وقت پورے ساحلی کرناٹکا میں بھگوا پارٹی کے کارکنان تقریبا تمام علاقوں میں جشن مناتے ہوئے دیکھے جارہے  ہیں، نوجوان بڑی تعداد میں بھگوا پارٹی کا جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لہراتے ہوئے مختلف علاقوں سے مودی مودی کے نعرے لگاتے ہوئے گھوم رہے ہیں۔ بھٹکل میں بھی بی جے پی کارکنان میں کافی جوش دیکھا جارہا ہے اور لوگ شمس الدین سرکل پر مودی مودی کی جے جے کار لگاتے ہوئے  بائکوں پر گھومتے دیکھے گئے  ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

دیہاتوں کے ندی نالوں پر بانس اور لکڑیوں سے بنے جھولتے ہوئے پُل عوام کے لیے خطرے کی گھنٹیاں؛ عوام اپنے مسائل کواپنے ہی وسائل کے مطابق حل کرنے اور خطرات بھری زندگی بسر کرنے پر مجبور

جدیدٹیکنالوجی کے ساتھ ہمارے ملک اورشہروں کی ترقی تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ جب ہم ملک کی ترقی کی بات کرتے ہیں توصرف شہروں کی ترقی سے کام نہیں چلے گا۔ بلکہ قصبوں اور دیہاتوں کی ترقی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔جب تک شہروں اوردیہاتوں کے مابین رابطہ بہتر نہیں ہوتا تب تک عوام کی زندگی میں ...

پانچ دنوں تک بیوی کی لاش کے ساتھ پڑا رہا معذور شوہر !

شہر کی کے ایچ بی کالونی میں ایک انتہائی دردناک اورقابل صد افسوس واقعہ پیش آیا ہے جس میں بیماری کی وجہ سے معذورشوہر پانچ دنوں تک اپنی بیوی کی سڑتی ہوئی لاش کے ساتھ پڑا رہا اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوئی۔ 

بھٹکل :میڈیکل اور ڈینٹل کورسس کی فیس میں تین گنااضافہ :اے سی کے توسط سے وزیربرائے طبی تعلیم کو میمورنڈم

سال 2018-2019کے میڈیکل اور ڈینٹل کورسس کے لئے فیس میں تین گنا اضافہ کئے جانے سے غریب طلباکو  میڈیکل میدان سے محروم کئے جانے کا حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے اے بی وی پی بھٹکل شاخ  کے ممبران نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کی معرفت ریاستی وزیر برائے میڈیکل تعلیم کو میمورنڈم سونپا۔

بھٹکل بس اسٹائنڈ کی بوسیدہ عمارت منہدم : کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں

بھٹکل کے لئے  ہائی ٹیک بس اسٹانڈ کی تعمیر جاری رہتے پیر کی دوپہر بھٹکل بس اسٹانڈ کی عمارت  منہدم ہوکر تاریخ کا حصہ بن گئی ۔ بارش کی وجہ سے عمارت کی دیواریں اور پتھر ایک ایک کرکے گرنے لگے  تھے پیر کی دوپہر عمارت پوری طرح منہدم ہوگئی ۔ پیشگی طورپر خستہ حال عمارت کی بوسیدگی دیکھتے ...

ساحل آن لائن کے مینجنگ ایڈیٹر کو صحافتی خدمات کے اعتراف میں ضلعی ایوارڈ : ایوارڈ یافتہ بھٹکل کے پہلے اور ضلع کے پہلے مسلم صحافی

ملک عزیز میں اپنی شناخت رکھنے والے ریاست کرناٹک ، بھٹکل کے  معروف آن لائن نیوز پورٹل ساحل آن لائن کے مینجنگ ایڈیٹر عنایت اللہ گوائی کو ضلعی سطح کے" جی ایس ہیگڈے اجّیبل ایوارڈ" سےاتوار 15 جولائی کو ضلع اُترکنڑا کے معروف سیاحتی مقامی گوکرن میں  اُترکنڑا  ورکنگ جرنلسٹ اسوسی ایشن ...

دیہاتوں کے ندی نالوں پر بانس اور لکڑیوں سے بنے جھولتے ہوئے پُل عوام کے لیے خطرے کی گھنٹیاں؛ عوام اپنے مسائل کواپنے ہی وسائل کے مطابق حل کرنے اور خطرات بھری زندگی بسر کرنے پر مجبور

جدیدٹیکنالوجی کے ساتھ ہمارے ملک اورشہروں کی ترقی تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ جب ہم ملک کی ترقی کی بات کرتے ہیں توصرف شہروں کی ترقی سے کام نہیں چلے گا۔ بلکہ قصبوں اور دیہاتوں کی ترقی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔جب تک شہروں اوردیہاتوں کے مابین رابطہ بہتر نہیں ہوتا تب تک عوام کی زندگی میں ...

یونیورسٹی وشویشوریا کالج آف انجینئرنگ پچھلے 20؍ سالوں سے50؍ فیصدعملہ کی قلت کا شکار

بنگلور یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یونیورسٹی وشویشوریا کالج آف انجینئرنگ (یو وی سی ای) بنگلور جو بنگلور یونیورسٹی کا واحد انجینئرنگ کالج ہے ، وہ پچھلے بیس سالوں سے پچاس فیصد عملہ کی قلت کا شکار رہا ہے،

بنگلورو میں بارش کی تباہ کاریوں کی روک تھام کے لئے اقدامات اراکین اسمبلی اور افسروں سے تبادلہ خیال۔پرمیشور بنگلورو اسمبلی حلقوں کا معائنہ کریں گے

بنگلورو میں بھاری بارش کے دوران پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے اور بروقت راحتی کاموں کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے بنگلور وکے تمام اراکین اسمبلی ،ارکان پارلیمان ، کارپوریٹرس، بی ڈی اے اور بی ایم آر ڈی اے کے افسروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

قبل از پارلیمانی انتخابات کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن مخمصہ کا شکار مرکزی حکومت سے مرعوب کمیشن ضمنی انتخابات کے اعلان سے بھی لاچار

ایک طرف مرکزی انتخابی کمیشن قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کرانے یا نہ کرانے کے مخمصہ میں پھنسا ہواہ ے تو دوسری طرف پارلیمانی حلقوں میں کئی نشستیں اراکین کے استعفیٰ دینے یا دیگر جوہات سے خالی پڑی ہیں ۔

صحافت سماج کا آئینہ ہے تو صحافی حقیقت نگار ہے؛ گوکرن میں منعقدہ ’یوم صحافت‘ میں معروف ادیب جینت کائیکنی کا تبصرہ

شمالی کینرا ضلع ورکنگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے گوکرن میں واقع برہمن پریشد سبھا بھون میں منعقدہ ’یوم صحافت‘ اور صحافیوں کو ایوارڈ تفویض کرنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے معروف کنڑا ادیب جینت کائیکنی نے کہا کہ ادب اورلٹریچر اگر ایک بہت ہی بڑا درخت ہے تو صحافت اس کی ایک گھنی ...