بی جے پی کی حامی پارٹی نے اتحاد توڑنے کی دی دھمکی، کہاجا سکتے ہیں ایس پی۔بی ایس پی کے ساتھ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th February 2019, 12:19 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،10 ؍فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات کی تاریخ جیسے جیسے قریب آ رہی ہیں، بی جے پی کی مشکلیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔اب اتر پردیش میں بی جے پی کی اتحادی پارٹی سہیلدیو ہندوستانی سماج پارٹی نے اتحاد توڑنے کی دھمکی دی ہے۔

سہیلدیو ہندوستانی سماج پارٹی کے جنرل سکریٹری ارون راج بھر نے کہا کہ اگر بی جے پی ہماری جانب سے اٹھائی گئے مطالبات سے اتفاق نہیں رکھتی ہے تو یقینی طور پر ہم ان سے رشتہ توڑ دیں گے۔اگر سماجی انصاف کمیٹی کی سفارشات کو 24 فروری تک نافذ نہیں کیا گیا تو ہمارا بی جے پی سے راستہ مختلف ہو جائے گا اور اس کے بعد ہم اتر پردیش کی تمام 80 لوک سبھا سیٹوں پر الیکشن لڑیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم ضرورت پڑنے پر بی جے پی مخالف اتحاد (ایس پی۔بی ایس پی) کے ساتھ بھی جا سکتے ہیں۔ان کے ساتھ کئی دور کے مذاکرات ہو چکے ہیں۔

راج بھر نے کہا کہ یہ آخری انتباہ ہے اور 24 فروری کے بعد بی جے پی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔سہیلدیو بھارتیہ سماج پارٹی کے علاوہ نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) نے بھی مرکز میں حکمران این ڈی اے سے الگ ہونے کی دھمکی دی۔این پی پی کے صدر اور میگھالیہ کے وزیر اعلی کونراڈ کے سنگما نے دھمکی دی ہے کہ اگر یہ بل راجیہ سبھا میں منظور ہوتا ہے تو ان کی پارٹی مرکز میں حکمران این ڈی اے سے الگ ہو جائے گی۔سنگما نے کہا کہ این پی پی کی یہاں ہفتہ کو ہوئی جنرل اسمبلی میں اس ارادے کی ایک قرارداد منظور کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ این پی پی میگھالیہ کے علاوہ اروناچل پردیش، منی پور اور ناگالینڈ کی حکومتوں کو حمایت دے رہی ہے۔جنرل اسمبلی میں ان چاروں شمال مشرقی ریاستوں کے پارٹی لیڈر موجود تھے۔سنگما نے کہا کہ پارٹی نے متفقہ طورپر ایک تجویز قبول کی ہے جس میں شہریت ترمیم بل 2016 کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو این پی پی این ڈی اے کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کردے گا۔
 

ایک نظر اس پر بھی

جھارکھنڈمیں پھرہجومی دہشت گردی 

وزیراعظم کہتے ہیں کہ ایک واقعے کے لیے ریاست کی تنقیدنہیں کی جاسکتی لیکن جھارکھنڈمیں متعددہجومی دہشت گردی ہوچکی ہے اوریہ سلسلہ جاری ہے۔