بہار: مانجھی کی پارٹی کو بڑا دھچکا، ریاستی صدر اور قومی ترجمان نے دیا استعفیٰ 

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 7th February 2019, 12:52 AM | ملکی خبریں |

پٹنہ:5 /فروری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) بہار کے سابق وزیر اعلی جتن رام مانجھی کی ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) کو بدھ کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ہم کے ریاستی صدر ورشن پٹیل اور قومی ترجمان دانش رضوان نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور ایک دوسرے کے خلاف تیکھے حملے کئے۔ رضوان کی طرف سے استعفیٰ دینے اور ان کے تئیں سوشل میڈیا پر اشتراک اور پٹیل پر پارٹی فنڈز کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگانے کے کچھ ہی دیر بعد ریاستی صدر نے بھی یہ اعلان کیا کہ وہ بھی پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔پٹیل نے کہا کہ وہ مانجھی کی طرف سے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے دھرنے پر تنقید کیے جانے سے مایوس ہیں؛ کیونکہ یہ مہا گٹھ بندھن کے رخ کے خلاف ہے۔ پٹیل نے یہ بھی کہا کہ وہ مانجھی کی طرف سے قومی ترجمان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہنے سے بھی مایوس ہیں جو این ڈی اے سے قربت بڑھا رہے ہیں۔رضوان نے پارٹی سے استعفیٰ دینے سے تین دن پہلے راہل گاندھی کی پٹنہ ریلی کو ناکام بتایا تھا جس میں مانجھی بھی شامل ہوئے تھے۔ رضوان نے اس کے ساتھ ہی ہم لیڈر مانجھی سے کانگریس کے ساتھ اتحاد پر نظر ثانی کرنے کی اپیل بھی کی تھی ۔مانجھی نے اپنی پارٹی میں ہوئے اس واقعات پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے رضوان اور ہم کے ایک اور ترجمان وجے یادو کے تبصرے سے اختلاف ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ میں پتہ لگا ؤں گا اور اگر میری پارٹی کے کارکنوں نے واقعی ایسا بیان دیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ انہیں تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔پٹیل نے اگرچہ رضوان کے الزامات کو مسترد کر دیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے (رضوان) اس خدشہ کے باعث استعفیٰ دیا کہ ان پر پارٹی کی طرف سے عتاب نازل ہوسکتا ہے ؛کیونکہ مانجھی نے اس بات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ انہوں نے بیان جاری کر یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ تین مارچ کو منعقد ہونے والی این ڈی اے کی اس ریلی میں این ڈے اے اتحادمیں شامل ہو سکتے ہیں جسے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے خطاب کئے جانے کی توقع ہے۔ رضوان نے اس کے جواب میں پٹیل کا مذاق اڑایا اور کہا کہ انہیں میرے این ڈی اے میں شامل ہونے کے فیصلے کے بارے میں خواب میں پتہ چلا ہو گا ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

سیلاب اور بارش سے کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر وغیرہ بے حال، اَب دہلی پر منڈلایا خطرہ

ہریانہ کے ہتھنی كنڈ بیراج سے گزشتہ 40 برسوں میں سب سے زیادہ آٹھ لاکھ سے زیادہ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑے جانے کے بعد دہلی اور ہریانہ میں دریاکے کنارے کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اگلے 24 گھنٹے انتہائی سنگین بتائے جا رہے ہیں۔